سندھ بھر میں نویں اور میٹر ک کے امتحانات کا آغاز، نقل مافیا سرگرم ، پیپر آؤٹ

سندھ بھر میں نویں اور میٹر ک کے امتحانات کا آغاز، نقل مافیا سرگرم ، پیپر آؤٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ بھرمیں نویں اورمیٹرک کے امتحانات کا آغاز ہو گیا ہے، رواں سال بھی سندھ سرکار نقل کی روک تھام میں بری طرح ناکام رہی،سکھر اور حیدر آباد بورڈ کے تحت ہونے والے پرچے وقت سے قبل ہی آؤٹ ہو گئے ۔وزیراعلی سندھ نے صوبے کے امتحانی مراکز سے میٹرک کے پرچے وقت سے پہلے آؤٹ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ چیئرمین بورڈ اور کمشنرز سے رپورٹ طلب کرلی۔تفصیلات کے مطابق اندرون سندھ میں نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات عملاً مذاق بن کر رہ گئے ہیں، امتحانی مراکز میں کتابوں، پھروں اور موبائل فون کا کھلم کھلا استعمال ہوا، پھرا مافیا کسی روک ٹوک کے بغیر امیدواروں کو کتابیں، حل شدہ پیپر اور دیگر مواد پہنچاتا رہا۔کراچی میں میٹرک بورڈ کے تحت ہونے والے پہلے پرچے میں امتحانی مراکز میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود طلباء نقل کا مواد اور موبائل فون استعمال کرتے دکھائی دیئے۔سکھر، میرپور خاص، لاڑکانہ اور شکار پور کے مختلف اسکولوں میں پیرکوہونے والا نویں جماعت کا سندھی کا پرچہ امتحان سے قبل ہی آؤٹ ہو گیا۔ شکارپور میں نویں جماعت کا سندھی زبان کا پرچہ آؤٹ ہو گیا۔ پرچہ امتحانی مراکز سے پہلے پھرا مافیا کے ہاتھوں میں تھا، امیدواروں نے کتابوں اور موبائل فون کا آزادانہ استعمال کیا۔ عمر کوٹ میں نویں جماعت کا انگریزی پرچہ بھی مذاق بنا رہا۔ کلاس روم میں پہنچنے سے پہلے پرچہ فوٹو اسٹیٹ کی دکانوں پر پہنچا جہاں پھرمافیا امتحانی مراکز کے باہر سرگرم اور انتظامیہ بے بس نظر آئی۔گھوٹکی اور کشمور میں بھی کھلے عام نقل چلی، موبائل فون کا آزادانہ استعمال ہوا۔ لاڑکانہ بورڈ کے زیر انتظام نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات میں بھی پھرامافیا سرگرم رہا۔ کشمور کے امتحانی مراکز میں مادری زبان اردو کے ساتھ کھلواڑ ہوا۔ امیدواروں نے جوابات کے لئے موبائل فون کا کھلے عام استعمال کیا۔ گھوٹکی میں حل شدہ پرچہ 200 سے 300 روپے میں بکتا رہا۔جیکب آباد کے امتحانی مراکز بھی پھرا مافیا کے زیر اثر رہے، نویں جماعت کے سندھی زبان کے پرچے میں امیدواروں نے واٹس ایپ کے زریعے پرچہ حل کیا۔ لاڑکانہ کے امتحانی مراکز میں بھی نقل عروج پر رہی۔ نویں جماعت کے پرچے میں امیدوار بلا خوف و خطر گائیڈز اور موبائل فون کے ذریعے پرچہ حل کرتے نظر آئے۔لاڑکانہ کے گورنمنٹ میونسپل اور پائلٹ ہائیر سیکنڈری اسکول میں نقل ہوتی رہی، چھاپہ مار ٹیمیں نہ پہنچ سکیں۔ بورڈ حکام نے نقل کی روک تھام کے لئے 25 چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے رکھی ہیں جو بے بس نظر آئیں، سکھر، خیر پور اور میرپورخاص میں بھی میٹرک کے پرچے آؤٹ ہوئے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے مختلف شہروں میں میٹرک کے پرچے آؤٹ ہونے کا نوٹس لے لیا اور متعلقہ چیئرمین بورڈ اور کمشنرز سے رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعلی سندھ نے ان سے پوچھا ہے کہ سوالیہ پیپر کیسے آؤٹ ہوا؟ اس میں کس کی غفلت تھی؟۔وزیراعلی سندھ نے امتحانی مراکز پر اچھے اور سخت انتظامات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ امتحانی پیپرز کے آؤٹ ہونا ناقابل برداشت ہے۔

مزید : صفحہ اول