قائد حزب اختلاف نے سندھ اسمبلی کا رول 143 چیلنج کردیا

قائد حزب اختلاف نے سندھ اسمبلی کا رول 143 چیلنج کردیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے اسمبلی رولز 143 کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیاہے۔پیرکوسندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں حکومت سندھ، وزیر خزانہ اور قانون و پارلیمانی امور کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہرسال جنوری تا مارچ پری بجٹ سیشن بلانا لازمی ہے، قوانین کے باوجود اجلاس نہیں بلایا گیا۔انہوں نے کہاکہ پری بجٹ اجلاس میں تمام ارکان تجویز دیتے ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ حکومت کو پری بجٹ اجلاس بلانے کا حکم دیا جائے۔بعدازاں عدالت کے باہر میڈیاسے بات چیت میں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پری بجٹ اجلاس بلانے کیلئے عدالت سے رجوع کیا ہے، اسمبلی میں بات نہیں سنی جا رہی ،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ رہا ہے، قوانین کے تحت پری بجٹ سیشن جنوری اور مارچ میں ہونا تھا۔انہوں نے کہاکہ اجلاس ملتوی کررہے ہیں 70سال میں سب سے طویل التواء دیا گیا، ہمیں پتہ ہے سندھ میں کس طرح لوٹ مار کی جا رہی ہے۔فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ خوف میں مبتلا پاپا اور پھوپھو گرفتار ہو جائیں گے۔ پپو کے بھی پکڑے جانے کا امکان ہے،بلاول بھٹو کے کرتوت بیان کے قابل نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ بے نظیر کی شہرت سے کوئی مسئلہ نہیں وہ قابل احترام ہیں ،بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سے سیاسی فائدہ اٹھایا جارہاہے۔فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ حواس باختہ اسپیکر اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ رول 143 بھول گئے ہیں۔فردوس شمیم نقوی کی گفتگو کے دوران وہاں موجود بعض افراد نے پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے حکومت پر تنقید کی تو اپوزیشن لیڈر گفتگو ادھوری چھوڑ کر روانہ ہوگئے۔

مزید : صفحہ اول