آزادکشمیر انتخابی معرکہ :بیرسٹر سلطان کی جیت

آزادکشمیر انتخابی معرکہ :بیرسٹر سلطان کی جیت
آزادکشمیر انتخابی معرکہ :بیرسٹر سلطان کی جیت

  


دوستو سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے، دوستو آپ جانتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے ضمنی انتخاب میں بیرسٹر سلطان کامیاب ہو گئے ، بیرسٹر سلطان محمود نے جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے میر پور انتخابات میں کامیابی حاصل کی ، بیرسٹر سلطان محمود انتہائی منجھے ہوئے اور جہاندیدہ سیاست دان ہیں ، وزیرعظم آزاد کشمیر بھی رہے ۔ بیر سٹر سلطان محمود کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا ، لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت سے اختلافات کے باعث سلطان محمو د چودھری نے پیپلز پارٹی کو خیر بادکہا اور اسکے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی ، عمران خان خود بیر سٹر سلطان کی انتخابی مہم میں جلسہ کرنے کشمیر پہنچ گئے، بیر سٹر سلطان کی عوامی مقبولت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

آزاد کشمیر کی سیاست میں پی ٹی آئی نے تاریخی کامیابی حاصل کی،آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی جیت پاکستان بھر کے سیاسی حلقوں کے لئے کشمیریوں کی طرف سے پیغام ہے جسے کوئی سمجھے نہ سمجھے کہا جا رہا ہے کہ بیر سٹر سلطان محمود آزادکشمیر میں پی ٹی آئی کی طاقت میں خوبصورت اضافہ ہے ،کہا جا رہا ہے کہ بیر سٹر سلطان کی ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے کامیابی کو آزاد کشمیر کی تاریخ میں بھی سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ آزاد کشمیر میں بیرسٹر سلطان کی تحریک انصاف میں شمولیت تحریک انصاف کے لئے گویا خوش قسمتی کا آغاز ثابت ہوئی،، آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی پہلی انتخابی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔

کشمیری عوام نے تو بیر سٹر سلطان محمودکے حق میں فیصلہ دیدیا۔ لیکن کراچی میں جہاں ضمنی انتخابات منعقد ہونے والا ہے ،وہاں ایم کیو ایم اور تحریک انصاف میں جو پہلے ہلکی ہلکی جھڑپیں جاری تھیں وہ خونی تصادم میں تبدیل ہوتے ہوتے رہ گئیں ، تحریک انصاف کے امیدوار انتخابی جلسے کے انتظامات کا جائزہ لینے جناح گراؤنڈ پہنچے تو وہاں موجود ایم کیو ایم کے کارکنوں نے پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف نعرے بازی کی ، اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی تھی ،دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے مقدمات کے لئے ،متعلقہ تھانوں میں درخواست دے دی ہے ، کہا جا رہا ہے کہ عزیز آباد ایم کیو ایم کا گڑھ ہے اور آج سے پہلے ایم کیو ایم کو اسکے اپنے علاقے میں کسی نے نہیں للکارا ، کہا جا رہا ہے کہ الیکشن کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑانے پر دونوں جماعتوں کے امیدواروں کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوا۔بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ لڑائی مار کٹائی شریفوں کاشیوہ نہیں ۔ ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ ملک بھر سے لڑائی مار کٹائی ، پرُ تشدد سیا ست کا خاتمہ ہونا چاہئے۔

اس قسم کے واقعات سے دنیا بھر میں بھی ہمارے ملک کی جگ ہنسائی ہوئی ۔ دیکھتے ہیں کہ کراچی کے ضمنی انتخابات میں کون سی جماعت انتخابی معرکہ جیت کر سہرا اپنے سر سجائے گی یہ بات بھی وقت ہی بتا سکتا ہے، دوستو اجازت چاہتے ہیں آپ سے فی الحال ملتے ہیں بریک کے بعد ، اللہ نگھبا ن رب راکھا ۔

مزید : کالم