کیا حکومت عوام کے حالات سے بے خبر ہے؟

کیا حکومت عوام کے حالات سے بے خبر ہے؟
کیا حکومت عوام کے حالات سے بے خبر ہے؟

  

مجھے تو وزیر خزانہ اسد عمر اپنے قول کے بہت پکے نظر آتے ہیں۔ موصوف نے چاہے بھولپن میں ہی یہ کہہ دیا تھا کہ عوام چیخیں گے، مہنگائی ان کی چیخیں نکلوا دے گی اور آج چیخیں بلند سے بلند تر ہو رہی ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تین بار اضافہ کر کے حکومت پٹرول کو سو روپے فی لٹر تک اور ڈیزل کو 117 روپے تک لے گئی ہے۔ اُدھر ڈالر ہے کہ ہر روز اڑان بھر رہا ہے ،لگتا ہے حکومت بے بس ہو چکی ہے اور اس نے حالات کو قسمت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔۔۔ ’’چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے ‘‘والی کیفیت ہے۔ جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے ایک اور رجحان متعارف ہوا ہے، پہلے تو حکومت کو ہر بات کا علم ہوتا تھا، اب جب کچھ ہو جاتا ہے تو حکومت کے علم میں آتا ہے۔ ڈالر کی قیمت جب یکدم اوپر گئی تھی تو وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے تو اس کا علم ٹی وی خبرنامے سے ہوا۔

اب روزانہ ڈالر ایک دو روپے کے حساب سے اوپر جا رہا ہے، گویا یہ حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے کہ ڈالر کو یک دم اوپر لے جانے کی بجائے ایک ایک ڈالر کر کے اوپر لے جایا جائے ،شاید آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کے لئے حکومت یہ چور راستہ اختیار کر چکی ہے۔ یہ تو عوام کو دھوکہ دینے کی ایک واردات ہے۔ 139 سے ڈالر 143 تک آ گیا ہے۔ گویا چار روپے بڑھ گئے اور حکومت نے کوئی نوٹس لیا اور نہ بیان جاری کیا کہ ڈالر کی قیمت کیوں اوپر جا رہی ہے؟ اسد عمر کے سارے پتے جعلی ثابت ہوئے ہیں، انہوں نے جن باتوں کو بنیاد بنا کر اسحاق ڈار پر تنقید کے نشتر چلائے تھے، اب خود اس سے بھی بد ترین اقدامات کر رہے ہیں، لیکن ذرہ بھر شرمندگی ان کے چہرے پر نظر نہیں آتی۔

اب یہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا معاملہ ہی لیجئے۔ ایک زمانے میں اسد عمر یہ بتاتے نہیں تھکتے تھے کہ ایک لٹر پٹرول کتنے کا پڑتا ہے اور حکومت بے تحاشہ ٹیکس لگا کر اس کی قیمت کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ موصوف نے یہ دعوے بھی کئے تھے کہ وہ پٹرول کو 47 روپے لٹر تک لے آئیں گے۔ یہ دعوے انہوں نے لاعلمی کی بنیاد پر کئے تھے یا پھر سابق حکومت کے خلاف اس وقت جھوٹی پروپیگنڈہ مہم چلائی تھی۔ اگر وہ لا علم تھے تو انہیں آج وزیر خزانہ نہیں ہونا چاہئے تھا اور اگر یہ جھوٹی پروپیگنڈہ مہم تھی تو آج وہ اس پر شرمندہ کیوں نہیں ہو رہے؟

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھی ہیں تو کرائے بھی بڑھ گئے ہیں، اشیائے خورو نوش بھی مہنگی ہو گئی ہیں، یہ لوگ آخر کس خمار و جال میں ہیں کہ انہیں یہ سوچنے کی فرصت نہیں، جن کی آمدنی پچھلے بجٹ سے منجمد ہے اور ایک روپیہ نہیں بڑھی، وہ کب تک مہنگائی کے عذاب کو برداشت کر سکیں گے۔ کچھ اُن کی آمدنی بھی بڑھی ہے یا نہیں یا ان کے گھروں میں خزانے دبے ہوئے ہیں کہ جہاں سے وہ مال نکال نکال کر مہنگائی کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ اب تو لوگ سوچنے لگے ہیں کہ وہ معجزہ کیسے ہوگا، جس کے عمران خان خواب دکھاتے رہے ہیں؟ ان حالات میں بہتری کیسے اور کہاں سے آئے گی، کیا آسمان سے من و سلویٰ اُترے گا۔

کیا اسد عمر نے کوئی ایسا کام کیا ہے، جس سے بہتری کی امید لگائی جا سکے؟ یہاں تو گڑبڑ ہی گڑبڑ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب سات مہینے بعد جو آپ آئی ایم ایف کی شرطیں خفیہ طور پر پوری کر رہے ہیں، تو آپ نے آغاز ہی میں انہیں قبول کر کے معیشت کو سہارا کیوں نہیں دیا؟ برادر ملکوں سے ادھار ڈالرز مانگنے کی حکمت عملی نے کیا دیا؟ خزانے میں ڈالرز صرف نمائش کے طور پر موجود ہیں، انہیں بوقت ضرورت خرچ کیا جا سکتا ہے، نہ ہاتھ لگایا جا سکتا ہے، سود البتہ اس پر ادا کیا جائے گا۔ ان کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے، اس لئے آئی ایم ایف کی طرف جانا ضروری ہو گیا ہے۔ اس دوران ملکی معیشت کا جو کچومر نکل گیا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومت نے صرف اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لئے کہ آئی ایم ایف کے پاس چونکہ نہ جانے کا وعدہ کیا ہے، اس لئے نہیں جانا، کی حکمتِ عملی اختیار کر کے اپنے تئیں بڑی کامیابی حاصل کی، لیکن عملاً اس نے ملکی اقتصادیات کو چاروں شانے چت کر دیا۔

مَیں ابھی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی ایک پریس کانفرنس سن رہا تھا، جس میں وہ ملتان کے صوبائی حلقے 218 کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کی کامیابی کو حکومت پر عوام کے اعتماد کی دلیل قرار دے رہے تھے۔ سبحان اللہ کیا تجاہل عارفانہ ہے۔ ایک صوبائی حلقے میں ضمنی انتخاب کی جیت کو ملکی حالات کا بیرومیٹر بنانا کوئی ملتان کے شاہ جی سے سیکھے۔ اس نشست پر ملک واصف راں نے جیتنا ہی تھا، کیونکہ وہ وفات پانے والے ایم پی اے ملک مظہر عباس راں کے فرزند ہیں اور ہمدردی کا ووٹ بھی ان کے حق میں تھا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے جو مشترکہ امیدوار کھڑا کیا، وہ حلقے میں اچھی شہرت کا حامل نہیں اور برادری میں بھی اس کی ساکھ پہلے سے ہی کمزور تھی،

تاہم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے پرانے تعلقات کی وجہ سے اسے ٹکٹ دلوائی اور مسلم لیگ (ن) کو بھی آمادہ کیا کہ وہ اس کی حمایت کرے، چونکہ مسلم لیگ (ن) کے پاس اس حلقے سے کوئی مناسب امیدوار نہیں تھا اور دوسرا پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں ایک انڈر سٹینڈنگ بھی موجود ہے ،جس حلقے سے دونوں جماعتوں کے امیدوار نے زیادہ ووٹ لئے ہوں، ٹکٹ وہی جماعت جاری کرے گی، سو یہ قرعہ فال ملک ارشد راں کے نام نکلا، وہ ہار گیا اور ملک واصف راں جیت گیا۔ یہ مقامی سیاست میں عوام کا کیا گیا فیصلہ ہے، جسے شاہ محمود قریشی اور چودھری محمد سرور تحریک انصاف پر عوام کے اعتماد کا آئینہ قرار دے رہے ہیں ۔

کیا تحریک انصاف صرف قادر پور راں کی جماعت ہے، وہ تو ایک ملک گیر جماعت ہے اور وفاقی حکومت سمیت تین صوبوں میں بھی حکومت کر رہی ہے، اسے تو قومی سطح پر عوام کے بدلتے مزاج اور مشکلات کا ادراک ہونا چاہئے۔ معاشی پالیسی کے بغیر تو بھٹو کے لئے شدید مشکلات پیدا ہو گئی تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کی حالت ایسی نہیں کہ سارا بوجھ اُن پر ڈال دیا جائے۔ ماضی میں عوام کو حکومتیں جو سبسڈی دیتی رہی ہیں، وہ انہیں زندہ رہنے کی سہولت فراہم کرنے کے لئے تھیں، آپ یک دم کسی کا آکسیجن ماسک ہٹا دیں تو وہ کیسے بچ سکتا ہے؟ موجودہ حکومت نے یہ تو سوچا کہ خزانہ کیسے بھرنا ہے، لیکن یہ نہیں سوچا کہ عوام کا پیٹ بھی بھرنا ہے۔ اس کا راستہ کیا ہوگا۔

جب حکومت کچھ کر نہ پا رہی ہو تو لایعنی معاملات میں الجھ جاتی ہے۔ اب یہ کیا حکمت عملی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام بدل دیا جائے۔ یہ نام چل رہا ہے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بھی اسے جاری رکھا۔۔۔ نام سے کیا ہوتا ہے، اصل کام تو یہ ہے کہ حکومت اسے مزید بہتر اور کرپشن فری بنائے، تاکہ مستحقین تک یہ امداد پہنچ سکے۔ حکومت اگر عوام کے لئے نئی سکیمیں لانا چاہتی ہے تو لائے، مگر پہلے سے جاری منصوبوں یا سکیموں کو اپنے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش اس امر کا پتہ دیتی ہے کہ عوام کو صرف ناموں کی تبدیلی سے تبدیلی کا احساس دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکومتیں اپنے مجموعی تاثر سے چلتی ہیں، وزیر اعظم عمران خان اکیلے حکومت کا بہتر تاثر برقرار رکھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، مگر ان کے پاس بھی اب وعدوں اور دعووں کو دہرانے کے سوا کچھ نہیں رہا۔ تاثر یہ پھیل رہا ہے کہ حکومت ملک چلانے میں ناکام ہو رہی ہے، معیشت اس کے قابو میں نہیں آ رہی، حکومت کے عوام دوست ہونے کا تاثر قائم نہیں ہو پا رہا، جوخاص طور پر عمران خان کے لئے ایک تشویش کی بات ہونی چاہئے، لیکن شاید اپوزیشن کو احتساب میں اُلجھا کر انہیں کوئی تشویش لاحق نہیں۔

مزید : رائے /کالم