وزیر اعظم کو نیب قوانین کے حوالے سے کوئی پالیسی جاری کرنے کا اختیار نہیں : سپریم کورٹ

وزیر اعظم کو نیب قوانین کے حوالے سے کوئی پالیسی جاری کرنے کا اختیار نہیں : ...

اسلام آباد ( آن لائن ) سپریم کورٹ نے نیب میں خلاف ضابطہ تقرریوں اور بھرتیوں سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے ، گزشتہ روز سبکدوش ہونے والے جسٹس امیرہانی مسلم کی جانب سے 23صفحات پر مشتمل تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کیس سے پہلے نیب میں بھرتیوں سے متعلق سکروٹنی کے لئے کوئی کیس عدالت میں نہیں آیا،دوران سماعت نیب نے بھرتیوں ،ترقیوں میں کوتاہیوں اور خامیوں کو تسلیم کیااور ترقیوں اور تعیناتیوں سے متعلق کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا ،ملازمت حاصل کرنے کے بعد مطلوبہ تعلیم کے حصول کااصول قبول نہیں کیاجاسکتا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نیب کے قیام کامقصد کرپشن کاخاتمہ ہے ،بظاہرنیب معمولی نہیں بڑے جرائم کے لئے خلاف کارروائی کے لئے بنائی گئی ،دوسرے اداروں سے نیب میں آنے والے افسران کے پاس متعلقہ تعلیم ہونالازم ہے،وزیراعظم کو نیب قوانین کے حوالے سے کوئی پالیسی جاری کرنے کااختیار نہیں ہے ۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نیب کے چار ڈائریکٹر جنرلز میجر ریٹائرڈ برہان ، میجر ریٹائرڈ طارق محمود ،میجرشبیر اور عالیہ رشید موجودہ عہدوں کے اہل نہیں ہیں ،ڈی جی نیب آگاہی عالیہ رشید کی تقرری مقابلے اوراخباری اشتہار کے بغیر کی گئی،چیئرمین نیب تقرریوں ،ترقیوں کے قواعد میں نرمی کااختیار نہیں رکھتے ۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تعیناتیوں اور ترقیوں کا جائزہ لینے کے لئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے ، کمیٹی میں ڈی ایچ آر نیب ، اور ایف پی ایس سی کا ایک ممبرشامل ہو گا ، کمیٹی 198 افسران کی بھرتیوں اورترقیوں سے متعلق دوماہ میں فیصلہ کرے گی اور نیب کمیٹی رپورٹس پر عملدرآمد کرنے کا پابند ہو گا ۔عدالت نے چیئرمین نیب کو کمیٹی رپورٹ سے متعلق 15روز میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کاحکم دیتے ہوئے نیب میں خالی ہونے والی آسامیوں کو ایف پی ایس سی کے ذریعے تین ماہ میں پر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

نیب قوانین

مزید : صفحہ اول