روس میں کھدائی کے دوران ماہرین کو کئی سو سال پرانا ایسا کمرہ مل گیا کہ دیکھ کر دنگ رہ گئے، اس کے ذریعے روسی بغیر کسی ٹیکنالوجی کے دشمن کی باتیں کس طرح سن لیا کرتے تھے؟ ایسا طریقہ کہ کبھی کسی نے تصور بھی نہ کیا ہوگا

روس میں کھدائی کے دوران ماہرین کو کئی سو سال پرانا ایسا کمرہ مل گیا کہ دیکھ کر ...
روس میں کھدائی کے دوران ماہرین کو کئی سو سال پرانا ایسا کمرہ مل گیا کہ دیکھ کر دنگ رہ گئے، اس کے ذریعے روسی بغیر کسی ٹیکنالوجی کے دشمن کی باتیں کس طرح سن لیا کرتے تھے؟ ایسا طریقہ کہ کبھی کسی نے تصور بھی نہ کیا ہوگا

  


ماسکو (نیوز ڈیسک) روسی دارالحکومت کی ایک مصروف شاہراہ کے نیچے چار صدیاں پرانا ایک ایسا پراسرار کمرہ دریافت ہواہے جس سے اس قدیم دور میں آج کی جدید جاسوسی ٹیکنالوجی جیسا کام لیا جاتا تھا۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ جاسوسی کی غرض سے یہ کمرہ اس وقت کے بادشاہ ایوان دی ٹیریبل کی والدہ نے تیار کروایا تھا۔ یہ کمرہ ابتدائی طور پر ایک ڈیڑھ میل لمبی فصیل کے نیچے تعمیر کیا گیا تھا، جو سولہویں صدی میں روس کو تاتاریوں اور پولینڈ کے حملہ آوروں سے بچانے کے لئے تعمیر کی گئی تھی۔ فصیل کے مخصوص کھوکھلے ڈیزائن اور گمک پیدا کرنے والی باریک سرنگو ں کی وجہ سے اس کے باہر موجود دشمنوں کی آواز نیچے موجود کمرے میں صاف سنائی دیتی تھی۔

قبرستان میں پائپ ٹھیک کرتے مزدوروں کو اچانک 500 سال پرانی ایسی چیز مل گئی کہ دیکھ کر سانس لینا بھی بھول گئے

یہ حیرت انگیز دریافت تعمیراتی کام میں مصروف مزدوروں نے کی ہے۔ خفیہ کمرے کے اندر سولہویں سے انیسویں صدی کے دوران استعمال ہونے والی 150 سے زائد مختلف اشیاءبھی دریافت ہوئی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کمرے کو آخری بار 17ویں صدی میں اس وقت جاسوسی کے لئے استعمال کیا گیا جب روس اور پولینڈ کے درمیان جنگ جاری تھی۔

ماسکو کے چیف آرکیالوجسٹ لیونڈ کونڈا راشیف نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ یہ کمرہ 1530ءکی دہائی میں روس پر حکومت کرنے والے بادشاہ ایوان دی ٹیریبل کی والدہ ایلینا گلنسکایا نے تعمیر کروایا تھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس