سیاسی جماعتوں کے متفق ہونے پر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کرینگے: فواد چودھری

سیاسی جماعتوں کے متفق ہونے پر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کرینگے: فواد ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی ا ین پی ) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ حکومت سمجھتی ہے کہ ملک کو فوجی عدالتوں کی اب بھی ضرورت ہے لہٰذا فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گی اوراگر سیاسی جماعتیں متفق نہ ہوئیں تو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع نہیں ہوگی، فوجی عدالتوں کا قیام غیر معمولی حالات میں ایک غیر معمولی قدم تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ فوجی عدالتوں نے کامیابی کے ساتھ ڈیلیور بھی کیا، دہشت گردی کو مکمل شکست دینے کے بہت قریب ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں فواد چوہدری نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام غیر معمولی حالات میں ایک غیر معمولی قدم تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فوجی عدالتوں نے کامیابی کے ساتھ نتائج بھی دیئے ہیں۔ فوجی عدالتوں کی اب بھی ضرورت ہے۔ہم دہشت گردی کو مکمل شکست دینے کے بہت قریب ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ توسیع ضروری تھی اور اب بھی بہت اچھا ہو گا کہ یہ توسیع دوبارہ دی جائے لیکن یہ اس صورت میں ممکن نہیں کہ اگر اس معاملے پر قومی اتفاقِ رائے نہ ہو جیسا کہ قومی ایکشن پلان کے وقت تھا۔علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرا طلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں، آصف زرداری کا مستقبل میں جیل آنا جانا نظر آ رہا ہے،۔ وفاقی وزیرنے کہا ہے کہ آصف زرداری کیخلاف مقدمات نواز شریف دور میں بنے، جعلی اکا ؤ نٹس سے متعلق مقدمات بھی-16 2015میں بنائے گئے۔ انہوں نے کہامسلم لیگ( ن) نے ان کیسز کی بہت اچھے طریقے سے تحقیقات کیں لہٰذا توقع ہے کہ ن لیگ ان کیسز کے حوالے سے نیب کیساتھ تعاون کرے گی۔فواد چودھری نے کہاغربت کے خاتمے کیلئے احساس کے نام پر نیا پروگرام شروع کیا ہے، احساس پروگرام کا دائرہ کار بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت بیروزگاروں کو قرضے ، بے گھروں کو چھت دینگے، احساس پروگرام میں کمزور طبقے کی مالی معاونت بھی شامل ہے، احساس پروگرام کے تحت لوگوں کو کاروبار میں بھی معاونت فراہم کرینگے۔وزیر اطلاعات نے کہا احساس پروگرام کیساتھ بی آئی ایس پی بھی چلتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں پٹرول کی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں انتہائی کم تھیں، حالیہ دنوں میں پٹرول کی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھی ہیں۔

مزید : صفحہ اول