پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضا فہ نقصان دہ ہے، معیشت دان، ٹرانسپورٹر

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضا فہ نقصان دہ ہے، معیشت دان، ٹرانسپورٹر

لاہور (اسد اقبال )وفاق کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو ممتاز معیشت دان اور ٹرانسپورٹروں نے قومی اقتصادیات کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے اور کہا کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ بار اضافہ عام شہریوں پر جہاں مہنگائی کے بم گرارہا ہے وہیں انڈسٹری پر منفی اثرات اور پیداوار میں کمی کا موجب بھی بن رہا ہے ۔دوسری جانب ٹرانسپورٹرز رہنماؤں نے عوامی ریلیف کے پیش نظر کرایوں میں اضافہ نہ کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر کم تر ین سطح پر پہنچ چکی ہیں جس کے پیش نظر دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم ہیں ۔جنوری میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2.25روپے اضافہ ، ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 2.26روپے اضافہ ، ماہ فروری میں پٹرول کی قیمت میں 1.71روپے اضافہ اور ڈیزل کی قیمت میں 1.58روپے اضافہ جبکہ مارچ میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 1روپیہ اضافے کے ساتھ 74روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 1روپے اضافہ کے بعد مجموعی طور پر فی لیٹر قیمت 83روپے تک پہنچ گئی ہے ۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر اوپن مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جبکہ شہریوں کی قوت خرید میں کمی کے باعث کاروباری سر گر میوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر معیشت ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ڈائر یکٹ اثرات معیشت پر اثر انداز ہو تے ہیں جس کا سارا بو جھ عام صارف کو برداشت کر نا پڑتا ہے ۔پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسو سی ایشن کے جنرل سیکرٹری نبیل محمو د طارق اور مرزا ارشداقبال نے پاکستان کو بتایا کہ ٹرانسپورٹر ملک میں جاری مہنگائی کی لہر اور عوامی ریلیف کے پیش نظر کرایوں میں اضافہ نہیں کر رہے تاہم حکومت کو بھی چائیے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بجائے انٹر نیشنل مارکیٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے مقامی سطح پر ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 5سے 7روپے کمی کرے ۔ گڈز ٹرانسپورٹ سیکٹر کے کاروبار پر منفی اثرات مر تب ہو رہے ہیں لہذا حکومت ایسا میکنزم بنائے جس سے عام شہریوں پر مہنگائی کا مزید بو جھ نہ پڑ سکے ۔

مزید : صفحہ آخر