لارینس آف عریبیا سے ٹونی بلیئر آف ناٹو تک

لارینس آف عریبیا سے ٹونی بلیئر آف ناٹو تک

  

ایک انگریز جاسوس تھا، جس نے بیسویں صدی عیسوی کے نصف اول کے دوران میں اسلامی دُنیا کو اتنا بڑا نقصان پہنچایا، جو ہلاکو خان منگول کے ہاتھوں بغداد کی تباہی اور بربادی سے بھی زیادہ خطرناک اور ہولناک تھا، اس فریب کار گورے نے عربوں اور ترکوں کے درمیان دائمی اور زہریلی دشمنی کا ایسا بیج بویا، جس نے ترکی کی عثمانی خلافت کو مٹا کر عبرت بنا دیا، بلکہ اس عربی۔۔۔ ترکی عداوت کے زہریلے اور تلخ اثرات آج بھی دونوں قوموں کو ایک دوسرے سے بدگمان اور دور رکھے ہوئے ہیں۔

یہ ظالم جاسوس ایک انگریز فوجی تھا جو برطانوی فوج کے ریکارڈ میں تو کرنل لارینس تھا، مگر وہ ’’لارینس آف عریبیا‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور عرب بدو اسے ’’اورینس‘‘ پکارتے تھے، اس نے عربی زبان پر عبور حاصل کیا اور پھر عربوں میں گھس کر یوں گھل مل گیا کہ عرب قبائلی اس کی دلچسپ باتوں کے گرویدہ ہو گئے تھے، وہ جب کسی عرب قبیلے میں جاتا تو بچوں اور بوڑھوں کو قسم قسم کی مٹھائیوں سے خوش کرتا اور سردار قبیلہ کی جیبوں کو پیسوں سے بھر دیتا تھا،جاتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں ترکوں کے خلاف سردار کے کان بھرتا، عربوں پر ترکوں کے فرضی مظالم کے علاوہ ترکوں کی عیاشیوں، فحاشیوں کا ذکر بھی ہوتا تھا اور کہتا تھا کہ عربوں کے اپنے بادشاہ ہونے چاہئیں، تم بھی تو بادشاہ بن سکتے ہو؟

کرنل لارینس کا سب سے بڑا، بلکہ اصلی شکار تو مکہ مکرمہ کا ایک سید زادہ تھا، سید کو عرب لوگ ’’شریف‘‘ کہتے ہیں، مکہ کے اس سید یاشریف کا نام ’’حسین‘‘ تھا جو حسین شریف مکہ کہلاتا تھا، اس کے ایک بیٹے کا نام علی تھا، لارینس نے شریف مکہ کو ایک سہانے خواب کے طور پر بہت بڑا دانہ ڈال رکھا تھا، ترکوں سے آزادی حاصل کر کے شریف مکہ کو پوری عرب دُنیا کا شہنشاہ بنایا جا سکتا تھا! برطانیہ کی طرف سے اسے وعدہ دیا گیا اور کام شروع ہو گیا، عربوں کا اپنا شہنشاہ ہو گا!

یہ وہ زمانہ ہے جب عثمانی ترک تین براعظموں، ایشیا، افریقہ اور یورپ پر حکومت کرتے تھے۔ یورپ کے صلیبی حکمران ان پر حسد کرتے تھے،اس لئے عثمانیوں کے خلاف خفیہ اور کھلی سازشیں زور پکڑ گئیں، عرب قومیت اور عرب شہنشاہیت دو نعرے تھے، ترک فوجوں کو شکست پر شکست ہو رہی تھی اور حکومت کے فرضی مظالم اور خرابیوں کے چرچے بھی زوروں پر تھے حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آ گیا کہ چار صدیوں تک یورپی صلیبیوں کے خلاف اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرنے والے ترکوں پر نہ صرف عرب کی سرزمین، بلکہ حرمین کی زمین بھی تنگ ہو گئی ، مکہ مکرمہ کا ترک گورنر اور سپہ سالار تک قلعۂ اجیاد میں محصور ہو گئے، جو آج بھی بیت اللہ کے سامنے والی پہاڑی پر دکھائی دیتا ہے! حسین شریف مکہ نے انہیں پیغام بھیجا کہ حرم میں خون خرابہ کے بجائے آپ سرنڈر کر دیں، ترک صلح پر آمادہ ہو گئے اور بچوں اور عورتوں کے ہمراہ نیچے آ گئے اور ہتھیار بیت اللہ میں رکھ دیئے، شریف مکہ نے ’’بہادری‘‘ دکھائی اور بیت اللہ کے صحن میں سب کو گولیوں سے بھون دیا، یہ المناک خبر اسلامی دُنیا میں پھیل گئی، حضرت علامہ اقبالؒ نے بھی سنی اور تڑپ اُٹھے اور فرمایا:

اگر عثمانیوں پہ کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

مگر حسین شریف مکہ اپنی شہنشاہیت کے خواب ہی دیکھتا رہا، گورا انگریز ٹھینگا دکھا کر بھاگ گیا البتہ حسین کے ایک پوتے عبداللہ بن علی بن حسین کو مشرقی بیت المقدس اور دریائے اردن کی حکومت کی شکل میں لالی پاپ مل گیا، جہاں آج بھی اس کی نسل کبھی شاہ عبداللہ اور کبھی شاہ حسین کے نام سے حاکم بنی بیٹھی ہے، کرنل لارینس بھی گم ہو گیا، مگر مسلمانوں کی مرکزی قوت خلافتِ عثمانیہ قصۂ ماضی بن گئی اور ترک عرب دشمنی بھی اُمت مسلمہ کے جسم کا ناسور بن گئی۔

یہ تو ہے پرانی تاریخ کی بات اور تاریخ تو اپنے آپ کو دہراتی ہی رہتی ہے، چنانچہ آج کی تاریخ کا بھی ایک نیا لارینس آف عریبیا ہے، جو اپنا کام دکھا کر مشرقِ وسطیٰ کی تباہی کا سامان کرنے کے بعد واپس بھی بلا لیا گیا ہے! نئے جاسوس کا کام چونکہ اُلجھا ہوا، نہایت نازک اور مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ پُر خطر، پر پیچ اور وسیع و عمیق پہلو رکھتا تھا اس لئے اس کا رینک، مرتبہ اور معاوضہ بھی بہت اونچا، بلکہ بہت ہی اونچا اور بے حساب رکھا گیا! ایک تو اس کا تقرر کرنے والی اتھارٹی اکیسویں صدی عیسوی کا سب سے بڑا صلیبی اور امریکہ کا سابق صدر بن صدر جارج ڈبلیو بش تھا اور دوسرے عراقی صدر صدام کے خلاف سراسر جھوٹ پر مبنی صدر بش کی سامراجی جنگ میں ساتھ دینے والا یورپ کا واحد صلیبی سرا سر جھوٹ پر مبنی صدر بش کی سامراجی جنگ میں ساتھ دینے والا یورپ کا واحد صلیبی تھا جو بلا چوں و چرا بش کی لگائی ہوئی آگ میں کود پڑا تھا حتیٰ کہ سر ونسٹن چرچل کی قوم کے اصول پسند اور باغیرت دانشور اسے بش کا وفادار کتا کہنے سے بھی نہیں جھجکتے تھے! جی ہاں! آپ اسے بالکل بجا طور پر پہچان چکے ہیں! یہ واقعی برطانیہ کا سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر تھا جسے میں نیا لارینس آف عریبیا تسلیم کرتا ہوں! بس فرق یہ ہے کہ وہ بیسویں صدی عیسوی کے بجائے اکیسویں صدی کا صہیونیت زدہ صلیبی جاسوس تھا جو ترک، عرب دشمنی کی جگہ شیعہ، سنی تصادم کا فریضہ لے کر آیا تھا!

یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ حضرت علامہ اقبال نے تو کہا تھا کہ یورپ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے، مگر آج امریکہ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے، البتہ آج کے پنجہ یہود کو بھی عالمی صیہونیت کی پان لگ چکی ہے اور یہ پنجہ پہلے سے زیادہ بے حیا، شرمناک اور درد ناک رنگ اپنا چکا ہے۔

اِسی صہیونیت زدہ انکل سام امریکہ کا ایک اخبار نویس ہے جو صلیبی غذا پر پلا ہے، مگر عالمی صہیونیت کا زر خرید اور اسلامو فوبیا کا اندھا مریض بھی ہے، اس کا نام تو تھامس فریڈمین ہے، مگر لوگ اسے فراڈ مین ہی جانتے اور مانتے ہیں، مجھے بھی فریڈمین کے بجائے فراڈ مین ہی اچھا لگتا ہے، اس صہیونیت زدہ صلیبی اخبار نویس نے اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں سامراجیوں کو اپنے ایک کالم میں جو پروگرام دیا تھا، اس کی جان اور خلاصہ ایک جملہ تھا، جسے مَیں صہیونیت زدہ صلیبی دُنیا کے لئے تیربہدف نسخہ قرار دیتا ہوں، وہ جملہ یوں تھا: ’’The war within Islam at all cost‘‘ ،یعنی ہر قیمت پر اسلامی دُنیا کے اندر جنگ اور فساد برپا رکھا جائے!اِسی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ٹونی بلیئر کو اسلامی دُنیا پر آخری ضرب کاری لگانے کے لئے شیعہ سنی تصادم کے لئے بنیادیں فراہم کرنے اور مکرو فریب کے جال بچھانے کا کام سونپا گیا تھا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ’’عرب بہار‘‘ کی راکھ استعمال کرتے ہوئے ٹونی صاحب یہ کام انجام دے چکے ہیں، کیونکہ جارج ڈبلیو بش صاحب نے کہہ دیا ہے کہ ٹونی بلیئر ناٹو (نیٹو) کے مشیر کا کماحقہ فریضہ انجام نہیں دے سکے، اس لئے انہیں اس مشن پر کام سے ہٹا دیا جائے!

آپ کو یاد ہوگا کہ ٹونی بلیئر عربوں کے تیل میں سے برطانیہ کا حصہ پانے کے لئے بش کی عراقی جنگ کی آگ میں کودا تھا، انکل سام نے برطانیہ کو عربوں کے تیل میں سے کیا دیا؟ یہ تو ابھی معلوم نہیں، مگر بش نے ناٹو کے مشیر کی جو تنخواہ اور فوائد طے کئے تھے، وہ حساب سے باہر ہے۔ یہ پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں کہ ناٹو کے مشیر کو یا تو ہیڈکوارٹرز میں ہونا چاہئے تھا اور یا پھر جہاں جہاں ناٹو کے اڈے ہیں، وہاں پر ٹونی صاحب کو نظر آنا چاہئے تھا، مگر وہ عرب اور اسلامی دُنیا میں خفیہ چکر کیوں لگاتے رہے؟ وہ جہاں جاتے تھے وہاں دوسرے دن پھوٹ پڑ جاتی تھی! دراصل وہ خوفناک شیعہ، سنی تصادم کے لئے زمین تیار کرتے پھرتے اور آتے جاتے لارینس آف عریبیا کی طرح عرب اور مسلمان لیڈروں کے کانوں میں سرگوشی کے انداز میں زہر گھول جاتے رہے! دیکھئے جنگ احزاب کی طرح عالمی صہیونیت اور صلیبی استعمار کا یہ آخری معرکہ دُنیا کو کیا دے جاتا ہے؟

جنگ احزاب مشرکین مکہ اور یہود مدینہ کی مشترکہ سازش تھی جو بُری طرح ناکام ہوئی اور خدا نے اسلام کو فیصلہ کن فتح عطا فرمائی۔ بالکل ایسے ہی جیسے کمیونسٹ روس نے اسلامی دُنیا کو کچلنے کے لئے افغانستان میں قدم رکھا تھا، مگر افغانوں کے ہاتھوں بکھر کر رہ گیا،اسی طرح ٹونی بلیئر نے عالمی صہیونیت اور مغرب کے صلیبی سامراجیوں کے لئے مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جو جال بنے ہیں، وہ بھی تارِ عنکبوت ثابت ہونے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ اسلام کو فیصلہ کن غلبہ اور انسانیت کو مستقل نجات دلانے والے ہیں، رہے نام خدا کا!

مزید :

کالم -