برطانیہ کی مشکلات کا نیا دور

برطانیہ کی مشکلات کا نیا دور
برطانیہ کی مشکلات کا نیا دور

  

برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کا خط بالآخر یورپی یونین کے حوالے کردیا ہے۔ اس خواہش کے اظہار کے بعد برطانیہ کی یورپی یونین میں واپسی کی تمام امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث یورپی یونین میں لیڈر ان کا لب و لہجہ ایک بار پھر سے تلخ ہوگیاہے۔ فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ فرانس برطانیہ سے تعلقات بحال رکھنا چاہتا ہے لیکن اس سے پہلے برطانیہ کو مکمل طور پر یورپی یونین چھوڑنا ہوگی۔ ایسے ہی جذبات کا اظہار جرمن چانسلر نے بھی کیا ہے۔ خود یورپی یونین بھی برطانیہ کے ساتھ نرمی نہیں رکھتا۔ یورپی یونین کے صدر نے کہا ہے کہ ’’ہم صرف برطانیہ کو فائدہ دینے کے لئے نہیں۔‘‘

یورپی یونین اور برطانیہ کی علیحدگی اتنی آسان نہیں، برطانوی شہریوں کا یورپی یونین میں تحفظ اور برطانیہ کے اثاثے ایک طویل کہانی ہے۔ برطانیہ 60 ارب یورو واپس مانگ رہا ہے جو یقیناً یورپی یونین کے لئے فوری ادا کرنا بھی ایک سوال ہے۔برطانیہ یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ کسی سرحدی تنازعہ کو بھی اٹھانا نہیں چاہتا۔ مالٹا میں ہونے والی اس کانفرنس میں تمام یورپی یونین ممبران شامل ہیں جو اس نئی صورتحال کو ایک مہینے کے اندر اندر طے کرنا چاہتے ہیں۔

اگر یورپی یونین اور برطانیہ آسانی سے بھی علیحدہ ہوجائیں تو اس کے لئے دو سال درکار ہیں۔ اس طرح برطانیہ کو ہر صورت یورپی یونین کے قوانین کا خیال رکھنا ہوگا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپی یونین اپنی یونین سے باہر ممالک سے یکسر مختلف رویہ رکھتے ہیں ایسے میں برطانیہ یورپی یونین سے باہر جاتے ہوئے بھی یورپی یونین کے اندر والے فوائد چاہتا ہے بلکہ یورپی یونین کے زیادہ تر ممالک اس کے حق میں نہیں کہ برطانیہ یونین سے علیحدگی کے باوجود تمام ثمرات حاصل کرے۔

آئرلینڈ کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے۔ برطانیہ کو پہلے ہی خبردار کیا جارہا ہے کہ آئرلینڈ کے سرحدی تنازعہ میں نئی پالیسی برداشت نہ ہوگی۔ برطانیہ کے لئے یورپی یونین سے نکلنا آسان کام نہیں ایک طرف ایسے سرحدی تنازعات ہیں تو دوسری طرف 27 یورپی یونین کے ممالک ہیں جو برطانیہ کے خلاف یک زبان ہیں۔ اس لئے برطانیہ کا یورپی یونین کو خیر باد کہنا کوئی آسان مرحلہ نہیں اور اگر برطانوی حکومتیں اس مسئلے کو حل نہ کرواسکیں تو برطانیہ کی معیشت کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

امریکی حکومت اگر برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے سے بہت خوش ہے۔ امریکی صدر نے برطانیہ کے اس اقدام کو بہت سراہا تھا اور کئی دیگر ممالک کو بھی یہی مشورہ دیا تھا۔ امریکہ کی خوشی کی بڑی وجہ ان ممالک کی قربت اور بڑھتی ہوئی طاقت تھی۔ مشترکہ فیصلون کے باعث کئی پراجیکٹ کامیاب ہورہے تھے۔ یوروکرنسی کے طور پر امریکی ڈالر کے لئے کئی مسائل پیدا کرچکا ہے اور کئی مسائل پید اکردے گا۔ اگر یورو پر انحصار بڑھ گیا جو بہت بڑھ چکا ہے تو امریکی معیشت کے لئے یہ ایک بہت بڑی خبر ہوگی۔

آئندہ سالوں میں یورپی یونین اور برطانیہ کی راہیں جدا ہوں گی لیکن اس کی قیمت بہرحال برطانیہ کو دینا پڑے گی کیونکہ معاشی، سیاسی اور خارجی سطح پر کئی اہم سوالات کو ادھورا چھوڑا گیا ہے جس کے بعد موجودہ برطانوی حکومت کے لئے 2020ء کے الیکشن بہت مشکل ہوں گے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -