چیئرمین نیب کو کام سے روکنے کیلئے متفرق درخواست مسترد

چیئرمین نیب کو کام سے روکنے کیلئے متفرق درخواست مسترد

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین نیب اورنیب بیوروز کے اختیارات کے خلاف دائر درخواست کا فیصلہ آنے تک نیب کے چیئرمین کوکام سے روکنے کے لئے دائر متفرق درخواست مسترد کر دی جبکہ نیب آرڈیننس مجریہ1999ء اوراس کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کو کالعدم قراردلوانے کی بنیادی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیاہے۔درخواست گزار لائیرز فاؤنڈیشن فار جسٹس کے سربراہ اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ نیب آرڈیننس مجریہ1999 ء کو18ویں آئینی ترمیم میں تحفظ نہیں دیا گیا،یہ قانون اپنی مدت پوری کرچکاہے ،علاوہ ازیں قانون میں نیب بیورو کی تشکیل کا کوئی تصور موجود نہیں، نیب آرڈیننس میں نیب بیورو اور ممبران کی تقرری سے متعلق بھی کوئی شق موجود نہیں،نیب قانون خاموش ہے کہ کتنے ممبران بیورو کی تشکیل کریں گے اور ان ممبران کی تقرری کون کرے گا،نیب قانون کی مدت پوری ہونے کے باعث باڈی کے چیئرمین کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں،نیب آرڈیننس مجریہ1999 ء اوراس کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کو کالعدم کیا جائے ۔درخواست گزار نے ایک متفرق درخواست کے ذریعے استدعا کی کہ کیس کے حتمی فیصلے تک چیئرمین نیب کو کام کرنے سے روکا جائے تاہم یہ متفرق درخواست مسترد کردی گئی۔

درخواست مسترد

مزید : علاقائی