پرامن کارکنوں پرفائرنگ اور تشدد کی تحقیقات کرائی جائے ،لیاقت بلوچ

پرامن کارکنوں پرفائرنگ اور تشدد کی تحقیقات کرائی جائے ،لیاقت بلوچ

کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ نے مطالبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کی جانب سے کراچی کے شہریوں سے اوور بلنگ ،اوور چارجز اور بھتہ وصول کر نے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔کراچی کے صارفین پر اضافی معاشی بوجھ نہ ڈالا جائے ۔ کراچی کے عوام سے لوٹے گئے اربوں روپے واپس کیے جائیں ۔جمعہ کے روز ادارہ نور حق کے باہر اور شارع فیصل پر پولیس کی فائرنگ ،شیلنگ اور تشدد کی مکمل تحقیقات کرائی جائے ۔ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کر کے ان کو سزا دی جائے ۔پر امن عوامی احتجاج کو پرتشدد بنانے والوں کو بے نقاب کیا جائے ۔کراچی میں 7اپریل کو کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے باہر احتجاجی دھر نے کے ساتھ ساتھ تمام صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں بھی کے الیکٹرک کے خلاف کراچی کے شہریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے جائیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں ’’عوام سے اربوں روپے لوٹنے نیپرا ، کے الیکٹرک ،حکومتی گٹھ جوڑ اور اپر امن احتجاج پر پولیس کے جبرو تشدد ‘‘کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔پریس کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پرامیر جماعت اسلامی سندھ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی ، نائب امیرکراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، سکریٹری کراچی عبد الوہاب ، ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ، کے الیکٹرک کمپلنٹ سیل کے چیئرمین عمران شاہداور دیگر بھی موجود تھے ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہم کراچی کے عوام پر کے الیکٹرک کی زیادتیوں و ظلم اور پر امن کارکنوں پر پولیس تشدد کے خلاف سینٹ اور قومی اسمبلی میں بھی آواز اُٹھائیں گے ۔انہوں نے بتایا کہ پولیس فائرنگ اور شیلنگ کے واقع میں 7کارکنان زخمی ہوئے جن میں سے 2کی حالت بہت تشویش ناک ہے اور ہم ان کی عیادت کر کے آئے ہیں ایک کارکن کا گردہ متاثر ہوا ہے جسے نکالنا پڑا اور ایک کارکن کی آنکھ اور جگر متاثر ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پر امن احتجاج پر شب خون مارا گیا ، ادارہ نور حق کو پولیس نے گھیرلیا ، اسد اللہ بھٹو ،حافظ نعیم الرحمن اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا اورشارع فیصل پر پر امن کارکنوں پر بد ترین تشدد کیا گیا یہ جمہوریت کے دعوے داروں کے ماتھے پر بد نما داغ ہے ۔ہم اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اوور بلنگ، ڈبل بینک چارجز ، ٹیرف میں اضافہ کراچی کے شہریوں کا سلگتا ہوا مسئلہ ہے ۔ جماعت اسلامی نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ، نیپرا کے اندر گئی اور کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑا ۔کے الیکٹرک کے خلاف پر امن احتجاج کا راستہ اختیار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے بڑے بڑے ملین مارچ کیے جلسے جلوس اور مظاہرے کیے لیکن آج تک کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا اس احتجاج کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ کراچی کے عوام بجلی کے مسائل سے دوچار ہیں ۔ انہیں ان مسائل سے نجات دلائی جائے اور ان کے حق پر ڈاکہ ڈالنے سے روکا جائے۔انہوں نے کہا کہ نجکاری کا عمل ملک بھر میں ناکام ہوا ہے ۔کے الیکٹرک کی نجکاری سے بھی کراچی کے عوام کو کوئی فائدہ نہ ہوا صرف اس کمپنی کو ہی فائدہ ہوا ۔لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ کراچی میں کے الیکٹرک کے مسائل کے حل اور عوام کے حق کے لیے اپنی جدو جہد جاری رکھیں گے ۔عوام اپنے ساتھ ظلم و زیادتی کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج میں شریک ہوں ۔عوام کے اتحادو یکجہتی سے ہی عوام اپنا حق حاصل کر سکتے ہیں ۔ کے الیکٹرک کراچی کے عوام کا ایک اہم مسئلہ ہے ۔نجکاری کے بعد عوام سے کہا گیا کہ بلا تعطل بجلی ملے گی ، غلط بلنگ سے نجات ملے گی مگر آج تک پتا نہیں چل سکا کہ اس نجکاری کے پس پردہ کون لوگ ہیں اور کون اس کے حقیقی مالک ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ عوام کا مطالبہ ہے کہ کے الیکٹرک کی بھتہ خوری سے نجات ملے ۔ کے الیکٹرک کو ملنے والی سبسڈٖی کا فائدہ عوام کو نہیں ملتا۔ 6ارب روپے ماہانہ اوور بلنگ کے نام پر وصول کیے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ احتجاج کے موقع پر ڈپٹی کمشنر کی طرف سے کہا گیا کہ غلطی ہوگئی لیکن اس دوران بھی کارکنان پر پولیس نے فائرنگ ، شیلنگ اور لاٹھی چارج اور بد ترین تشدد کیا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول