معیشت میں استحکام کیلئے حکومت اپنی پالیسیوں پر عمل کرے : شیخ منظر عام

معیشت میں استحکام کیلئے حکومت اپنی پالیسیوں پر عمل کرے : شیخ منظر عام

کراچی (اسٹاف رپورٹر) معروف صنعت کار شیخ منظر عالم نے کہا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام لانے کیلئے حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا پڑے گا ۔ فنڈز ضرور استعمال ہوتے ہیں لیکن ان کو درست جگہ استعمال نہیں کیا جارہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں ورلڈکالمسٹ کلب کے تیسرے ماہانہ اجلاس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کلب کے صدر ڈاکٹرمرتضیٰ مغل، سیکریٹری جنرل مبشر میر ، صلاح الدین حیدر ، افضل بیلا ، منظر نقوی ، لاہور سے آئے ہوئے محمد جاوید ، محمد عارف ،اکرم کمبوہ، محمد عارف ، جاوید محمود، حمیرا موٹالا ، زہرہ ، علی اسد اور ارشد ملک نے شرکت کی۔ شیخ منظر عالم نے کہاکہ ملکی بجٹ اب ایک ایسا بجٹ ہوگیا ہے کہ لوگوں کی زیادہ دلچسپی نہیں رہی کہ اس کو توجہ سے سنیں اور دیکھیں ۔ عام لوگوں کو رائے ہے کہ بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہوتا ہے ، تاجروں کی بھی کوئی زیادہ دلچسپی نہیں رہی ، جو سیمینار منعقد کیے گئے اس میں ایسے لوگوں کو مدعو کیا جائے جو اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھتے ہوں اور عوام کیلئے درد بھی رکھتے ہوں۔ ڈاکٹر مرتضی مغل نے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں قلم کاروں کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔ اس وقت عوام کو مسائل کا سامنا ہے، ان کے حل کیلئے حکام کی توجہ دلانا ہوگی اور سچ بات لکھنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس کلب کے ذریعے مستقبل میں بہت کچھ مثبت کام کرنے ہیں، ہم نے کچھ پروگرام تشکیل دیے ہیں اُن پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا، ہمارے آئندہ پرگراموں میں سیمینار منعقد کرائے جائیں گے ، جن میں عوامی مسائل کو اجاگر کیا جائے گا اور ایسی شخصیات کو ہم مہمان بلائیں گے اور انہیں خطاب کا موقع دیں گے ، تاکہ وہ مسائل کے حل کیلئے اپنی تجاویز پیش کرسکیں ، کالم نویس معاشرے میں برائیوں کے خاتمے کیلئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس سے معاشرے میں تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔ کلب کے سیکریٹری جنرل مبشر میر نے شرکاء کوبتایا کہ ملک کے مختلف مسائل جو کہ توجہ طلب ہیں، اُنہیں اجاگر کرنے کے لئے کالم نویس کلب اپنی خدمات کا دائرہ مزید بڑھائے گا ، کراچی سمیت پورے سندھ کے بے تحاشہ مسائل ہیں۔ کراچی میں پانی ، انرجی کااہم مسئلہ ہے ۔آئندہ آنے والے بجٹ کے حوالے سے کلب کے پلیٹ فارم سے سیمینار کا انعقاد کیا جائے گا جس میں معاشی ماہرین بجٹ کے حوالے سے تجاویز پیش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس تھنک ٹینک کے ذریعے سول سوسائٹی کو بھی ساتھ لے کر چل سکتے ہیں تاکہ ہماری آوازی اور سول سوسائٹی کی آواز حکومت کی توجہ دلاسکتے ہیں۔ کراچی میں پانی کا مسئلہ، آلودگی جیسے مسائل موجود ہیں ۔ لاہور سے آئے ہوئے مہمان محمد جاوید نے کہا کہ موجودہ حالات میں ورلڈ کالم نویس کلب کی انتہائی ضرورت ہے تاکہ لکھنے والوں کی توجہ ایسے مسائل کی طرف دلاسکیں جن کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ کہ کلب مستقبل میں ملکی ترقی کیلئے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں کراچی اور لاہور کے میئرز کو بھی اس پلیٹ فارم پر خطاب کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ تاکہ قوم کو ان کے خیالات سے آگاہی ہو۔ صلاح الدین حیدر نے کہا کہ کالم نویس معاشرے کی آنکھ ہوتے ہیں اور معاشرے پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے ، ان کا لکھا ہوا عوام اور حکومت پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ اس موقع پر شیر محمد کھاوڑ نے سندھ کے ایک بنیادی اور اہم مسئلے پانی پر توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہمیں آئندہ سیمینار میں پانی کے مسئلے پر گفتگو کرنی چاہیے ، کیونکہ سندھ میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ انتہائی سنگین صورت اختیار کرچکا ہے ، اور لوگ آلودہ پانی پینے پرمجبور ہو کر موذی بیماریوں میں مبتلاہورہے ہیں۔ جاوید محمود نے کہا کہ کراچی میں اس وقت لاہور کے مقابلے میں بہت کم ترقی ہورہی ہے ، لاہور اس وقت ترقی کی راہ پر گامزن ہے ، کراچی میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ہیں، سیوریج کا نظام ناکارہ ہوچکا ہے، ان مسائل کو بھی اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ محمد عارف نے کہا کہ ہمیں سوئی ہوئی حکومت کو جگانے کی ضرورت ہے، صوبائی ہو یا وفاقی ، کرپشن کے خاتمے کیلئے کلب کے ذریعے آواز اٹھائی جاسکتی ہے ، اور سیمینارز کے ذریعے لوگوں کو کرپشن کے خلاف اٹھانا ہوگا۔ افضال بیلا نے کہا کہ ہمیں عوام کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ورلڈ کالم نویس کلب اس سلسلے میں بہت کچھ کرسکتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء کو گلدستے پیش کیے گئے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر