پاکستان صرف ججوں، جرنیلوں، بیوروکریٹس اور وکیلوں کا نہیں ،لاہور ہائی کورٹ کے ریمارکس

پاکستان صرف ججوں، جرنیلوں، بیوروکریٹس اور وکیلوں کا نہیں ،لاہور ہائی کورٹ ...
پاکستان صرف ججوں، جرنیلوں، بیوروکریٹس اور وکیلوں کا نہیں ،لاہور ہائی کورٹ کے ریمارکس

  


لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے عدم پیشی پر تحصیلدار کینٹ کو معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ ڈی ایچ اے غریب عوام سے کوڑیوں کے بھاﺅ زبردستی زمین خریدتی ہے اور پھر کروڑوں روپے میں پلاٹ فروخت کرتی دیتی ہے، پاکستان صرف ججوں، جرنیلوں، بیوروکریٹس اور وکلاءکا نہیں بلکہ عوام کا بھی ہے۔مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان نے یہ ریمارکس ڈی ایچ اے کے رہائشی ملک محمد اسلم کی درخواست کی سماعت کے دوران دیئے ،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ڈی ایچ اے اس کی8 کنال اراضی ایکوائر کرنا چا رہی ہے مگر اس کی مناسب قیمت نہیں دے رہی ، اراضی دینے سے انکار پر ڈی ایچ انے اس کی اراضی کے ارگرد باڑھ لگا دی ہے جس سے آمدورفت کے لئے راستہ مکمل طور پر بند ہو گیا اور اراضی کے کچھ حصے پر قبضہ کر لیا گیا ہے ،انہوں نے استدعا کہ ڈی ایچ اے کو درخواست گزار کی اراضی سے قبضہ ختم کرنے اور باڑ ہٹانے کا حکم دیا جائے، عدالتی حکم کے باوجود تحصیلدار کینٹ رانا امجد عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے تحصیلدار کو آئندہ سماعت تک معطل کرتے ہوئے قرار دیا کہ ڈی ایچ اے غریب عوام سے کوڑیوں کے بھاﺅ زبردستی زمین خریدتی ہے اور پھر کروڑوں روپے میں پلاٹ فروخت کرتی دیتی ہے، پاکستان صرف ججوں، جرنیلوں، بیوروکریٹس اور وکلاءکا نہیں بلکہ عوام کا بھی ہے کیونکہ عوام اس ملک کے اصل مالک ہیں، فاضل جج نے مزید قرار دیا کہ عدلیہ کسی ادارے کو عوام کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی، عدالت نے ڈی ایچ اے کو حکم دیا کہ شہری کی اراضی سے قبضہ ختم کیا جائے اور باڑھ بھی فوری ہٹائی جائے ، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے ڈی ایچ اے کو بھی ہدایت کی ہے کہ شہری کی اراضی ایکوائر کرنے کا تنازع بھی قانون کے مطابق حل کیا جائے۔

مزید : لاہور