اکیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

اکیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی ...
اکیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

  


مصنف موصوف یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ اخون پنجو اپنے آپ کو سیّد نہیں کہتے تھے۔ اگر وہ واقعی سیّد ہوتے تو اپنی نسل چھپانے کا گناہ وہ کبھی اپنے سر نہ لیتے۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان کے معتقدین ان کو مغل بادشاہ کے خوف کی وجہ سے شیخ سنبھلی کے عرف سے یاد کیا کرتے تھے اور یہ پردہ داری صرف اس وجہ سے تھی کہ وہ افغان تھے۔ ورنہ سید کہنے میں کسی قسم کا خوف نہ تھا۔

ایک اہم ثبوت ان کے افغان ہونے کا ایک اور کارنامے سے ملتا ہے کہ یوسفزیوں کا نظام ایک وقت میں کافی حد تک بگڑ چکا تھا۔ انہوں نے اپنے نسلی امتیاز کا مظاہرہ کرتے ہوئے اخون سالاک اور پیر سباک دونوں بھائیوں کو یوسفزیوں کی امداد کے لئے ان کے علاقہ میں بھی بھیجا تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ بہتر طور پر منظم اور مضبوط ہوں۔ چنانچہ بہا کو خان کی سربراہی میں یوسفزیوں کی تنظیم مغلوں کے لئے درد سر بنی رہی۔ اس مہم میں حضرت کاکا صاحب بھی ان کے ہمراز تھے اور یہ وہ علاقہ تھا جہاں اخون پنجو کے اسلاف مقیم رہے تھے۔

بیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ان وجوہات کے پیش نظر ان کے افغان ہونے میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی اور ان کو گوجر یا سیّد کہنا صرف مضحکہ خیزہی نہیں بلکہ سراسر بے انصافی ہے۔

موضع مصری پورہ (اکبرپورہ) کے کاغذات مال بندوبست ۱۸۷۰ء میں افغان اور نیز تاریخ پشاور میں اخون پنجو کو قوم افغان ہی لکھا گیا ہے۔ اسی طرح میاں محمد عمر صاحب چمکنی کو بھی افغان ہی درج کیا گیا ہے جو زیادہ قابل اعتبار ہے یہ کاغذات بندوبست محافظ خانہ پشاور میں موجود ہیں۔

غلط فہمی کا ازالہ

بعض افغان سلاطین ہند اور مشائخ کی نسل و نسب کے متعلق بعض غیر افغان مورخین نے شکوک پیدا کئے ہیں۔ مثلاً انہوں نے ایبک، تغلق، بہمن، سلطان ٹیپو، سواتی اور خلجی کو غیر افغان سے بتایا ہے حالانکہ وہ سب نسلاً اور نسباً افغان تھے اور ان کے ہم نسل قبیلے پہلے بھی موجود تھے اور اب بھی ولایت افغان میں موجود ہیں۔ ذیل میں ان کے افغان ہونے کے ثبوت میں تاریخی کتابوں کے بیانات پیش کئے جاتے ہیں۔

قطب الدین ایبک

محمد غوری کے جرنیلوں میں قطب الدین کو غیر افغان مورخین نے ترکی النسل کہا ہے حالانکہ افغانوں میں ایبک اور بوبک دو قبیلے ہیں جن کے نام پر کم از کم دو گاؤں سندھ میں بوبک اور افغانستان میں ایبک کے نام سے اب تک موسوم ہیں۔ سالنامہ کابل سال۱۹۳۳ء ص ۳۸۔۱۶۳) میں تحریر ہے۔

تاریخ ابراہیم بٹنی (قلمی نسخہ) میں قطب الدین کے قبیلہ ایبک کاشجرہ نسب یوں درج کیا گیا ہے۔

’’سردانی راسہ پسرکرامت فرمود اول سینی یاسوتی، دوئم سرپال، سوئم یلی سینی یاسوتی بن سروانی راپنج پسر بوجود آمد اول ابوالفرح، دوئم ایبک سوئم بوبک، چہارم حسن، پنجم ہدیہ۔‘‘

تغلق یا تغرک

اس کے متعلق تاریخ ابراہیم بٹنی میں شجرہ نسب یوں درج ہے۔

غور غشی سہ پسر داشت اول دانی، دوئم بابی، سوئم مندو، دانی بن غور غشتی راچہار پسر بود اول کاکٹر، دوئم ناغڑ، سوئم وادی چہارم پنی، ذکر اولاد کاکڑ بن دانی:اول تغرک یا تغلق، دوئم جد رام، سوئم سبرا، چہارم زڑغوری، پنجم چرمی، ششم پندار، اس کے آگے بالترتیب کرکران، فرملی خستے، دمڑ ، سبر، سرکڑی، لگڑ ، تارن، اسپینے، ترغڑی، موسیٰ زئی، ماتی زئی، یونس خیل سام، درپی خیل، جلال خیل، مکرانے اور انجے کے نام آئے ہیں۔

ذکر اولاد تغلق یا تغرک یا تفلک بن کاکڑ، اوچار پسر داشت اول یونس خیل دوئم سلارخیل سوئم سودن، چہارم سنجرالقب سران۔‘‘(محمد تغلق بادشاہ دہلی اسی خاندان سے تھا)

افغانوں کا ایک اور اہم متفقہ فیصلہ جسے تاریخ ابراہیم بٹنی میں یوں درج کیا گیا ہے:

’’ذجر ائب چبد قون افغانیہ نوشتہ ہمیں باہتمام رسانید، چنانچہ بختیار واشترانی در قوم شیرانی اندوسیدزمی درقوم ترین اندوخرسین در قوم میانہ وکوتی در قوم بٹنی اندو مشوانی و تارن در قوم کاکڑ اند ھنی دوردگ درقوم کر لانی اند۔۔۔۔وکلاء نان ماایں سخن گفتہ باشند ہرکہ از اولاد ماخودراداخل سید شمارو او اولاد مانیست۔ چنانچہ ایں مقدمہ در سلطنت سلطان بہلول و سلطان سکندر لودی وشیہ شاہ سورنیز مذکور شدہ بودہ، بزرگان ایشاں اقرار رامبدل ساختندو این کلمہ نیز در محافل بادشاہان مذکور مقرر شد۔‘‘

بہمنی خاندان کا شجرہ نسب:

ان کے متعلق تاریخ ابراہیم بٹنی میں شجرہ نسب یوں درج ہے۔

’’اشبون ولد بٹنی ابن قیس راشش پسر بوجود آمڈ اول ابراہیم، دوئم مزیانی، سوئم درغانی، چہارم غزوم، پنجم شیخے، ششم کرز بوتے، ابراہیم بن اشبون رادوپسر بوجود آمد۔ اول دوتانی، دوئم کوتے دوتانی بن ابراہیم رادوپسر شد، اول او کرے۔ دوئم بہمن‘‘

محمد تغلق بادشاہ کے زمانہ میں کچھ افغان اس سے ناراض ہو کر دکن میں مقیم ہوئے اور انہوں نے بالا اتفاق حسن خان افغان بہمنی کو اپنا بادشاہ منتخب کیا بہمن ایک افغان قبلیہ ہے جو بٹنی کی ذیلی شاخ دوتانی سے ہے جیس اکہ شجرہ نسب مذکورہ سے ظاہر ہے۔ اس خاندان نے ایک سو ستساسی برس حکومت کی۔ چاند بی بی بھی اسی خاندان سے تھی۔

جاری ہے۔ بائیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید : شجاع قوم پٹھان