دنیا بھر میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد 10.734ہے، قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی میں انکشاف

دنیا بھر میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد 10.734ہے، قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی میں ...

اسلام آباد (آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانی اور انسانی وسائل کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت دنیا بھر میں قید پاکستانیوں کی تعداد 10734ہے،جن میں صرف سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی تعداد 3500سے زائد جبکہ یو اے ای میں 2300قیدی موجود ہیں، زیادہ تر قیدہونے کی وجوہات میں قوانین سے لا علمی، زائد المعیاد ویزہ، چوری، قتل اور منشیات ہیں،2016-17میں اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات 911ملیں جن میں سے 702کو حل کر دیا گیاجبکہ 2017-18میں 1951شکایات میں سے 793کا ازالہ کیا گیا۔ان خیالات کا اظہار پیرکو پارلیمنٹ لاجز میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت اوورسیز پاکستانی اور انسانی وسائل میں کیاگیا، قائمہ کمیٹی کی سربراہی رکن قومی اسمبلی و چیئرمین کمیٹی شیخ فیاض الدین نے کی، کمیٹی میں ساجد خان، ذوالفقار علی خان ڈھلوں، اورنگزیب خان کھچی، ثوبیہ کمال خان، شاہد احمد، زہرا ودود فاطمی اور مولانا جمال الدین کے علاوہ سیکرٹری اوورسیز و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے ایم ڈی اوورسیز پاکستانی نے بتایا کہ اوورسیز پاکستانی کی وزارت بیرون ممالک پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہیں، اس وقت وزارت تعلیم، سرمایہ کاری اور ہاؤسنگ اسکیم پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے، او پی ایف کی عمارتوں سے وزارت کو پانچ کروڑ سالانہ کرایہ آتا ہے، اس وقت اسلام آباد کے علاوہ لاہور، کراچی ،پشاور میں او پی ایف کے آفسز موجود ہیں،حکام کے مطابق او پی ایف سکولوں میں اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کو فیس کی مد میں 50فیصد رعایت دی جاتی ہے، بیرون ملک او پی ایف کا کوئی سکول موجود نہیں، ملک میں چوبیس سکول موجود ہیں، وزارت کو سالانہ دس کروڑ روپے کا خسارہ جبکہ اتنا ہی حکومت کی طرف سے سبسڈی دی جاتی ہے، وزارت سالانہ 45کروڑ روپے خرچ اور 5کروڑ آمدن آرہی ہے، حکام کے مطابق وزارت کی کل آسامیوں کی تعداد 2373ہے جن میں 1938پوسٹوں پر افراد موجود ہیں ،آفیسرز کی تعداد 168ہے جن میں سے 132خالی ہیں،سٹاف کی تعداد508جن میں سے 436خالی ہیں، وزارت کے اعلیٰ حکام نے قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز کو بتایا کہ بیرون ملک اوورسیز مرنے والے کو 4 لاکھ روپے جبکہ معذور کو 3 لاکھ روپے دیتی ہے،2017-18میں 7کروڑ روپے تقسیم کئے گئے جبکہ اب تک 11ہزار لوگوں کو مستفید کیا گیا،حکام نے بتایا کہ بیرون ملک موجود پاکستانیوں میں سے جو جتنا زیادہ سرمایہ اندرون ملک بھیجے گاانہیں اس ہی پیسوں کے حساب سے سلور گولڈ پلاٹینیم کارڈ دیئے جاتے ہیں جبکہ ملک کے 8ایئرپورٹس پر کاؤنٹرز ہیں وہاں پر انہیں ہر قسم کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں، وزارت کی آن لائن پورٹل کے ذریعے اوورسیز پاکستانی اپنی شکایات جن میں اووربلنگ، میٹر کا کٹ جانا اور جائیداد پر قبضے کی شکایت کی شکل میں وزارت ان کا مداوا کرتی ہے اور انہیں اس کاروائی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ رکن قومی اسمبلی زہرا ودود فاطمی نے کہا کہ وزارت کی کارکردگی صرف بریفنگ تک موجود ہے عملی طور پر بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو کوئی نہیں پوچھتا، لوگوں کو او پی ایف کی کارکردگی کا علم ہی نہیں، وزارت اس کام کو زیادہ سے زیادہ مشتہر کرے۔ رکن کمیٹی شاہداحمد نے بتایا کہ دبئی سمیت اوورسیز پاکستانیوں کو شکایت ہے کہ سفارتخانے سپورٹ نہیں کرتے، سعودی عرب میں کاروبار کرنے والے پاکستانیوں کے کروڑوں روپے پھنسے ہوئے ہیں، وکیل نہ ملنے کی وجہ سے معمولی جرائم میں پاکستانی لمبے عرصے کیلئے جیلوں میں موجود ہیں، دبئی میں پاکستانیوں سے ناروا سلوک رکھا جاتا ہے،جس پر حکام کا کہنا تھا کہ سفارتخانوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، سعودی عرب دبئی میں اوورسیز پاکستانیوں کی تعداد زیادہ جبکہ سفارتخانے میں افسران کی تعداد کم ہے، گلف میں صرف 14لیبر اتاشی ہیں۔ رکن قومی اسمبلی ذوالفقار علی ڈھلوں نے بتایا کہ وزارت اوورسیز کی نا اہلی کی وجہ سے پنجاب میں اوورسیز کمیشن پاکستان بنایا اس وقت دس بلین سے زائد پاکستانی بیرون ملک ہیں جو کہ اربوں روپے لگا کر بیرون ملک گئے ہوئے ہیں، وزارت کی ہاؤسنگ اسکیمیں ناکام ہو چکی ہیں، کاؤنٹر ایئرپورٹ پر موجود ہیں لیکن بندہ کوئی نہیں، اگر اوورسیز کام کرتی تو سعودی شہزادے کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ آج سے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر ہوں مطلب یہ تھا کہ پاکستانی سفیر کام نہیں کرتے۔

مزید : صفحہ آخر