ہائی کورٹ نے حکومتی مشاورت سے بنائی گئی "ایپکا "کے عہدیداروں کو فیصلوں سے روک دیا

ہائی کورٹ نے حکومتی مشاورت سے بنائی گئی "ایپکا "کے عہدیداروں کو فیصلوں سے روک ...
ہائی کورٹ نے حکومتی مشاورت سے بنائی گئی

  


لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے اپیکا کے چار صوبائی اور ڈویژنل صدور کو عہدے سے ہٹانے اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد نہ کرنے پر حکومتی مشاورت سے بنائی گئی اپیکا عہدیداروں کی کمیٹی کو فیصلے کرنے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری، فنانس سیکرٹری ، سیکرٹری قانون اور سیکرٹری ریگولیشن سے 8 اپریل تک جواب طلب کر لیا۔ مسز جسٹس عائشہ اے ملک نے یہ عبوری حکم اپیکا کے جونیئرنائب صدر مراتب علی مغل سمیت تین عہدیداروں کی درخواست پر جاری کیا ، درخواست گزاروں کے وکیل نذیر احمد جاوید نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے گریڈ 17 کے افسروں ظفر علی خان اور حاجی ارشاد کو صوبائی جبکہ صفدر حسین اور یونس بھٹی کو ڈویژنل صدر نامزد کر دیا ہے، مذکورہ صدور کی نامزدگی الیکشن کے بغیر کی گئی ہے ، اپیکا قوانین کے مطابق گریڈ 5 سے 16 تک کے ملازمین اپیکا کے ممبر اور عہدیدار ہو سکتے ہیں تا ہم حکومت نے اپیکا پر اثر انداز ہونے اور ملازمین کے حقوق سلب کرنے کے لئے من پسند افراد کو صوبائی اور ڈویژنل صدور نامزد کیا ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ مذکورہ عہدیدار گریڈ 17 کے افسران ہونے کے باعث اپیکا کے ممبران اور عہدیدار نہ ہونے کے باوجود حکومت سے مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کر رہے ہیں، 27مارچ کوحکومت اورایپکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یاداشت کو کالعدم کیا جائے اورنومبر 2014میں طے پانے والے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کرنے کا حکم دیا جائے ، انہوں نے مزید استدعا کی کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک حکومتی مشاورت سے بنائے گئے چار صوبائی اور ڈویژنل صدور کو کام کرنے سے روکا جائے، سماعت کے بعد عدالت نے حکومتی مشاورت سے بنائی گئی اپیکا عہدیداروں کی کمیٹی کو فیصلے کرنے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری، فنانس سیکرٹری ، سیکرٹری قانون اور سیکرٹری ریگولیشن سے 8اپریل تک جواب طلب کر لیا ۔

مزید : لاہور