فوجی عدالتوں کی مخالفت (2)

فوجی عدالتوں کی مخالفت (2)
فوجی عدالتوں کی مخالفت (2)

  


تاآنکہ پانچ سال بعد 2006ء میں سپریم کورٹ میں ایک کیس حمدان بنام رمز فیلڈ میں عدالت نے ضمناً یہ ابزرویشن دی کہ فوجی عدالتوں کو آئینی طور پر اختیار سماعت نہیں ہے ۔ تاہم بین الاقوامی آئینی ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ اس دوران پانچ سال میں امریکہ گوانتا ناموبے کی تشکیل اور اسے قائم رکھ کر دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف کاروائی کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔ اس ابزرویشن سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ فوجی عدالتیں بھی ایک عدالتی نظام ہے ۔ ملزموں کو صفائی کا پورا موقع دیا جاتا ہے ۔ اگر اس نظام میں مزید بہتری کی گنجائش ہے ۔تو وکلاء تنظیموں کو اسکی نشاندہی کرنا چاہیے۔ سول عدلیہ اور فوجی عدالتوں میں ایک فرق یہ ہے کہ فوجی عدالتیں دہشت گردوں سے خوف زدہ نہیں ہوں گی۔ اگر آج فوجی عدالتوں کے سوال پر ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے۔ تو یقین کیجئے 99فیصد لوگ فوجی عدالتوں کے حق میں دونوں ہاتھ کھڑے کر دیں گے۔ اس نظام کے خلاف ایک فیصد سے کم لوگوں میں چار کیٹگری کے لوگ شامل ہونگے ۔

1۔دہشت گرد درندے ، 2۔دہشت گردوں کے ہمدرد منافقین ، 3۔عادی جرائم پیشہ لوگ جنہیں ڈر ہے کہ ان کے خلاف سنگین مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں جا سکتے ہیں اور 4۔ وکلا حضرات ۔

سوال یہ ہے کہ آخر لوگ سول عدلیہ کی بجائے فوجی عدالتوں کو کیوں ترجیح دیتے ہیں ؟تو اس کا ایک مختصر جواب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے 24جنوری کو چکوال ڈسٹرکٹ بار کے نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے دیا ہے ۔ فرماتے ہیں ۔’’انصاف میں تاخیر کے حوالے سے جو انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور انصاف کے طلبگاروں میں جواضطراب پایا جاتا ہے ۔ وہ مبنی بر حقیقت ہے اور اس حوالے سے عدلیہ اور وکلاء برابر کے ذمہ دار ہیں‘‘۔ عدلیہ کا تقدس اور احترام بجا، مگر جہاں تک عوام کا تعلق ہے انکی تو عدالتوں کے نام سے جان جاتی ہے ۔ عدالتوں کا روایتی طریق کار اتنا طویل ۔ اتنا مہنگا ۔ اتنا ازکار رفتہ اور اتنا ذلالت آمیز ہے کہ عوام اس سے جان چھڑانے کے لئے کسی بھی معقول سپیڈی ۔ موثر اور سستے نظام کو خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں۔یقین کریں تمام سنگین فوجداری مقدمات کے مدعی اور مستغیث اپنے مقدما ت سول عدلیہ سے فوجداری عدالتوں میں منتقل کرانے کے لئے ترلے لے رہے ہیں۔ان سے پوچھیں کیوں ؟۔

مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے انصاف میں غیر معمولی تاخیر کے حوالے سے ایک کالم لکھا کہ فوجداری مقدما ت 10-10سال اور دیوانی 25-25سال لٹکے رہتے ہیں اور انصاف میں اتنی تاخیر بجائے خود نا انصافی بن جاتی ہے، جس دن کالم چھپا میں اتفاق سے مرحوم ایس ۔ ایم مسعود ایڈووکیٹ سپریم کورٹ (سابق وفاقی وزیر قانون )کے چیمبر میں گیا۔ کالم انکی نظر سے گزر چکا تھا۔ کہنے لگے کہ گھرال صاحب ! آپ نے فوجداری مقدمات 10-10سال اور دیوانی 25-25سال تک لٹکے رہنے کا لکھا ہے ۔ یہ جو ساتھ والے کمرے میں سفید بالوں ، چہرے پر جھریوں کے ساتھ قبر میں پاؤں لگائے مائی بیٹھی ہے ۔ یہ نابالغ لڑکی تھی کہ اس کا باپ فوت ہوا۔ مکان کے علاوہ والد کی واحد جائیداد بازار میں دوکان تھی۔ جو اس نے بیٹی کو ہبہ کر دی، مگر دکان پر والد کے بھائی نے ناجائز قبضہ کر لیا۔ یہ بے چاری اس وقت سے مقدمے بھگت رہی ہے۔ کئی دفعہ فیصلہ اس کے حق میں ہو گیا، مگر پھر اپیل ہو جاتی ہے ۔ یا کیس ریمانڈ ہو جاتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ ضابطہ دیوانی کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے کیس کو لمبا کرنا یا فیصلہ نہ ہونے دینا وکلاء حضرات کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ مجھے یقین ہے فیصلہ اس کی زندگی میں نہیں ہو گا ۔ وراثت میں مقدمہ بازی چھوڑ جائیگی ۔ تین تین نسلیں جونہی انتظار کر تی اور مرتی رہتی ہیں۔

سول عدلیہ میں مقدمہ بازی تو ایک لعنت ہے ۔ جسے ختم کرنے کے لئے کوئی بھی معقول میکنزم کیوں نہ اختیار کیا جائے آپ یقین کریں ۔نام نہاء قبضہ گروپوں کے وہ گروہ جو معاوضہ لیکر یا محض خداترسی سے غریب اور ستم رسیدہ لوگوں کو ناجائز قابضین سے بنوک پستول قبضہ چھڑا دیتے ہیں۔ عوام کے نزدیک ان مقدس اداروں سے زیادہ قابل احترام ہیں۔پھر یہ نظام اتنا مہنگا ہے کہ اس سے غریب عوام انصاف کی توقع کر ہی نہیں سکتے لاکھوں اور کروڑوں کی فیسوں کا سن کرعام آدمی تو ویسے ہی غش کھا کر گر پڑتا ہے۔ پھر واقف جج صاحبان سے حق میں فیصلہ کرانے کی امید یا یقین دلا کر لاکھوں کروڑوں الگ لئے جاتے ہیں۔ سردار لطیف کھوسہ نے ٹھیک ہی کہا تھاکہ مجھ پر محض 30لاکھ کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہئے۔ مجھ پر الزام لگانا ہی تھا۔ تو تیس کروڑ کا تو ہوتا ۔ 30-30لاکھ تو میرے بیٹے لیتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ وکیل کی خدمات تو کوئی بھی کرائے پر حاصل کر سکتا ہے ۔جس مجرم نے جتنی بڑی کرپشن اور فراڈ کیا ہو گا۔ اس کے لئے اربوں کے گھپلے کر کے کروڑوں فیس دینا مشکل نہیں ۔ یا جس مجرم نے کم سن بچی کو زیادتی کے بعد شہادت مٹانے کے لئے جان سے مار دیا ہے اور اسے خواب میں بھی پھانسی نظر آتی ہے ۔ خوشی سے لاکھوں کی بھاری فیس ادا کرے گا۔ یوں ہم اپنی خداداد صلاحیتوں اور محنت شاقہ سے ان کو تختہ دار سے بچا کر ثواب دارین لوٹتے ہیں۔ اور ملک میں انصاف کا بو ل بالا ہوتا ہے۔ 

اس مرحلہ پر مجھے ایک واقعہ یا د آرہا ہے ۔ جس میں میرے ایک وکیل دوست نے فیس میں بلینک چیک کی پیشکش ٹھکرا کر ملزموں کا کیس لینے سے معذرت کر دی تھی۔ گجرات کاہی واقعہ ہے ۔ دو ڈاکوؤں نے ایک ایسے گھر میں ڈاکہ ڈالا جو دور پار سے ان کے رشتہ دار تھے۔ گھر میں ایک خاتون اور اسکا چھوٹا بچہ تھے۔ ڈاکوؤں نے چہرے خوب ڈھانپ رکھے تھے، مگر ان کی حرکات و سکنات سے ان کی شناخت مشکل نہ تھی۔ ڈاکوؤں نے بھی محسوس کر لیاکہ خاتون خانہ اور اس کے بچے نے ان کو پہچان لیا ہے ۔ اب ڈاکوؤں کے لئے اپنے خلاف شہادت مٹانے کے لئے انہیں ٹھکانے لگانا ضروری ہو گیا۔چنانچہ بی بی کو فائر کر کے ٹھنڈا کر دیا۔ اس اثناء میں بچہ ڈر کر صندوق کے نیچے گھس گیا۔ جہاں سے اسے باہر نکالنا مشکل ہو گیا۔ لکڑی کی ٹھوکروں کی وجہ سے وہ چینختا ضرور مگر باہر نہیں آتا تھا۔ تاآنکہ تلاش کرنے پر سریے کے ایک ٹکڑے نے جس کا ایک سرا نوکدار تھا یہ کام آسان کر دیا۔۔۔(اس سے آگے تفصیل لکھنے کا حوصلہ نہیں ۔میری آنکھوں میں اندھیرا سا چھا گیا ہے )

کیا ان ڈاکوؤں کو اپنا کیس لڑنے کے لئے کوئی اور قابل وکیل دستیاب نہیں ہوا ہو گا۔ جس نے "بلینک چیک "پر کر کے ان کو بچانے کے لئے اپنی تما م تر مہارت اور صلاحیت صرف کی ہو گی۔ موقع پر چشم دید گواہ کے فقدان کا عذر موجود تھا۔ کیوں نہ ان کو پھانسی سے بچا کر اور با عزت بر ی کرا کے بار روم میں دوستوں سے داد وصول کی ہو گی۔ مَیں ایمانداری سے آج تک فیصلہ نہیں کر سکا۔ کہ ہم وکیل جو ملک میں انصاف پروری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ فی الواقعہ معاشرے میں عدل و انصاف کے فروغ کا باعث ہیں۔ یا ظالموں اور مجرموں کو بچانے کا رول ادا کر رہے ہیں۔

یہ نظا م بنیادی اور انقلابی تبدیلیوں کا متقافی ہے ۔ سردست میں تجویز کروں گا کہ جس طرح ملک میں بعض خداترس ڈاکٹر اور ماہر سرجن امیر مریضوں سے تو ٹھیک ٹھاک فیس لیتے ہیں۔ مگر بعض مسکین اور مفلوک الحال مریضوں کا علاج اور اپریشن مفت کر کے ثواب دارین حاصل کرتے ہیں۔ سینئر وکلاء کو بھی یہ کرنا چاہئے۔بہت سے محترم دوست یقیناًخاموشی سے ایسا کرتے ہیں۔ لیکن سینئر اور ٹاپ کے وکلاء کو اس کار خیر میں باقاعدہ حصہ لینا چاہئے۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس ملک میں 10فیصد اپر کلاس دولت میں کھیلتی اور عیش کرتی ہے جبکہ 20فیصد بیچارے محض سفید پوش اور 70فیصد دو قت کی روٹی کے محتاج ہیں ۔ وہاں یہ "نظام عدل " ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔آخر نامور قانون دانوں کی خدمات کونسا طبقہ افورڈ کر سکتا ہے ۔ نہ صرف دنیا کے دولت مند سائنس دانوں نے دولت کمانے والے بزنس ،شو بزنس سپورٹس کے شعبوں میں فلاحی ادارے قائم کئے ہیں، مگر ہمارے ایک ایک کیس میں 30-30کروڑ کمانے کا دعویٰ کرنے والوں میں کبھی کسی فلاحی ادارے کی خبر نہیں آئی ۔ اتنی دولت کو کیا کریں گے۔ ممتاز قانون دان میاں محمود علی قصوری مظلوم سیاسی ورکرز کے کیس مفت لڑتے تھے۔ ہمیں مظبوط اور موثر فری لیگل ایڈمراکز قائم کرنا چاہئے اور ملک میں سلیکشن گریڈ کے مہاں ظالم مجرموں کے خلاف استغاثہ کی طرف سے کیس لڑ کر انکو سزا دلوانی چاہئے اور مفلوک الحال غریبوں جن کے خلاف جھوٹے کیس ہوں۔ ان کو ظلم سے بچانا چاہیے جہاں تک فوجی عدالتوں کا تعلق ہے ۔ فی الواقعہ شدت پسند ی سے نمٹنے کے لئے فوجی عدالتوں کے سوا کوئی آپشن نہ تھا۔فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد مقدمات کو جلد از جلد فیصلہ کرانا ہے ۔ اور میں وکلاء بھائیوں سے گزارش کروں گا۔ کہ ہمیں ان کی مخالفت نہیں کرنا چاہئے۔

مزید : کالم