جھوٹے گواہ دفن کر دیئے، مشرف 2مئی کو پیش نہ ہوئے تو دفاع کا حق ختم ہو جائیگا : سپریم کورٹ

جھوٹے گواہ دفن کر دیئے، مشرف 2مئی کو پیش نہ ہوئے تو دفاع کا حق ختم ہو جائیگا : ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی ) پریم کورٹ نے پرویزمشرف کے ٹرائل سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا 2مئی کومشرف نہیں آتے تو دفاع کے حق سے محروم ہوجائیں گے ، ٹرائل کورٹ ان کی غیرموجودگی میں ٹرائل مکمل کرکے حتمی فیصلہ جاری کردے،ملزم کو سیکشن 342کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کی سہولت بھی نہیں ہوگی، 2مئی کو پیش ہوجاتے ہیں تو تمام سہولیات میسر ہوں گی، مفرور ملزم کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے لاہور ہائیکورٹ بار کی درخواست پر پرویزمشرف کے 3 نومبر2007ء کے اقدام کے ٹرائل سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ملزم پرویز مشرف نے 2 مئی کو پیش ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے؟ اگر پرویز مشرف اپنی کمٹمنٹ پر پورا نہیں اترتے تو کیا ہوگا، اس معاملے کو اوپن ہینڈڈ نہیں چھوڑا جاسکتا۔عدالت کے استفسار پر سابق صدر کے وکیل نے بتایا کہ پرویز مشرف کی اہلیہ سے رابطہ ہوا تھا، پرویز مشرف نے پیش ہونے کیلئے 13مئی کی تاریخ دی تھی، وہ سکائپ پر بیان ریکارڈ نہیں کرانا چاہتے، سکائپ پر بیان ریکارڈ نہ کروانے کی وجہ بہت زیادہ دستاویزات ہیں، پرویز مشرف خود عدالت میں پیش ہوکر اپنا بیان رکارڈ کروانا چاہتے ہیں۔سابق صدر کے وکیل نے کہا کہ بطور وکیل پرویز مشرف کے 2مئی کو پیش ہونے کی یقین دہانی نہیں کروا سکتا، ان کی صحت کا مسئلہ ہے، ان کی کیمو تھراپی چل رہی ہے۔وکیل کے دلائل پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ عدالت شق 9 کا تفصیلی جائزہ لے گی، شق 9 کے تحت ملزمان کی غیرموجودگی میں بھی عدالت ٹرائل شروع کرسکتی ہے، شق 9 کے تحت ملزم کے دفاع کیلئے ایک وکیل تعینات کرنا ہوتا ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس میں کہا اب وہ دانستہ طور پر غیر حاضرہیں، غیرحاضری میں ٹرائل اوردانستہ غیر حاضرہونا2مختلف باتیں ہیں، غیرحاضری میں ٹرائل ہوناآئینی طورپردرست نہیں، دانستہ طور پر غیر حاضرہونامختلف معاملہ ہے ، دانستہ طور پرغیر حاضری کافائدہ ملزم کو نہیں دیا جاسکتاہے۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا اس مرحلے پر ہمیں کوئی فیصلہ نہیں دینا چاہیے، ہوسکتا ہے ہمارے سامنے اپیل میں دوبارہ یہ نقطہ اٹھایاجائے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 19 جولائی 2016 کو ٹرائل کورٹ نے کہا کہ ملزم کی غیرموجودگی میں مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا، ریاست کا کام تھا کہ اس فیصلے کو چیلنج کرتے، ریاست ہی شکایت گزار تھی، وفاقی حکومت نے ملزم کو خود باہر جانے دیا، وفاق نے پرویز مشرف کو واپس لانے کیلئے کچھ نہیں کیا، وفاق نے اپنے آپ کو بند گلی میں ڈال دیا۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کرتے، وفاق نے خود 2016 کے بعد کچھ نہیں کیا، ایسے حالات میں کیا قانونی راستہ نکل سکتا ہے، ہمیں غور کیلئے وقت دیا جائے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے پرویزمشرف کے ٹرائل سے متعلق فیصلہ سنادیا، جس میں کہا گیا اگر 2مئی کومشرف نہیں آتے تو دفاع کے حق سے محروم ہوجائیں گے ، ایسی صورت میں ٹرائل کورٹ استغاثہ کے دلائل سن کر حتمی حکم جاری کردے۔فیصلہ میں کہا گیا جو ملزم غیر حاضرہوجائے اس کے حقوق معطل ہوجاتے ہیں، دفعہ 342ملزم کو اپنے دفاع کا موقع فراہم کرتی ہے ، ملزم یہ موقع ہی حاصل نہیں کرنا چاہتاتوپھر اسے دفاع کاحق نہیں رہتا ، دانستہ غیر حاضری کی صورت میں گواہ پیش کرنے کابھی حق نہیں رہتا۔چیف جسٹس نے کہا اگر پرویز مشرف 2مئی آجاتے ہیں تو سارے حقوق بحال ہوں گے، نہیں آتے توچاہے وجہ کچھ ہو، استغاثہ کوسن کر حتمی حکم جاری کیاجائے۔بعد ازاں سپریم کورٹ میں سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

چیف جسٹس

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہاہے کہ اب ماڈل کورٹس میں روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل ہو گا،ایس پی انویسٹی گیشن خود پکڑ پکڑ کر گواہوں کو پیش کرے گا، اب جھوٹ بولنے والوں کو بھی سزا ہو گی۔سپریم کورٹ میں قتل کے نامزد ملزم ظفر حسین کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ دفتروں کی الماریوں میں فوجداری مقدمات کی فائلیں ختم ہو جائیں گی۔ آج سے پورے ملک میں ماڈل کورٹس کام کر رہی ہیں۔ اب ماڈل کورٹس میں روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل ہو گا۔ ایس پی انویسٹی گیشن خود پکڑ پکڑ کر گواہوں کو پیش کرے گا۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہم نے جھوٹے گواہان کو دفن کر دیا ہے ۔ پہلے کہا جاتا تھا عدالتیں ملزمان کر بری کرتی ہیں۔ اب جھوٹ بولنے والوں کو بھی سزا ہو گی،ہم نے انشا ء اللہ نظام عدل کو ٹھیک کرنا ہے۔ جو ایک جگہ جھوٹا وہ سب جگہ پہ جھوٹا ہے۔عدالت نے ملزم ظفر اقبال کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔ ملزم ظفر اقبال پر مظفرگڑھ کے علاقے میں غلام قاسم کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو پھانسی کی سزا سنائی جسے ہائیکورٹ نے عمر قید میں تبدیل کردیا۔دوسری طرف سپریم کورٹ نے اسلام آباد ماتحت عدلیہ سروسز رولز کیس کی سماعت کے دور ان وفاقی حکومت سمیت تمام فریقین کو معاملہ اتفاق رائے سے حل کرنے کی ہدایت کردی۔ پیر کو جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دور ان جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ رولز میں تبدیلی کیلئے قانون میں ترمیم ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ بہتر یہ ہے کہ حکومت اور تمام فریقین مل کر کوئی فیصلہ کر لیں۔ انہوں نے کہاکہ اتفاق رائے سے فیصلہ نہیں ہوتا تو کیس سن کر فیصلہ کردیں گے۔

مزید : صفحہ اول