وفاق مردم شماری کے عمل میں دھاندلی کی مرتکب ہو رہی ہے :میاں افتخار

وفاق مردم شماری کے عمل میں دھاندلی کی مرتکب ہو رہی ہے :میاں افتخار

پبی ( نما ئندہ پاکستان) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت مردم شماری کے عمل میں دھاندلی کر رہی ہے اور پختونوں کو ایک بار اس عمل سے باہر رکھنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پی کے10 سوڑیزئی میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر عالمگیر خان اور جہانگیر خان نے اپنے خاندان اور درجنوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ میاں افتخار حسین اور مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل نے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور اُنہیں مبارکباد دی۔ صوبائی سیکرٹری مالیات خوشدل خان ایڈوکیٹ اور جہانگیر خان نے اس موقع پر خطاب کیا۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ بیرون ملک کام کرنے والے پختونوں کو مردم شماری کے عمل سے باہر رکھنے کی سازش ہو رہی ہے۔ اور یہ صوبے کے عوام کیساتھ انتہائی زیادتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک میں بسنے والے پختون عوام ہی سب سے زیادہ غریب ہیں اور یہ مزدور طبقہ بیرون ملک کام کاج اور مزدوری کیلئے مقیم ہیں۔جبکہ اُن کے پاکستان میں مقیم خاندان کے افراد کو بھی مردم شماری کے عمل سے باہر کر دیا گیاہے جو کسی صورت نیک شگون نہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ مردم شماری کا عمل 15 اپریل تک جاری رہے گا لہٰذا حکومت بیرون ملک مقیم افراد کے خاندان کو مردم شماری میں شامل کرنے کیلئے خانے کا اندراج کرے۔اُنہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں مردم شماری کرنے والے افراد میں خواتین عملے کا نام و نشان تک نہیں جو ہماری پختون روایات کے خلاف ہیں اور اس سے گھر کے اندر معلومات کے حصول میں بھی دُشواری کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ رورل ایریاز میں خواتین عملہ برائے نام ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس عمل میں مخلص ہے تو ہماری تمام خدشات دور کرتے ہوئے بیرون ملک مقیم افراد کے اہل خانہ کو مردم شماری کے عمل میں شامل کرے اور تمام علاقوں میں خواتین عملے کو ٹیم میں شامل کرنے کو یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مردم شماری کی گنتی اسلام آبادمیں کرانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائیگی۔ صوبے میں اپنی ایڈمنسٹریشن موجود ہیں لہٰذا اس اہم ایشو پر آنکھیں بند کرنے کی بجائے گنتی صوبے کے اندر کرائی جائے تاکہ درست اعدادوشمار عوام کے سامنے آ سکیں۔ فاٹا اصلاحات کے بارے میں اُنہوں نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے سفارشات کی منظوری کے بعد مرکزی حکومت نے چپ سادھ لی ہے۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ عوام کو صرف لولی پوپ دیا گیا ہے جبکہ اصل کہانی کچھ اور ہے۔ اُنہوں نے کہا فاٹا کوصوبے میں جلد از جلد ضم کرکے اختیارات صوبے کے حوالے کیے جائیں اور اُنہیں صرف گورنر تک محدود رکھنا درست نہیں ہے۔ پاڑا چنار میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ بم دھماکے تسلسل کیساتھ جاری ہیں اور یہ دھماکے حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کی کمر توڑنے کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہے۔اُنہوں نے کہا کہ دہشت گرد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث منظم ہو رہے ہیں، اب بھی نیشنل ایکشن پلان پر ملک بھر میں عمل درآمد کیا جائے تو دہشت گردوں کو سر اٹھانے سے روکا جا سکتا ہے، انہوں نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی متاثرین کے غم میں برابر کی شریک ہیانہوں نے شہید ہونے والوں کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔سی پیک کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ مغربی اکنامک کاریڈور پر ہمارے خدشات اور تحفظات تاحال موجود ہیں تاہم حکومت نے اس معاملے پر سرد مہری اختیار کر رکھی ہے اور لگتا ہے کہ پختونوں کے حقوق سی پیک کے ملبے تلے دفن کر کے اکنامک کاریڈور بنایا جا رہا ہے جس کی ہم کسی صورت اجازت نہیں دینگے۔ اُنہوں نے کہا سی پیک پختونوں کی معاشی ترقی کیلئے گیم چینجر منصوبہ ہے لیکن پختونوں کو ہی اُس کے ثمرات سے محروم رکھنے کی سازش کی جا رہی ہے اُنہوں نے کہا کہ ہم ملک میں چین کی سرمایہ کاری اور ملکی ترقی کے خلاف نہیں ہیں تاہم اپنے حقوق پر سودے بازی کی کسی کو اجازت نہیں دینگے اُنہوں نے آخر میں کہا کہ آئے روز عوام کی بڑی تعداد اور اہم سیاسی شخصیات کی اے این پی میں شمولیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ 2018 کا سورج اے این پی کی کامیابی کی نوید لیکر طلوع ہو گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول