حکومت نے تارکین وطن کو ملک چھوڑنے سے روک کرلیبر قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی ، اصلاحات کیلئے پرعزم ہیں : قطری حکام

حکومت نے تارکین وطن کو ملک چھوڑنے سے روک کرلیبر قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی ، ...
حکومت نے تارکین وطن کو ملک چھوڑنے سے روک کرلیبر قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی ، اصلاحات کیلئے پرعزم ہیں : قطری حکام

  


دوحہ(ڈیلی پاکستان آن لائن )قطری حکومت نے تارکین وطن کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے حوالے سے لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی خبروں کی تردید کر دی ۔

”گلف نیوز“ کے مطابق قطری حکام نے کہا ہے کہ حکومت نے تارکین وطن کو ملک چھوڑنے سے روک کر نئے لیبر قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ حکومت لاکھوں غیر ملکی ملازمین کے حقوق کو بہتر بنانے کیلئے اصلاحات کرنے کیلئے پرعزم ہے ۔نئے قانون کی بدولت تارکین وطن کو اپنی ملازمتیں تبدیل کرنے اور ملک چھوڑنے کا عمل آسان ہوا ہے ۔ ان مہاجرین کی بڑی تعدادکو 2022ءکے فیفا ورلڈ کپ سے قبل فٹ بال سٹیڈیمز تعمیر کرنے کیلئے ملازمتوں پر رکھا گیا ہے تاہم ملازموں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ نئے قانون کا اطلاق نہیں کیا جا رہا اور بھارت ، بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک کے پردیسی ملازمین کو قانون پاس ہونے کے بعد سے ملک چھوڑنے کی اجازت دینے سے روک دیا گیا ہے ۔

سرگودھا میں درگاہ پر سائلین کو قتل کرنے والا گدی نشین کس سرکاری محکمے کا ملازم تھا؟ ایسا انکشاف کہ آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

قطری حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت کے حوالے سے ملک میں اصلاحات کے نفاز میں غیر سنجیدگی یا غیر ملکی ملازمین کو ملک چھوڑنے کی آزادی نہ دینے کی خبریں یا تجازیز جھوٹی اور بے بنیاد ہیں ۔ ”قطر کی تقریباُُ 90فیصد (25لاکھ ) آبادی تارکین وطن پر مشتمل ہے جن میں سے بہت سے 2022ءکے فیفا ورلڈ کپ کیلئے سٹیڈیم اور انفراسٹرکچر تعمیر کرنے کیلئے کنسٹرکشن سیکٹر میں کم آمدنی پر ملازمتیں کر رہے ہیں مگر دوحہ کا کفالہ سپانسر شپ کا نظام جس کے تحت تارکین وطن اپنی ملازمتیں تبدیل یا کفیل کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہیں جا سکتے اس کی چند سالوں سے سکروٹنی ہو رہی ہے ۔

کل سے ملک کے بیشتر علاقوں میں یہ کام ہوسکتا ہے ، محکمہ موسمیات نے لوگوں کو خبر دار کر دیا

قطری حکومت نے دسمبر 2013ءمیںتارکین وطن کو اپنے کفیلوں سے ایگزٹ پرمٹ لینے کی پابندی ختم اور ملازمین کے پاسپورٹ ضبط کرنے اور تنخواہیں روکنے والے کفیلوں پر جرمانے عائد کرنے کا قانون منظور کیا تھا ۔قطری حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک چھوڑنے کی اجازت کے حوالے سے 1لاکھ 84ہزار 551درخواستوں میں سے صرف 213افراد کی درخواستوں کو مسترد کیا گیا ہے اور وہ بھی اس لیے کیونکہ درخواست دہندہ پر فوجداری مقدمات ہیں ۔

دوسری جانب تاجروں کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو ابھی بھی حکومت سے ملک چھوڑنے کیلئے اجازت نامہ لینا پڑتا ہے اور اس قانون کے منظوری کے بعد 200مہاجرین کو قطر چھوڑنے سے روک دیا گیا ہے ۔

مزید : عرب دنیا