وہ کتا ب جو بل گیٹس نے تین ارب روپے میں خریدی،مگر کیوں؟وجہ جانئے

وہ کتا ب جو بل گیٹس نے تین ارب روپے میں خریدی،مگر کیوں؟وجہ جانئے
وہ کتا ب جو بل گیٹس نے تین ارب روپے میں خریدی،مگر کیوں؟وجہ جانئے

  


 نیویارک (نیوز ڈیسک) مغرب کی ترقی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ہم اکثر یہ نہیں سوچتے کہ آخر وہ کیا بات ہے کہ جس نے یورپ کے عہد تاریکی کو روشنی میں بدل دیا۔دراصل یہ اہل مغرب کی علم دوستی ہے جس کی ایک شاندار مثال جدید دور میں مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے ایک قدیم کتاب کروڑوں ڈالر میں خرید کر پیش کی ہے۔ مشہور زمانہ پینٹنگ ’’مونا لیزا‘‘ کے خالق اور یورپی نشاۃ ثانیہ کے نمایاں ترین تخلیق کاروں اور دانشوروں میں شمار ہونے والے لیونارڈو ڈاونچی کی کتاب "Da Vinci's Dodex Leicester" تقریباً پانچ صدیاں قبل 1510 میں شائع کی گئی تھی۔ اس کتاب میں لیونارڈو نے مظاہر فطرت کے بارے میں اپنے مشاہدات بیان کئے ہیں اور اسے سائنس اور فلسفے کی مبادیات میں انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔بل گیٹس نے یہ کتاب 11 نومبر 1994ء4 کو 3,08,02,500 امریکی ڈالر (تقریباً 3 ارب 8 کروڑ پاکستانی روپے) کی حیران کن قیمت میں خریدی۔ تاریخی اہمیت کی حامل یہ کتاب 1717ء4 میں تھامس کک، دی ارل آف لائسسٹر نے خریدی تھی اور یہ ان کے خاندان میں 263 سال تک رہی۔ 1980 میں اسے ارمنڈہیمر نامی ارب پتی شخص نے خرید لیا جبکہ 1994ء4 میں یہ بل گیٹس کے پاس پہنچ گئی۔ بل گیٹس کہتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ یہ کتاب حاصل کر پائے کیونکہ اس کے تاریخی اور علمی مقام و مرتبے کو دیکھا جائے تو یہ ایک انمول خزانہ ہے۔

مزید : علاقائی