تعلیمی ڈسپلن

تعلیمی ڈسپلن
تعلیمی ڈسپلن

  

لاہور کے فیصل چوک میں مظاہرے کے دوران پنجاب کے اساتذہ، لیکچرز اور پروفیسرز نے اپنے ساتھ روا رکھی جانے والی بے انصافیوں کے خلاف جو پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ ان میں کہیں بھی اور کسی کے ہاتھ میں بھی یہ کتبہ نہ تھا کہ سکولوں کے معیار تعلیم کو بہتر کیا جائے۔ کالجوں اور سکولوں کی عمارتوں میں بہتری لائی جائے۔ طالبعلموں کے لئے کھیل کے گراؤنڈ رکھے جائیں۔ لائبریری اور لیبارٹریز بہتر بنائی جائیں۔ ملک بھر میں نجی سکولوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور اس کی وجہ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تعلیمی حوالے سے بے رخی ہے۔ میرا بھتیجا جو ایک سرکاری کالج میں پڑھتا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ انگریزی کا استاد کئی کئی ماہ کالج میں کلاس نہیں لیتا۔ صرف ایک استاد کی بات نہیں ہے عمران خان کی حکومت آنے کے بعد ہم نے سوچا کہ سرکاری تعلیمی ادارے کچھ بہتر ہو جائیں گے۔ اس امید پر میں نے اپنی ایک پوتی کو لاہور چھاؤنی کے ایک ہائی سکول میں داخل کروا دیا۔ اس نے ایک ہفتے کے بعد سکول جانے سے انکار کر دیا اور مجھے بتایا کہ استانیاں مانیٹروں کی ڈیوٹی لگا کر بری الذمہ ہو جاتی ہیں اور وہ لڑکیاں مانیٹر ہم سے ہوم ورک کہہ کر اپنا فرض پورا کر لیتی ہیں۔

اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان نے ایک نصاب کی بات کی تھی۔ آٹھ ماہ گزر جانے کے بعد بھی اس پر توجہ نہیں کی جا رہی۔ انہیں یہ احساس ہے کہ کوئی قوم ایک نصاب کے بغیر اپنے نوجوانوں میں قومی یکجہتی کی فکر پیدا نہیں کر سکتی۔ وہ اردو زبان میں ہی تعلیم کے قائل ہیں۔ سندھی نوجوانوں میں سندھی زبان و ثقافت سے محبت ان کی سندھی زبان کی تعلیم نے پیدا کی ہے۔ لیکن اصل معاملہ تعلیمی ڈسپلن کا ہے محکمہ تعلیم کے ملازمین کی تعداد صوبے میں دوسرے تیسرے نمبر پر ہے اور اس میں کرپشن پولیس سے بھی زیادہ ہے۔ محکمہ تعلیم کے افسران ،خاص طور پر اساتذہ کنٹرول کرنے والے اور سکولوں کے لئے بجٹ فراہم کرنے والے نیب کی فہرست میں ہونے چاہئیں میں نے خود لاہور کے ہال روڈ والے دفتر میں خواتین اساتذہ کو روتے ہوئے دیکھا ہے کلرک تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے پیسے مانگتے ہیں۔

سکولوں میں اساتذہ کی حاضری مہینے بعد لگا دی جاتی ہے صرف مرکزی دفتر تک رسائی ہونا ضروری ہے اور پھر ان اساتذہ کے لئے بچوں کو تعلیم دینا ضروری نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اساتذہ کی تنخواہوں کے سکیل دیگر ملازمین سے کہیں زیادہ رکھے اور انہیں افسر شاہی کے گریڈ بھی دیئے۔ اور یہی وہ عمل ہے جس نے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کے حصول کو ایک مذاق بنا دیا ہے۔ یہ خبریں تو ہم سب ٹی وی پر دیکھ اور سن چکے ہیں کہ کس طرح سکولوں کو مویشیوں کے باڑے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ علاقے کے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے چہیتے سکول کو اپنے سامان کے گودام کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان سچی اور واضح نظر آنے والی خبروں میں قومی جرم کے مرتکب افراد کو کوئی پوچھتا تک نہیں۔ اس صوبہ میں اور اسی لاہو شہر میں ایک ماہر تعلیم سہیل افضل بھی ہے۔ جو ایک بڑے تعلیمی گروپ پنجاب گروپ کو چلا رہے ہیں۔ وہ اس ادارے کے ساتھ سالہا سال سے جڑے ہوئے ہیں جب صرف لاہور میں ان کے ادارے کے چند کالج اور سکول چل رہے تھے۔ آج نہ صرف یہ پنجاب کے ہر شہر میں موجود ہے۔ بلکہ اپنے تعلیمی معیار ڈسپلن کے حوالے سے اور دیگر تعلیمی اداروں کے مقابل عوام میں مقبول ہے۔

سہیل افضل ایک سابقہ نگران حکومت میں وزیر تعلیم تھے تو سرکاری تعلیمی اداروں کے حوالے سے انہوں نے محکمہ تعلیم کے افسروں کی رہنمائی بھی کی۔ لیکن نگران حکومت کے خاتمے کے بعد ظاہر ہے اس پر کون عمل کرتا ہے بزدار حکومت کے لئے یہ سوچنے کی بات ہے کہ کیا ہزاروں افراد پر مشتمل محکمہ تعلیم میں افسروں سے لے کر پرنسپلوں تک کوئی ایک سہیل افضل ان میں موجود ہے۔ اور اگر نہیں تو کیا پنجاب حکومت تعلیمی بہتری کے لئے ایسے صاحب فکر لوگوں سے مشورہ کے لئے تیار ہے جب تک سرکاری تعلیمی اداروں میں ڈسپلن قائم نہیں ہوتا۔ ملک کی نوجوان نسل کا مستقبل مخدوش رہے گا۔

نوے فیصد غریب عوام کا سہارا صرف سرکاری سکول ہیں اور ان میں نوے فیصد اب سکول ہی نہیں رہے انہیں سکول کا نام دینا ہی زیادتی ہے۔ اساتذہ قابل تکریم اسی وقت ہوں گے جب وہ اپنا فرض دیانتداری سے سرانجام دیں گے۔ آخر نجی اداروں میں بھی تو اساتذہ ہی پڑھاتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم