ہسپتالوں کا گندا پانی گیسٹر و اور یرقان پھیلانے لگا

ہسپتالوں کا گندا پانی گیسٹر و اور یرقان پھیلانے لگا

 لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں کے پانی میں گیسٹرو اور یرقان کا باعث بننے والے وائرس اور بیکٹیریاکا انکشاف ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ہسپتالوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بنائی گئی پانی کی ٹینکیوں کی محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے سالہا سال سے صفائی نہیں کی دوسری طرف ہسپتالوں میں واٹر سپلائی کی لائنیں بوسیدہ ہو چکی ہیں جو زیر زمین بعض جگہوں سے لیک ہو چکی ہیں اور پرانی ہونے کے باعث ان میں سوراخ ہو چکے ہیں اور اس صورتحال کے باعث ایک ساتھ گزرنے والی سیوریج کے پانی کی لائینوں سے دونوں لائنوں کا پانی مکس ہو جاتا ہے جس کے باعث پانی کی ٹینکیوں میں فضلا کے ذرات کی بھی آمیزش سامنے آ چکی ہے اور ہسپتالوں میں زیر علاج مریض اور ان کے لواحقین کی بڑی تعداد پیٹ کے امراض لے کر واپس جاتی ہے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دنوں ان پانی کی ٹینکیوں سے حاصل کیے گئے پانی کے نمونہ جات میں فضلاء کی آمیزش سامنے آئی جس سے شہر کے ہسپتالوں کی انتظامیہ میں ہلچل پیدا ہوئی لیکن چند روز میں ہی یہ ہلچل روایتی بے حسی میں تبدیل ہو گئی ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ گیسٹرو اور یرقان یعنی ہیپا ٹائٹس اے کا باعث بننے والے وائرس اور بیکٹریا کی موجودگی بھی ہسپتالوں میں مریضوں کو فراہم کیے جانے والے پانی میں سامنے آ چکی ہے مگر ہسپتالوں کی انتظامیہ نے تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔بتایا گیا ہے کہ ہسپتالوں میں پانی کی فراہمی کے لیے ہر ہسپتال نے اپنے ٹیوب ویل لگا رکھے ہیں مگر ان ٹیوب ویلوں کے پانی میں کلورنیشن کا سلسلہ مدتوں سے بند ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کو ملنے والا پینے کا پانی مضر صحت ہے اس حوالے سے ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پانی کی ٹینکیوں کی صفائی کا ذمہ اور کلورنیشن محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا کام ہے مذکورہ محکمہ کو کئی مرتبہ مراسلے بھجوائے جا چکے ہیں جبکہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ہسپتالوں کا اپنا انٹرنل معاملہ ہے سی اینڈ ڈبلیو سسٹم ہسپتالوں کے حوالے کر چکا ہے ہر ہسپتال میں الگ سے ایکسین ،ایس ڈی او موجود ہیں وہ کس مرض کی دوا ہیں۔جبکہ مشیر صحت خواجہ سلیمان رفیق کا کہنا ہے کہ تمام ہسپتالوں میں پانی جمع کرنے والی ٹینکیوں کو ہنگامی بنیادوں پر صاف کرایا جائے گا ۔جبکہ بوسیدہ وائرنگ بھی تبدیل کرائی جائے گی اس سلسلے میں تمام ایم ایس کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ مون سون سے قبل معاملات درست کریں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1