لاہور سمیت ملک بھرمیں قتل کے مقدمات نمٹا نے کیلئے ماڈل کورٹس نے کام شروع کردیا

لاہور سمیت ملک بھرمیں قتل کے مقدمات نمٹا نے کیلئے ماڈل کورٹس نے کام شروع ...

لاہور،اسلام آباد(نامہ نگار،صباح نیوز)چیف جسٹس پاکستان آصف سعید خان کھوسہ کے حکم پرقتل کے مقدمات نمٹانے کے لئے لاہورسمیت ملک بھر کے 114 اضلاع میں میں سائلین کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لیے ماڈل کورٹس نے کام کا آغاز کردیا۔پہلے مرحلے میں پرانے کیسوں سے آغاز ہوگا۔ماڈل کورٹس میں قتل اور منشیات کے مقدمات کی سماعت ہو گی ۔ عدالتوں کی روزانہ مانیٹرنگ ہو گی۔ماڈل کورٹ لاہورکے جج ایڈیشنل سیشن جج سید فیض الحسن کومقرر کیا گیاہے ۔گزشتہ روز ماڈل کورٹ نے 2018کے زیرالتوا قتل کے پہلے مقدمے کافیصلہ بھی سنادیاہے۔ملزم عباس علی کے خلاف تھانہ شفیق آباد پولیس نے مقدمہ درج کررکھاتھا۔عدالت نے وکلاکے دلائل سننے کے بعد مذکورہ ملزم کو بری کرنے کا حکم جاری کردیا۔ماڈل کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہو گی اور فردجرم کے بعد 4 روز میں فیصلے کئے جائیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ خطرناک ملزمان کا جیل سے براہ راست بھی ٹرائل ہوگا۔عدالت میں ویڈیو لنک سسٹم قائم کردیا گیا ہے۔ماڈل کورٹ لاہورکے جج سید فیض الحسن نے کہا کہ وکلاء کے تعاون سے ماڈل کورٹ کوکامیاب کرائیں گے۔زیرالتوا مقدمات کو نمٹانا ان کی ترجیح ہوگی۔دریں اثناء گزشتہ روز ماڈل کورٹ کے پہلے دن کے موقع پر وکلا کا کہنا تھا کہ وہ تعاون کریں گے لیکن فردجرم کے بعد 4 روز میں فیصلہ ہونا ناممکن ہے۔ کیوں کہ اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوسکیں گے۔ ان عدالتوں کی روزانہ مانیٹرنگ ہوگی مانیٹرنگ کے لیے باقاعدہ سیل قائم کیا گیا۔جس کے سربراہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد سہیل ناصر مقرر کیے گئے۔ان عدالتوں میں تمام گواہوں کو پیش کرنے کی ذمہ داری پولیس کے سپردکی گئی۔تمام عدالتوں میں آن لائن بیان ریکارڈ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ ان تمام عدالتوں میں بڑی سکرین، کمپیوٹراور انٹرنیٹ کی سہولتیں فراہم کر دی گئیں۔ کلوز سرکٹ کیمرے بھی لگائے گئے۔پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی۔ان عدالتوں میں کسی بھی صورت التوا نہیں دیا جائے گا۔تمام ججز کو اضافی سیکیورٹی فراہم کر دی گئی۔ ان عدالتوں کی کارکردگی جانچنے اورسستے، فوری انصاف کی فراہمی پر13اپریل کو قومی جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب کرلیا گیاہے۔جس میں چاروں صوبوں کے چیف جسٹس، ماتحت عدلیہ کے تمام ججز بھی شریک ہوں گے۔

مزید : علاقائی