’میں واپس تو آگیا ہوں لیکن۔۔۔‘ شام جاکر داعش میں شامل ہوجانے والا یورپی شہری اپنے وطن واپس پہنچ گیا لیکن واپس آتے ہی ایسا اعلان کردیا کہ گوروں کے پیروں تلے زمین نکال دی کیونکہ۔۔۔

’میں واپس تو آگیا ہوں لیکن۔۔۔‘ شام جاکر داعش میں شامل ہوجانے والا یورپی ...
’میں واپس تو آگیا ہوں لیکن۔۔۔‘ شام جاکر داعش میں شامل ہوجانے والا یورپی شہری اپنے وطن واپس پہنچ گیا لیکن واپس آتے ہی ایسا اعلان کردیا کہ گوروں کے پیروں تلے زمین نکال دی کیونکہ۔۔۔

  


برسلز (مانیٹرنگ ڈیسک) بیلجیئم سے تعلق رکھنے والا مائیکل یونس ان خوش قسمت لوگوں میں سے ایک ہے جو شدت پسند تنظیم داعش میں شامل ہونے کے بعد زندہ سلامت واپس اپنے ملک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا، لیکن اس کی بدقسمتی دیکھئے کہ دہشتگردی کے جہنم سے بچ نکلنے کے بعد ایک بار پھر اس کا دل اسی دنیا میں واپسی کے لئے مچلنے لگا ہے۔

امریکی ٹی وی سی این این سے بات کرتے ہوئے مائیکل نے بتایا کہ اس کی پیدائش ایک غیر مسلم گھرانے میں ہوئی۔ اس کا بچپن بہت خراب گزرا اور وہ منشیات اور جرائم کی جانب مائل ہوگیا۔ جب اسے دین اسلام کی صورت میں خود کو سدھارنے کا موقع نظر آیاتو اس نے اسلام قبول کرلیا جس کے بعد اس کی زندگی میں بہت مثبت تبدیلی آئی۔ا گرچہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد وہ ایک مثبت طرز زندگی کی جانب مائل ہوگیا تھا لیکن بدقسمتی سے اس کا رابطہ بیلجیئم میں کام کرنے والے ایک شدت پسند گروپ سے ہوگیا، جو یورپی ممالک سے جنگجو بھرتی کرکے شام اور عراق میں بھیجتا تھا۔ مائیکل بھی ان کے دھوکے میں آگیا اور سمجھنے لگا کہ داعش نے اسلام کا جھنڈا بلند کیا ہے اور دنیامیں اسلامی خلافت قائم کرنے کے لئے سرگرم ہے۔وہ اسامہ بن لادن کو اپنا ہیرو قرار دینے لگا اور اس نے اپنے بیٹے کا نام بھی اسامہ رکھا۔

شادی پر آئے مہمان نے دلہن پر حملہ کردیا کیونکہ۔۔۔ وجہ ایسی کہ جان کر آپ کو سمجھ نہ آئے گی ہنسیں یا روئیں

شدت پسندوں کے پراپیگنڈہ سے متاثرہوکر وہ داعش کا حصہ بننے کے لئے شام جاپہنچا۔ قتل و غارت کے میدانوں میں ایک عرصہ گزار کر وہ بیلجیئم واپس آ گیا، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اسے شام کی یاد پھر ستانے لگی ہے اور اس کا جی چاہتا ہے کہ داعش کی ’خلافت‘ کے زیر سایہ زندگی گزارنے کے لئے و اپس چلا جائے۔

واضح رہے کہ یورپی ممالک میں یہ تاثر عام پایا جاتا ہے کہ داعش مسحور کن پراپیگنڈا کر کے نوجوانوں کو ورغلاتی ہے اور جب گمراہ ہونے والے نوجوان اس تنظیم کے مظالم کو قریب سے دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ مائیکل کے کیس نے یورپی سکیورٹی حکام کو سخت پریشان کر دیا ہے کیونکہ داعش کا حصہ رہنے کے باوجود وہ نہ صرف خود واپس جانا چا رہا ہے بلکہ دیگر نوجوانوں کے لئے بھی ترغیب کا سبب بن رہا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس