بھارت کی ایک اور سازش پاکستان اذلان شاہ کپ سے باہر

بھارت کی ایک اور سازش پاکستان اذلان شاہ کپ سے باہر

پاکستان میں ہاکی کو ترقی دینے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے قومی کھیل کو ماضی طرح عروج پرلے جانا اب کسی کی ذمہ داری نہیں اس کھیل کے حوالے سے اب صرف عوام کو تسلیاں دی جارہی ہیں پاکستان میں ماضی میں جس طرح سے اس کھیل میں نام تھا اور پوری دنیا میں پاکستان کی ہاکی ٹیم کی دھوم تھی اب افسوس کی بات ہے کہ ایسا نہیں ہے اور اب جب سے نئی ہاکی فیڈریشن کی انتظامیہ نے انتظامات سنبھالے ہیں یہ کھیل مزید پستی کی طرف گامزن ہے جبکہ یہ امیدیں کی جارہی تھیں کہ نئی انتظامیہ کھیل کے ساتھ انصاف کرے گی او ر اس کھیل کو کھویا مقام دلوائے گی، مگر ماضی کی فیڈریشنوں کی طرح اس نئی فیڈریشن نے بھی صرف اور صرف اپنے مفاد کی پرواہ کی اور اس کھیل کو مسلسل نظر انداز کیا جس کی وجہ سے یہ کھیل آج اس دہانے پر پہنچ گیا ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم ایک سطحی ٹیم کی طرح ہوکر رہ گئی ہے جو طویل عرصہ سے بڑے ایونٹس میں بھی شرکت سے محروم ہے اور اسی طرح اس نے کافی عرصہ سے کوئی ایونٹ تو کیا کوئی اہم میچ بھی اپنے نا م نہیں کیا ہے اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ بہت دعوے کئے گئے اور نتیجہ صفر ہی برآمد ہوا۔ پاکستان میں ہاکی کی ترقی کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست سے بالاتر ہوکر کام کیا جائے اور اس حوالے سے اس کھیل سے وابستہ کھلاڑیوں کو منظر عام پر لایا جائے اور ان سے اس کھیل کی ترقی کے حوالے سے رائے لیکر اس کے لئے کام کیا جائے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک اس کھیل میں ترقی کاخواب پورا نہیں ہوسکتا اور صرف دعوے ہی کئے جائیں گے اور کھیل میں پاکستان مزید پیچھے رہ جائے گا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان ایک اور انٹرنیشنل ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت سے محروم ہو گیا اور اس کی وجہ عہدیداروں کا وہ خوب ہے کہ اگر ٹیم نے شرکت کی تو شکست کی صورت میں ساری ذمہ داری اس پر عائد ہوجائے گی اور افسو س کی بات ہے کہ پاکستان جونیئر ورلڈ کپ ، چیمپئنز ٹرافی کے بعد اب اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں بھی شرکت نہیں کرے گا اور اس سے قبل ہمیشہ پاکستان کی ہاکی ٹیم نے اس میگا اور اہم ایونٹ میں شرکت کی ہے اور کئی مرتبہ کامیابی کا سہرا بھی اپنے سر سجایا ہے، مگر بدقسمتی سے اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں بھی حصہ نہیں لے رہی۔ ایونٹ کے جاری کردہ شیڈول میں پاکستانی ٹیم کو شامل نہیں کیاگیا۔ میزبان ملائشیاء کے حکام نے جو چند سال قبل ہاکی ٹیم کے اس ایونٹ میں عدم شرکت پر نالاں تھے۔ انہوں نے اس بار پاکستان کو اس ایونٹ میں شامل ہی نہیں کیا ملائیشین ہاکی فیڈریشن کے حکام اس وقت پوری طرح بھارت کے قابو میں ہیں اور ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور ان کے اشارے پر پاکستان کو اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا ہے۔پاکستان ہاکی فیڈریشن ملائشیاء کو اس ایونٹ میں قومی ٹیم کی شرکت کے حوالے سے رضامند نہ کرسکی اور اس طرح پاکستان تاریخ میں پہلی مرتبہ اس ایونٹ سے باہر کردیاگیا جس سے پوری دنیا میں قومی ہاکی ٹیم اور فیڈریشن کی جگ ہنسائی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ایشین ہاکی فیڈریشن کو خط لکھا ہے اور اس میں درخواست کی گئی ہے کہ وہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔پی ایچ ایف نے موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان شروع سے اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کھیلتا آرہا ہے اور اس بنیاد پر اس کو اس ایونٹ میں شرکت کی اجازت دی جائے، جبکہ گزشتہ سال ہونے والے اذلان شاہ ٹورنامنٹ میں پاکستان سات ٹیموں نے شرکت کی تھی اور ان میں پاکستان کی پانچویں پوزیشن تھی جو بہت ناقص کار کردگی کا مظاہرہ کررہی تھی۔ شیڈول کے مطابق پاکستان کو باہر کرکے اس کی جگہ برطانوی ہاکی ٹیم کو شامل کر لیا گیا ہے چھ ممالک کی ٹیموں کے درمیان یہ ایونٹ کھیلا جائے گا ایونٹ27 اپریل سے ملائشیاء کے شہر ایپو میں کھیلا جائے گا، جبکہ ایونٹ کا فائنل6مئی کو ہو گا۔ایونٹ میں شرکت کرنے والی ٹیموں میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ، جاپان، بھارت اور میزبان ملائشیاء کی ٹیمیں شامل ہیں ۔ قومی ہاکی ٹیم کی اس ایونٹ میں شرکت کے حوالے سے فیڈریشن کی عدم دلچسپی بھی کئی سوالیہ نشان چھوڑ رہی ہے، جس میں ایک تو قومی ہاکی ٹیم کو ایونٹس میں شرکت سے روکنا بھی شامل ہے اور اس ڈر کی وجہ سے فیلڈریشن جانتی ہے کہ ہاکی ٹیم اس وقت مضبوط ٹیم نہیں ہے اور اس کی شکست پر اس پر انگلیاں اٹھیں گی تو اس نے ٹیم کو ہی ایونٹس میں شرکت سے منع کردیا۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے بھی خاموش معنی خیز ہے ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اور ایک وقت میں پاکستان کی ہاکی ٹیم پوری دنیا میں اپنی عمدہ پرفارمنس کی وجہ سے جانی جاتی تھی مگر افسو س کی بات ہے کہ اس وقت ہم سب سے پیچھے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ سیاست کا عمل دخل بھی ہے ہر ایک صرف اپنی کرسی بچانے کی فکر میں لگا ہوا ہے او ر کسی کو اس کھیل کی کیا حالت ہے اس کی فکر نہیں ہے۔ پاکستان کے سابق اولمپئنز جو اس کھیل کی ترقی کے لئے اور فیڈریشن کی کارکردگی پر شور مچاتے تھے اور اس کے لئے آواز اٹھاتے تھے اب عہدے ملنے کی وجہ سے وہ بھی خاموش ہوگئے ہیں اور اس کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کو ٹیم کی بہتری سے کوئی مطلب نہیں تھا،بلکہ ان کو تو صرف یہ فکر تھی کہ وہ بھی بہتی گنگا سے ہاتھ دھو لیںیہ بہت افسوسناک بات ہے اور اس وقت پاکستان ہاکی پر جو وقت ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس سے قبل شاید ہی پہلے کبھی قومی ہاکی ٹیم پراتنا برا وقت آیا ہو اور اس سے باہر نکلنا اب کسی بھی طرح سے آسان نہیں جب تک عہدے دار ملکی مفاد میں نہیں سوچتے اس وقت تک قومی ہاکی ٹیم اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ماضی کی طرح جس طرح اس کی شہرت پوری دُنیا میں تھی وہ واپس مل سکتی ہے،جبکہ دوسری جانب پاکستان کی ہاکی ٹیم سائیڈ میچز کھیلنے میں مصروف ہے اور حال ہی میں نیوزی لینڈ کے خلاف اس نے ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل کی جو ان حالات میں پاکستان ہاکی ٹیم کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی طرح سے ہاکی کھلاڑی صرف اپنے کھیل پر توجہ دیں اور جتنی بھی کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں سمیٹے تاکہ پاکستان کا ا س کھیل میں کچھ نام تو باقی رہ جائے۔دوسری طرف اچھی ٹیمیں ٹورنامنٹس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور جیت کے لئے پرعزم ہوتی ہیں، لیکن پاکستان ہاکی ٹیم شائد دُنیا کی اس وقت واحد ایسی ٹیم ہے جو صرف ہار کے خوف کی وجہ سے ایونٹس میں شرکت سے گریزاں ہے اور اس کی ساری ذمہ داری فیڈریشن پر عائد ہوتی ہے۔ پوری دُنیا میں ہاکی ٹیمیں اس وقت ترقی کی جانب گامزن ہیں اور پاکستان کی ہاکی ٹیم مسلسل تنزلی کا شکار ہے جو نہ صرف ٹیم کے لئے،بلکہ پوری قوم کے لئے شرمناک بات ہے اور جس طرح سے پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑی کھیل پیش کر رہے ہیں وہ بھی اتنا عمدہ نہیں ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ فیڈریشن کی جانب سے ان کو وہ سپورٹ نہیں مل رہی ہے، جس کی ان کو ضرورت ہے اور جب تک کھلاڑیوں کی ضروریات پوری نہیں ہوتی اس وقت تک یہ بات سچ ہے کہ کھلاڑی بھی عمدہ پرفارمنس دکھانے سے محروم رہجاتے ہیں اور امید ہے کہ اس حوالے سے اس کھیل سے پیار کرنے والے سابق کھلاڑی اپنا بھرپور کردا ر ادا کرتے ہوئے کھیل کی ترقی کے لئے اپنی آواز بلند کریں اور جب تک ہاکی ٹیم اس کھیل میں مقام اور نام نہیں حاصل کرلیتی اس وقت تک اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہے اسی طرح سے پاکستان ہاکی ٹیم سے جو قوم نے امیدیں وابستہ کی ہوئیں ہیں وہ پوری ہوسکیں گی اور اسی طرح پاکستان کا نام بھی اس کھیل میں روشن ہوگا، جبکہ دوسری جانب ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کی تیاریوں میں مصروف پاکستان ہاکی ٹیم کی کارکردگی کا پول کھل گیا، آسٹریلیا نے 4ٹیسٹ میچز کی سیریز پر مشتمل دوسرے میچ میں بھی گرین شرٹس کو زیر کر کے 2-0کی برتری حاصل کر لی۔ پہلے ٹیسٹ میچ میں کو کابوراز نے گرین شرٹس کو ایک کے مقابلے میں 6گول سے زیر کیا تھا۔ ٹیم مینجمنٹ نے کہا ہے کہ سیریزکے ابتدائی میچز میں پلیئرز کی بہت زیادہ مسنگ کی وجہ سے گول نہ کر سکے،دنیا کی نمبرون سائیڈ کے خلاف کھیلنے سے کھلاڑیوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا ہے جس کا فائدہ ٹیم کو مستقبل کے ایونٹس میں ہوگا۔

*****

مزید : ایڈیشن 1