گورنر کا عہدہ خالی نہیں چھوڑا جاسکتا ،لاہور ہائی کورٹ نے مشاورتی ریکارڈ طلب کرلیا

گورنر کا عہدہ خالی نہیں چھوڑا جاسکتا ،لاہور ہائی کورٹ نے مشاورتی ریکارڈ طلب ...
گورنر کا عہدہ خالی نہیں چھوڑا جاسکتا ،لاہور ہائی کورٹ نے مشاورتی ریکارڈ طلب کرلیا

  


لاہور (نامہ نگار خصوصی) وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کی تعیناتی کے لئے عدالت میں کرائی گئی یقین دہانی پر عمل درآمد میں ناکام ہوکر لاہور ہائی کورٹ سے مزید 14روز کی مہلت طلب کرلی تاہم مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے حکومت کو5روز کی مہلت دیتے ہوئے قرار دیا کہ گورنر آئینی عہدہ ہے جسے غیرمعینہ مدت تک خالی نہیں رکھا جا سکتا ۔عدالت نے حکومت سے گورنر کی تعیناتی کے لئے اب تک ہونے والی مشاورت کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے ۔ فاضل جج نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پرسماعت شروع کی تو درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ سماعت پر وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ 60دن کی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل پنجاب کا مستقل گورنر تعینات کر دیا جائے گا تاہم ایسا نہیں ہوا اور 2 ماہ گزرنے کے باوجود سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال غیر آئینی طور پر قائم مقام گورنر کا م کر رہے ہیں جو آئین کے آرٹیکل 104 کی خلاف ورزی ہے، وفاقی حکومت مستقل گورنر پنجاب کی تعیناتی کے معاملے پر تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ قائم مقام گورنر کا تقرر صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب گورنر ملک میں موجود نہ ہو یا کسی دیگر سبب سے اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو، انہوں نے استدعا کی کہ رانا اقبال کی بطور قائم مقام گورنر پنجاب تعیناتی غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کی جائے، وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں عرفان اکرم نے عدالت کو بتایا کہ گورنر پنجاب کی تعیناتی کے معاملے پر وزیر اعظم تاحال مشاور ت کر رہے ہیں، اس لئے 2 ہفتوں کی مزید مہلت دی جائے ،عدالت نے یہ استدعا فوری طور پر منظور کرنے سے انکار کردیا اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر وفاقی حکومت سے ہدایات لے کر عدالت کو بتایا جائے کہ مستقل گورنر کا تقرر کب تک عمل میں آجائے گا ۔وفقے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل متعلقہ حکام سے عدم رابطہ کی بناءپر حکومتی موقف پیش نہیں کرسکے جس پر عدالت نے مقدمہ کی سماعت 7اپریل تک ملتوی کردی ۔فاضل جج نے قرار دیا کہ یہ اہم آئینی معاملہ ہے جس میں لمبی تاریخ نہیں دی جاسکتی ۔

مزید : لاہور