کاکروچ کے دماغ پر تحقیق کے ابتدائی نتائج نے طب کے میدان میں تہلکہ مچادیا

کاکروچ کے دماغ پر تحقیق کے ابتدائی نتائج نے طب کے میدان میں تہلکہ مچادیا
کاکروچ کے دماغ پر تحقیق کے ابتدائی نتائج نے طب کے میدان میں تہلکہ مچادیا

  


کراچی ، لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) کاکروچ کے مضبوط مدافعاتی نظام پر تحقیقات کے دوران انکشاف ہواہے کہ کاکروچ کے دماغ سے 9 اینٹی بیکٹریل مالیکیول پائے جاتے ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے ، ان اینٹی بیکٹریل مالیکیولز کی شناخت کے بعد کیمیائی تجزیہ ممکن ہوسکے گا اوراسی فارمولے کے مطابق قوت مدافعت کی دواءتیار کرکے مارکیٹ میں مہیاکی جاسکے گی ،یہ تحقیق کراچی کی آغاخان یونیورسٹی میں جاری ہے جبکہ اِس کی کامیابی سے طبی ماہرین نے بہت سی امیدین وابستہ کررکھی ہیں ۔

برٹس براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق کراچی کی آغا خان یونیورسٹی کے محقق اوربائیولوجیکل اینڈ بائیو میڈیکل سائنس کے شعبے پروفیسر نوید احمد خان نے بتایاکہ ذہن میں یہ خیال آیا کہ ہم اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان جراثیموں اور جانداروں کو تو قدرتی طور پر تحفظ مل رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی اتنی افزائش نسل ہو رہی، یقیناّ ان کے اندر کوئی مضبوط مدافعاتی نظام موجود ہے جو انہیں محفوظ رکھتا ہے۔

اُنہوں نے بتایاکہ بعض اوقات کئی ایسے مریض بھی آتے ہیں جن پر روایتی اینٹی بائیوٹکس اثر نہیں کرسکتیں اور اس تجربے نے تحقیق کے لیے مزید راہ ہموار کی اور انہیں یہ خیال آیا کہ موجود صورتحال میں مو ثر اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ان جانداروں پر کام کیا جائے جن کا مدافعاتی نظام فطری طور پر مضبوط ہے اور یہ پتہ لگایا جائے کہ ان میں کس نوعیت کے مالیکیول ہیں  چونکہ کاکروچ کا شمار کرہ ارض کے قدیم جانداروں میں ہوتا ہے جس کی افزائش نسل گندگی اور کچرے میں تیزی کے ساتھ ہوتی ہے جبکہ بعض محققین کا تو یہ بھی خیال ہے کہ ایٹمی حملے کے بعد بھی اگر کوئی جاندار بچ سکتا ہے تو وہ کاکروچ ہے اور اِسی وجہ سے کاکروچ کا انتخاب کیا۔

اُن کاکہناتھاکہ آغا خان یونیورسٹی کی لیبارٹری میں کاکروچ کے جسم کے تمام حصوں اور خون کو الگ کر کے ان کا مشاہدہ کیا گیا اور بالاخر ٹیم یہ راز معلوم کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ کاکروچ کا مدافعاتی نظام مضبوط کیوں ہے؟

ڈاکٹر نوید احمد خان کا کہنا ہے کہ کاکروچ کے دماغ سے انہیں 9 اینٹی بیکٹریل مالیکول ملے ہیں جن کی وہ اب شناخت کر رہے ہیں تا کہ مستقبل میں ان کا کیمیائی تجزیہ کرسکیں اور جب کیمیکل کی شناخت ہوجائےگی تو اس کو تیار کرکے مارکیٹ میں مہیا کیا جاسکے گا۔

امریکانا نسل کے کاکروچ کی افزائش آغا خان لیبارٹری کے صاف ستھرے ماحول میں کی جاتی ہے اور اسے 30 روز کے کاکروچ تجربے کے لیے موزون سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر نوید کے مطابق ہوسکتا ہے کہ غیر صحت مند ماحول میں پائے جانے والے کاکروچ میں اس سے زیادہ مدافعاتی مالیکولز ہوں۔

آغا خان کے شعبے پیتھالوجی اینڈ لیبارٹری میڈیسن کی پروفیسر زہرہ حسن کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کو متعارف کرانا انتہائی طویل اور مہنگا کام ہے، اس لیے اس پر تحقیق بھی محدود ہے،اگر اینٹی باییوٹکس کا کسی جراثیم کے خلاف غلط یا کم استعمال کریں یا کورس مکمل نہ کیا جائے تو جراثیم کو مزاحمت کا موقع ملتا ہے اور وہ طاقتور ہوجاتا ہے جس وجہ سے اینٹی بائیوٹکس اس پر اثر نہیں کرتے۔

 ڈاکٹر نوید احمد خان نے بتایاکہ مالیکیول کی شناخت اور کیمیکل کی تیاری کے بعد اس کو جانوروں اور بعد میں کسی رضاکار پر آزمایا جائے گا اور اس پورے مرحلے میں ابھی کم سے کم دس سال کا عرصہ درکار ہے۔

مزید : تعلیم و صحت