نیکوکارہ کا ’’ضمیر‘‘

نیکوکارہ کا ’’ضمیر‘‘

مشرف دور میں 2002ء کے دھاندلی سے بھرپور الیکشن کے باوجود مسلم لیگ(ق) کو اسمبلی میں اکثریت نہ مل سکی۔ اپوزیشن کے ارکان کو توڑنے کے لئے ’’گاجراور چھڑی‘‘ کا بیک وقت استعمال کیا گیا۔ پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے وفاداریاں بدلنے والے ارکان نے یہ کہہ کر حکومتی پارٹی کا رخ کرنا شروع کر دیا کہ وہ ایسا اپنے ضمیر کی آواز پر کر رہے ہیں، اس کھلی بے ضمیری کو دیکھ کر اسمبلی سیشن کے دوران مولانا فضل الرحمن نے فقرہ چست کیا کہ ہارس ٹریڈنگ کا یہ کھیل ارکان کی اپنے ضمیر کی نہیں بلکہ کسی جنرل ضمیر کی آواز پر کھیلا جارہا ہے۔ مولانا کا اشارہ واضح طور پر میجر جنرل احتشام ضمیر کی جانب تھا۔ ان کے بارے میں اس وقت یہ تاثر موجود تھا کہ وہ آئی ایس آئی کے ایک اعلیٰ آفیسر کی حیثیت سے وفاداریاں تبدیل کرانے کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ضمیر جگانے کا سلسلہ تو پاکستانی سیاسی تاریخ کا اہم باب ہے، مگر وفاقی دارالحکومت پر اگست 2014ء میں ہونے والی چڑھائی اور دھرنوں کے دوران یہ انوکھے انداز میں سامنے آیا۔

اس بار سیاسی قیادت پارلیمنٹ کی چھت تلے متحد تھی ،مگر وفاداریاں تبدیل کرنے والوں میں غالب اکثریت سرکاری اور خصوصاً پولیس افسران کی تھی۔ اسلام آباد پر اس قدر ہولناک دھاوا بولا گیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا بھر میں تماشا بن گیا۔ چین اور مالدیپ کے صدر سمیت کئی غیر ملکی عہدیدار طے شدہ دورے پر آنے سے رہ گئے۔ سیاسی غیر یقینی سے اربوں روپے کا مالی نقصان ہو اتو امن و امان کی صورت حال بھی ابتر ہو کر رہ گئی۔ سویلین اداروں کے باوردی اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانا معمول ہو چکا تھا۔ ایک موقع پر جب یہ تاثر پختہ ہو گیا کہ سکرپٹ رائٹر کے ایما پر ہونے والے اس دنگا فساد کے نتیجے میں حکومت کا خاتمہ یقینی ہے تو اسلام آباد کے آئی جی آفتاب چیمہ کا ضمیر اچانک بیدار ہو گیا۔ پولیس کا سپہ سالار تو اس لڑائی کے عین عروج پر دم دبا کر بھاگ نکلا، مگر بزدلی کو بہادری کا لبادہ اوڑھانے کے لئے سوشل میڈیا پر کمپین چلا دی گئی کہ موصوف کا ضمیر ہی نہیں ایمان بھی بیدار ہو گیا تھا۔ حالات کا جبر ملاحظہ فرمائیں کہ اس موقع پر وزیر داخلہ چودھری نثار کو ’’فیس سیونگ ‘‘ کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ میڈیا کے روبرو آ کر انہیں موقف اختیار کرنا پڑا کہ آفتاب چیمہ بھاگے نہیں، بلکہ چھٹی پر گئے ہیں،لیکن اب حالات بدلے ہیں تو چودھری نثار بھی حق پرستی پر تل گئے۔

اسلام آباد میں ایک حالیہ اجلاس کے دوران سینے میں دبائی تمام باتیں لبوں پر لے آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دھرنے میں جب ہم حالت جنگ میں تھے اسلام آباد کے آئی جی اور ایس ایس پی نے کام سے انکار کردیا تھا اور بعد میں یہ بات گھڑی گئی کہ انہیں فورس استعمال کرنے کے لئے کہا گیا تھا، جس پر انہوں نے انکار کردیاتھا۔ وزیرداخلہ نے چیلنج کیا کہ مذکورہ پولیس افسر قرآن پر حلف دیں کہ انہیں کس نے دھرنا شرکاء کے خلاف فورس استعمال کرنے کو کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ آئی جی اور ایس ایس پی ڈیوٹی سے فرار ہوگئے تھے ، پولیس کاکام صرف یونیفارم پہننا نہیں ، پولیس کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے کسی کے حکم کی ضرورت نہیں، اگر کوئی پی ایم ہاؤس ، سپریم کورٹ یا پارلیمنٹ پر حملہ آور ہو جائے توکیا پولیس والے حکم کاانتظار کریں گے ، پولیس ایک منظم فورس ہے، یہ کوئی یاجوج ماجوج فورس نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی اور ایس ایس پی کو میں نہیں جانتا تھا، اس کے باوجود انہیں عہدوں پر لگایا، دونوں کے خلاف کیس اس لئے بنایا گیا، کیونکہ وہ حالت جنگ میں ڈیوٹی سے فرار ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کی سیکیورٹی پر ایک ارب روپے خرچ ہوئے ، دھرنا نہ ہوتا تو یہ رقم ہم اسلام آباد پولیس کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتے ۔

’’شیر دل‘‘ آئی جی آفتاب چیمہ کے ساتھ جس ’’جواں مرد‘‘ ایس ایس پی کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ محمد علی نیکوکارہ ہیں۔ یہ صاحب اِن دنوں میڈیا میں موجود اپنے دوستوں کے ذریعے تادیبی کارروائی سے بچنے کی کوششیں کر رہے ہیں (یہ موضوع اپنی جگہ بہت دلچسپ اور اہم ہے کہ معاشرے کے دیگر طبقات کی طرح خود میڈیا کے بڑے بڑے نام بھی پولیس افسروں اور اہلکاروں سے تعلقات کو اپنے لئے اعزاز خیال کرتے ہیں)۔ اب اس افسر کو اپنے کیے کا جواب دینا ہے تو وہ مشکل میں آ گیا ہے۔ دھرنوں سے قبل جب اسلام آباد کو سیل کیا جا رہا تھا تو موصوف نے میڈیا پر آ کر بڑے طمطمراق سے کہا تھا کہ قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ شرپسندوں سے نمٹنے کے لئے کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائی جائے گی۔ یقیناًیہ اصولی اور قانونی بات تھی، لیکن جب انہیں یقین ہوا کہ حکومت گئی کہ گئی تو فوراً ہی ان کا ’’ضمیر‘‘ بھی جاگ گیا۔

عین اس وقت جب ریاست کے تقدس کی علامت عمارتوں اور وردی میں ملبوس پولیس والوں پر ہلہ بولا جا رہا تھا، وزیراعظم ہاؤس کی جانب یلغار جاری تھی، نیکوکارہ نے اپنے فرائض سرانجام دینے کے بجائے حکومت کو خط لکھنا شروع کر دیئے کہ مظاہرین کو روکنے کے لئے طاقت کا استعمال جمہوری نظام کے لئے نقصان دہ ہو گا۔ دھرنے والوں کا دعویٰ تھا کہ وہ ہر صورت وزیراعظم ہاؤس میں گھس کر وہاں موجود افراد کو گھسیٹتے ہوئے باہر لا کر بے قابو ہجوم کے حوالے کر دیں گے۔ اس کام میں انہیں سکرپٹ رائٹر کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔ حکومت کی جانب سے انہیں کہا گیا وہ قانون کے مطابق اپنے فرائض منصبی انجام دیں، لیکن خود ہی یہ کہہ کر پتلی گلی سے نکل گئے کہ مجھے پوسٹنگ ہی نہیں چاہئے۔ سکرپٹ رائٹر کا منصوبہ دھرا رہ گیا۔ مفرور آئی جی تو شاید ریٹائرمنٹ کے کنارے پر ہوں، ایس ایس پی کی سروس، لیکن ابھی کافی حد تک باقی تھی۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت نے اس حوالے سے باقاعدہ انکوائری کرا کے انہیں برطرف کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ انکوائری رپورٹ آئی جی بلوچستان محمد املش نے تیار کی ہے جو سچ مچ ایک دیانتدار اور آزاد منش پولیس افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ دھرنوں کے دوران پیٹھ دکھانے والے افسروں کو یہ گمان ہو کہ نئی حکومت ان کے سینوں پر بہادری کے میڈل لگائے گی، لیکن قسمت نے یاوری نہ کی اور پرانی حکومت سے ہی پالا پڑ گیا۔

حکومت نے اپنی رٹ منوانی ہے تو موقع پرست پولیس افسروں کے ساتھ ان عناصر کی بھی گوشمالی کرنی ہو گی جو عام لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر رہے ہیں۔ دھرنوں سے لے کر اب تک ہونے والے مختلف نوعیت کے مظاہروں کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آ چکی کہ ریاست کو جام کرنے کی کوششیں کرنے والوں کی پشت پناہی کرنے والوں میں بعض بیرونی ممالک بھی شامل ہیں۔ دھرنے دیکر راستے بند کرنے کی ناپسندیدہ روایت ہر گزرتے دن کے ساتھ تقویت پکڑتی جا رہی ہے۔ حکومت پر مصلحت نما بزدلی غالب رہی تو وہ دن دور نہیں کہ لوگ اپنے راستے بند کرنے والوں کو خود ہی اُٹھا کر ایک طرف کرنا شروع ہو جائیں گے۔ ایسا ہوا تو پھر تصادم روکنے کی گارنٹی کون دے گا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس گروہ کا جیسے دل چاہے احتجاج کرتا پھرے۔ اس حوالے سے بہت جلد جامع، واضح اور انتہائی سخت پالیسی سامنے لانا ہو گی۔ پنجابی محاورے کے مطابق شہری ناک ناک تک تنگ آ چکے۔ ذرا تصور کریں احتجاج کا جواب احتجاج سے دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو بات کہاں تک جا پہنچے گی۔

مزید : کالم