افغانستان میں پوست کی کاشت سے سب سے زیادہ فائدہ بلیک واٹر کو ملا ،امریکی رپورٹ میں انکشاف

افغانستان میں پوست کی کاشت سے سب سے زیادہ فائدہ بلیک واٹر کو ملا ،امریکی ...

 لندن (نیوز ڈیسک) بدنام زمانہ اورمشکوک ترین امریکی کمپنی بلیک واٹر کا نام خوفناک جرائم کے حوالے سے آپ نے ضرور سن رکھا ہوگا اور اب ایک دفعہ پھر اس کا نام عالمی خبروں کا موضوع بن گیا ہے۔ممتاز برطانوی اخبار ’’دی گارڈین‘‘ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پوست کی کاشت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور موت کے اس کاروبار سے سب سے زیادہ فائدہ بلیک واٹر نے اٹھایا ہے۔ امریکا نے افغانستان میں جارحیت کے بعد پوست کی کاشت کے خاتمے کا نام نہاد پروگرام شروع کیا لیکن اس کی افغان جنگ کی طرح پوست کے خلاف جنگ کی بہت بڑی ناکامی اور تباہی کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2011ء سے لے کر اب تک پوست کے لئے زیر کاشت رقبے میں 60فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ رقبہ 209,000 ہیکٹر بتایا گیا ہے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی ہیروئن اور مارفین کی مالیت ایک اندازے کے مطابق سالانہ تین ارب ڈالر (تقریباً تین کھرب پاکستانی روپے) ہے اور یہ افغان جی ڈی پی کا تقریباً 15 فیصد ہے۔اخبار کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے 2002ء4 میں افغانسان میں پوست کی کاشت کے خاتمے کی لاحاصل کوشش شروع کی اور اس کے لئے وقف کئے جانے والے 1.8 ارب ڈالر میں سے تقریباً نصف ارب ڈالر صرف بلیک واٹر کو ملے ہیں۔یہ خطیر رقم انسداد منشیات کا کام کرنے والے افغان نیشنل انٹرڈکشن یونٹ، وزارت داخلہ اور افغان بارڈر پولیس جیسے اداروں کوٹریننگ، سامان اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کی مد میں بلیک واٹر کو دی گئی۔بلیک واٹر بظاہر ایک سیکیورٹی کمپنی ہے لیکن مغربی میڈیا بھی اسے خطرناک ترین کرائے کے قاتلوں کی عالمی سطح کی تنظیم قرار دیتا ہے۔ اس کی بنیاد ایرک پرنس نامی شخص نے رکھی اور جب انہوں نے اسے 2010ء4 میں فروخت کیا تو اس کا نام بدل کر ’’Xe‘‘ رکھ دیا گیا۔ 2011ء4 میں اس کا نام ایک دفع پھر بدل کر "Academi" رکھ دیا گیا اور آج کل یہ Constellis Group نامی کمپنی کی ملکیت ہے۔ اگرچہ کمپنی یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ اس نے خود کو بلیک واٹر کی خونی تاریخ سے علیحدہ کرلیا ہے لیکن اس کے بارے میں آئے روز ہونے والے انکشافات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اب بھی دنیا بھر میں سیاہ ترین دھندوں اور کارروائیوں میں ملوث ہے۔

مزید : صفحہ اول