29مسیحی افراد کو بازیاب کرا نے کیلئے درخواست پر ایس ایس پی رانا ایاز سلیم طلب

29مسیحی افراد کو بازیاب کرا نے کیلئے درخواست پر ایس ایس پی رانا ایاز سلیم طلب

 لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ یوحنا آباد میں ہنگاموں اور 2شہریوں کو زندہ جلانے کے مقدمہ میں ملوث 29مسیحی افراد کو بازیاب کرا نے کے لئے دائر درخواست پر جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی رانا ایاز سلیم کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا ہے۔مسٹر جسٹس عبدالسمیع خان نے مسیحی رہنما ایم اے جوزف فرانسز کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نشتر کالونی پولیس نے یوحنا آباد دھماکوں کے رد عمل میں ہنگاموں اور مظاہروں کے الزام میں نذیر، طارق، آصف، ریاض ، نامور، ارشد، اشفاق، سنی، صداقت اور فیصل سمیت 29 افراد کو 15مارچ سے حراست میں لے رکھا ہے تا ہم نشتر کالونی پولیس مذکورہ افراد کی حراست سے لا تعلقی کا اظہار کر رہی ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ نذیر سمیت لاپتہ انتیس افراد کا یوحنا آباد دھماکوں کے بعد ہونے والے ہنگاموں اور شہریوں کے قتل کوئی تعلق نہیں اور پولیس نے بلا وجہ مذکورہ افراد کو زیر حراست رکھا ہے ، مذکورہ ا فراد کو بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے، سانحہ یوحنا آباد کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ یوحنا آباد میں ملوث 29افرادکو گرفتا رکر کے جیل بھجوا دیا گیا ہے ،عدالت نے کیس کی ازسرنو سماعت کے بعد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن رانا ایاز سلیم کو حکم دیا کہ ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوں۔اس کیس کی مزید سماعت آج 2اپریل کوہوگی ۔

مزید : علاقائی