جرائم میں کمی کا رجحان

جرائم میں کمی کا رجحان
 جرائم میں کمی کا رجحان

  

کسی بھی ملک میں جرائم ترقی کی رفتار کو سست کرنے اور ملکی بدنامی کا باعث ہوتے ہیں۔ یوں تو دنیا کا کوئی بھی ملک جرائم سے پاک نہیں ہے، کیونکہ قانون کی جتنی بھی پاسداری ہو، پھر بھی کچھ لوگوں کی گھٹی میں اور ان کے جینز میں جرائم ہوتے ہیں۔۔۔ جن ممالک میں جرائم زیادہ ہوتے ہیں۔ سیاح ان ممالک کا رخ نہیں کرتے ۔ پاکستان میں جرائم کسی حد تک کم ہوئے ہیں، یہ کن اقدامات کی وجہ سے ہوئے ہیں، اس کا جائزہ آگے چل کر لیتے ہیں، لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ ابھی پاکستان خطرناک ممالک کی فہرست میں تیرہویں نمبر پر ہے، جبکہ بھارت اٹھائیسویں نمبر پر ہے۔ پاکستان نے پچھلے دو عشروں میں دہشت گردی اور جرائم کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان اٹھایا ہے۔

جہاں معیشت کو نقصان پہنچا ہے، وہیں پاکستان میں کھیلوں، فلم انڈسٹری، ثقافت سمیت کئی شعبے بدحالی کا شکار ہوئے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں فوجی ادوار حکومت میں جرائم میں کمی واقع ہوئی، جبکہ سول حکومتوں کے ادوار میں جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم ملک میں دہشت گردی کی لہر فوجی ادوار میں آئی۔ غلط خارجہ پالیسیوں اور غلط فیصلوں کی بدولت پاکستان خود دہشت گردی کا شکار بنا، دوسری طرف صوبوں میں بھی فوجی حکومتوں کے دورانیہ میں اضطراب پیدا ہوا جس سے کراچی اور بلوچستان میں بالخصوص جرائم میں اضافہ ہوا۔ پچھلی دو دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو سب سے کم قتل اور سنگین جرائم میں کمی 1999ء سے 2005ء کے دوران دیکھنے میں آئی۔ اس کے بعد بتدریج جرائم میں اضافہ ہوتا رہا اور 2015ء کے بعد جرائم اور قتل و غارت میں کمی ہونا شروع ہوئی۔

صوبائی سطح پر کراچی میں بہت خون ریزی ہوئی، اس کے محرکات میں سیاسی، لسانی اور مذہبی تقسیم سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کے گلی کوچوں میں بھی جرائم عروج پر پہنچ چکے تھے۔ کئی علاقے تو ’’نوگو ایریاز‘‘ میں تبدیل ہو چکے تھے۔ اس کے علاوہ اندرون سندھ بالخصوص کچے کے علاقے بھی جرائم کی آماجگاہ بنے رہے۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے یہاں جرائم کی نوعیت قدرے مختلف تھی، بعض شہروں میں اغوا برائے تاوان، ڈکیتیاں اور چوریاں عام تھیں، لیکن پنجاب میں قتل کے زیادہ تر واقعات خاندانی دشمنیوں کا شاخسانہ ہوتے ہیں۔ پنجاب کے زیادہ جرائم والے اضلاع میں گجرات، شیخوپورہ، گوجرانوالہ اور لاہور شامل ہیں۔۔۔

اور گجرات کی سرحد جہاں آزادکشمیر سے ملتی ہے، بالخصوص ضلع بھمبر بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا اور ایک عرصے میں ضلع بھمبر میں بیسیوں قتل ہوئے، لیکن اب پچھلے دس سال میں ضلع گجرات اور اس کے ملحقہ آزادکشمیر کے علاقوں میں جرائم اور قتل و غارت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کی وجہ آبادی کا پھیلاؤ، مختلف مقامات پر پولیس چوکیوں اور پولیس ناکوں میں اضافہ اور مواصلاتی ذرائع کا زیادہ استعمال ہے۔ جہاں تک آزادکشمیر کا تعلق ہے، یہاں جرائم میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پچھلے 10 یا 12 سال سے عدالتوں میں جرائم کی سزائیں دینے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ بالخصوص قتل کے زیادہ تر مجرمان کو سزائے موت اور عمر قید جیسی سخت سزائیں دینے کی وجہ سے ان جرائم میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ علم کی روشنی کا بھی کمال ہے، کیونکہ خواندگی کی شرح بہتر ہونے سے جرائم میں کمی واقع ہوتی ہے۔

پاکستان میں نیشنل ایکشن پلان اور سیکیورٹی اداروں کی طرف سے دہشت گردی اور جرائم کی بیخ کنی کے لئے کئے گئے آپریشن اور ضرب عضب نے بھی امن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی فوج اور ایجنسیاں خراج تحسین کی حقدار ہیں، جنہوں نے کمال بہادری سے دہشت گرد گروپوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف اتنے کم عرصے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بالخصوص کراچی، جنوبی اور شمالی وزیرستان میں جس سرعت کے ساتھ امن بحال ہوا ہے یہ دنیا کے لئے ناقابل یقین تھا۔

ہمارے سیکیورٹی اداروں نے ایک قلیل وقت میں نہ صرف دہشت گردی کے عفریت سے عوام کو نجات دلائی ،بلکہ کراچی کے گلی کوچوں سے بھی ہر طرح کے جرائم کی بیخ کنی کی۔ سب پاکستانیوں کے لئے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر کسی سمت ایمانداری سے کوئی قدم اٹھایا جائے اور دیانتداری سے محنت کی جائے تو کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہوتا۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ملکی اداروں بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تطہیر اور تربیت کے ذریعے جرائم کی مکمل بیخ کنی کی کوشش کرے تاکہ ملک میں سیاحت کو فروغ مل سکے، کھیل کے میدانوں کی رونقیں بھی بحال ہو سکیں اور ملکی معیشت کے جام پہیے میں بھی ارتعاش پیدا کیا جا سکے۔

جرائم اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے عام لوگوں کے بیانیہ کو بدلنا اور ہر سطح پر لوگوں کی تربیت کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ ملک سے بے اعتمادی اور بے اعتباری کی کیفیت کو بھی ختم کرنا ہوگا، کیونکہ عوام کو اعتماد میں لئے بغیر اور بااختیار کئے بغیر کامیابی بہت مشکل ہے۔

مزید : رائے /کالم