2007 ء سے پرانے تمام مقدمات 4 جولائی تک نمٹا دئیے جائیں گے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

2007 ء سے پرانے تمام مقدمات 4 جولائی تک نمٹا دئیے جائیں گے،چیف جسٹس لاہور ...

 لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے کہا ہے کہ 2007ء سے پرانے تمام مقدمات 4جولائی تک نمٹا دیئے جائیں گے ۔عدلیہ نے سائلین کے مسائل و مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا عزم کیا ہے۔وہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ میں وکلاء سے گفتگوکررہے تھے ۔اس موقع پر عدالت عالیہ کے دیگر جج صاحبان بھی چیف جسٹس کے ہمراہ تھے۔ بار پہنچنے پر لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر پیر مسعود چشتی ، بار عہدیداران اور وکلاء نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ منظور احمد ملک اور جج صاحبان کا استقبال کیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے بار میں وکلاء سے گفتگو کرتے ہوئے مزیدکہا کہ مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ آج اپنے وکلاء بھائیوں کی دعوت پر بار میں آیا ہوں ،بار میرے لئے ماں کی طرح ہے جس کی گود میں آکر بچہ خود کو محفوظ سمجھتا ہے ،جہاں بچے کو پیار ملتا ہے ،میں محسوس کررہا ہوں جیسے اپنی ماں کی گود میں آگیا ہوں ۔انہوں نے بتایا کہ صبح صبح شیخوپورہ کی ضلعی عدالتوں کا دورہ بغیر کسی اطلاع اور بغیر کسی پروٹوکول کے کیاہے۔یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ عدالتی اوقات کار کی تبدیلی کے باوجود تمام ججز اپنی عدالتوں میں کام کررہے تھے یہ ایک بڑا اچھا سائن تھا جو قابل تعریف ہے۔ہم نے عزم کیا ہے کہ عدالتوں سے رجوع کرنیوالے سائلین کے مسائل و مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ہائیکورٹ میں زیر التواء 2007 سے قبل کے مقدمات کی لسٹ تیار کرلی گئی ہے اور ہم نے یہ طے کیا ہے ان پرانے مقدمات کو 4 جولائی سے قبل نمٹا دیا جائے گا۔4 جولائی کے بعد دوبارہ آپ لوگوں کے پاس آؤں گا اور آپ کے تعاون کا شکریہ ادا کروں گا۔میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مقدمات کا فیصلہ جلدبازی میں نہیں کیا جائے گا بلکہ تمام قانونی تقاضوں اورپہلوؤں کو مدنظر رکھ کر وکلاء کے تعاون سے جلد کیس نمٹائیں گے۔میں نے فیصلہ کیا ہے جمعہ کی صبح کو ڈی جی خان اور بہاولپورجاکر دونوں ڈویژنز کے ججوں اور وکلاء سے ملاقات کروں گا اور ان کے مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کرکے عمل اقدامات کروں گا۔اس کے اگلے دن ملتان اور ساہیوال ڈویژنز کا دورہ کروں گا۔اس کے بعد دیگر ڈویژنز کا دورہ کروں گا اور سب سے آخر میں لاہور ڈویژن کا دورہ کروں گا۔انہوں نے میڈیا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں پڑھے لکھے لوگ ہیں اور ہم ان کی مثبت تنقید سننے کے لئے تیار ہیں ،عدالتی نظام میں مزید بہتری لانے کے لئے اقدامات کررہے ہیں اس سلسلے میں میڈیا سمیت سب دوستوں کا تعاون درکار ہے۔ چیف جسٹس

مزید : صفحہ آخر