حکومت کے ترقیاتی منصوبے

حکومت کے ترقیاتی منصوبے
حکومت کے ترقیاتی منصوبے

  


یہ بات تو طے ہو گئی کہ مسلم لیگ(ن) حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پورا کرے گی اور کہیں بھی جانے والی نہیں۔ بدلتے ہوئے سیاسی موسم نے یہ بھی طے کر دیا کہ نواز شریف کو کسی سے بھی خطرہ نہیں۔ فوج اور تحریک انصاف کی جانب سے جو خطرات حکومت پر منڈلا رہے تھے، خطرے کے وہ بادل اب پوری طرح چھٹ چکے ہیں اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خطرے کی کوئی بھی گھنٹی فوج یا تحریک انصاف کی طرف سے بجنے والی نہیں۔ اگرچہ تحریک انصاف کے اسلام آباد میں دھرنے کے دوران ایسی صورت حال ضرور پیدا ہو گئی تھی کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا قائم رہنا صرف چند دِنوں یا گھنٹوں کی بات لگتی تھی، مگر وقت نے سب کچھ تبدیل کر دیا۔ دھرنا کیا ختم ہوا تحریک انصاف کے چیئرمین سمیت دیگر تحریکی رہنماؤں کے لہجے میں بھی ٹھہراؤ آ گیا اور سب کچھ یکسر بدل گیا۔ اگر پشاور آرمی پبلک سکول جیسا بڑا سانحہ پیش نہ آتا تو شاید حالات میں اس طرح کی تبدیلی نہ ہوتی، جس کا ذکر اوپر کر چکا ہوں۔

عمران خاں نے اپنے طویل دھرنے کے دوران اگرچہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر کئی بار نواز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر بھی سخت ترین تنقید کے گولے برسائے اور اُن پر ہر طرح کا کیچڑ اچھالنے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ تمام نجی ٹی وی چینلوں نے عمران خان کی کنٹینر پر گفتگو کو کیمروں کے ذریعے پوری قوم کو پورے مُلک میں نہایت تواتر کے ساتھ دکھایا، جس سے عجیب طرح کی ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی،حتیٰ کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے سپوک پرسن بھی اس موقع پر چپ سادھے رہے، جس سے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید حکومت کمزور پڑ گئی ہے، جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے الزامات پر نواز شریف اور ان کے رفقاء کی جانب سے مسلسل خاموش رہنے کے عمل کو اس بات سے تعبیر کیا گیا یا کیا جانے لگا کہ مُلک میں اگر کوئی سپر سیاسی قوت ہے تو وہ صرف تحریک انصاف ہی ہے۔ میڈیا نے عمران خان کو دھرنے کی وساطت سے اس قدر پذیرائی بخشی کہ ماضی میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ہر نیوز چینل نے عمران خان کے دھرنے اور اُن کی تقاریر کو اہتمام کے ساتھ دکھایا۔

میڈیا کی اس روش نے عمران خان کو وہ سیاسی قوت اور مقبولیت دی، جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اُنہیں جتنی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی وہ شاید اُسے کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی حاصل نہ کر پاتے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے بعد وہ ایسی شخصیت بن گئے، جو حقیقت میں لوگوں کا ایک بہت بڑا جمِ غفیر اپنے ساتھ لانے میں کامیاب ہو چکے تھے، جس میں بڑا رول میڈیا کوریج کا تھا۔ اِن ٹی وی کیمروں کا ہی کمال تھا کہ عمران خان ہر قسم کے مشکل حالات میں بھی دھرنے کے ساتھ اپنے کنٹینر پر موجود رہے اور وہ تاریخی کنٹینر جس سے عمران خان کا خطاب ہوتا تھا، پوری قوم کی توجہ کا مرکز بن گیا، جس دن دھرنا موخر کر کے کنٹینر ہٹایا جا رہا تھا، تحریک انصاف کے کارکن دھاڑیں مار مار کے رو رہے تھے۔ اس دھرنے کے ذریعے عمران خان اپنی سٹریٹ پاور شو کرنے میں کامیاب رہے۔نواز شریف دشمنی میں شیخ رشید، ڈاکٹر طاہر القادری اورچودھری برادران نے بھی کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ وہ نواز شریف کو رخصت کر کے ایک ایسا سیٹ اپ لے آئیں، جس میں اُن کا بھی کردار ہو، لیکن کبھی کبھی خواب پورے نہیں ہوتے، لہٰذا نواز شریف کی رخصتی کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوا اور ان حالات کے ٹلنے بعد یہ طے ہو گیا کہ نواز شریف کے اقتدار کو 2018ء تک کوئی خطرہ نہیں۔

نواز شریف حکومت کر رہے ہیں، جبکہ سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی اُن کی جماعت کی حکومت شہباز شریف کی زیر قیادت ایسے ایسے کارنامے سرانجام دے رہی ہے، جس کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ نواز شریف نے جہاں لاہور کراچی موٹر وے منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے، وہاں شہباز شریف کے ترقیاتی منصوبے بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ وہ پہلے ہی راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان میٹروبس سروس منصوبے کا آغاز کر چکے ہیں۔ ہوا کے زور سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا بھی چین کے تعاون سے آغاز کر دیا گیا ہے۔ فیصل آباد اور ملتان کے علاوہ جنوبی پنجاب میں بھی کئی ترقیاتی منصوبے زیر تکمیل ہیں، جن میں سڑکوں اور پلوں کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

بجلی کا بحران بدستور ملک میں موجود ہے، تاہم اس بحران کو حل کرنے کی مستقل کوششیں حکومت کی جانب سے جاری ہیں۔ حکومت کا یہ ہدف ہے کہ وہ 2018ء تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کر دے گی۔ حکومت قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر کئی ملکوں سے بھی کچھ تجارتی معاہدے کر رہی ہے، جس میں قطر سے ایل این جی سمیت دیگر کئی اور ملکوں سے بھی اجناس اور مقامی مصنوعات کی ایکسپورٹ کے معاہدے شامل ہیں، تاہم مہنگائی بھی نواز شریف حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ اگرچہ پٹرول اور ڈیزل کے ریٹ بہت کم ہو چکے ہیں، لیکن مہنگائی بدستور برقرار ہے۔ عوام سکون کے متمنی ہیں۔ دہشت گردی پر ضربِ عضب کے ذریعے کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے، لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لئے حکومت کی سنجیدگی،منصوبوں میں تیزی اور شفافیت درکار ہے۔ یہ سب کچھ کر لیا گیا تو ان تین سال کے بعد اگلے پانچ سال بھی مسلم لیگ(ن) کے ہوں گے۔

مزید : کالم