سیاحتی مقامات میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعہ انوسٹمنٹ کی جائیگی : محمود خان

سیاحتی مقامات میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعہ انوسٹمنٹ کی جائیگی : ...

پشاور (سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے میں ایک علیحدہ ٹورازم ایکٹ کے تحت صوبائی ٹوارزم اتھارٹی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ ٹوارزم ایکٹ کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں انٹیگرٹیڈ ٹورازم زونزبنائے جائیں گے ۔ صوبے بھرمیں 20 نئے سیاحتی مقامات کی پہلے سے نشاندہی ہو چکی ہے ۔ ان مقامات کو ٹور ازم ایکٹ کے تحت سیاحتی زونز میں تبدیل کیا جائے گا۔ انٹیگرٹیڈ ٹوارزم زونز کو وقتاً فوقتاً ضم شدہ قبائلی اضلاع تک بھی توسیع دی جائے گی۔ ان سیاحتی مقامات میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے انوسٹمنٹ کی جائے گی ۔ان سیاحتی مقامات میں سیاحوں کو تمام تر سہولیات ون ونڈ و آپریشن کے ذریعے فراہم کی جائیں گی ۔ ان سیاحتی مقامات کی تیز تر ترقی کیلئے وہاں پر سڑکوں کی تعمیر و بحالی ممکن بنائی جائے گی ۔ صوبے میں سیاحت کو ایک نئی انڈسٹری کی طرز پر فروغ دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا کو ہدایت کی کہ جون تک ٹورازم پولیس کی ٹریننگ مکمل کی جائے ۔ ٹورازم پولیس کیلئے موجودہ پولیس اہلکاروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور اُن کو تھائی لینڈ کی ٹورازم اتھارٹی کے ذریعے ٹریننگ میں معاونت فراہم کی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے ٹورازم ایکٹ کے تحت صوبے میں ٹورازم اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلا س میں سینئر صوبائی وزیر برائے سیاحت محمد عاطف خان، وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر قانون سلطان محمد خان، ایس ایم بی آر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ، سیکرٹری ٹورازم ودیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس کو ٹورازم ایکٹ ،ٹورازم اتھارٹی کے قیام اور صوبے بھر کے مختلف سیاحتی مقامات کی نشاندہی کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹوارزم ایکٹ کا مسودہ تیار ہے جس کو وزیراعلیٰ کی ہدایات کے مطابق حتمی شکل دے کر جلد صوبائی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ ایکٹ کے تحت صوبے میں سیاحتی مقامات کو ٹورازم زونز کا درجہ دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ٹورازم زونز میں سیاحوں کے لیے تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ زونز میں بین الاقوامی معیار کے ہوٹلز، بچوں کے لیے پارکس، گرین بیلٹس، کھیلوں کے میدان اور تمام تر سہولیات میسر کی جائیں گی۔سیاحو ں کیلئے نئے جیپ ایبل ٹریکس بنائے جائیں گے ۔ سیاحت کے فروغ کے لیے صوبے بھر میں اب تک 20 مقامات کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ وزیر اعلی نے سوات میں گبین جبہ، وادی درل، وادی منکیال، وادی بویون اور دریاے کندول کو سیاحتی خطوط پر ترقی دینے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے سوات میں جاروگو آبشار کو بھی سیاحتی مقام کے طور پر تیار کرنے کی ہدایت کی ہے ۔جاروگو بانڈہ آبشار، گبین جبہ، سید گئی جھیل، سولہ کند ویلی کو سیاحتی طرز پر آپس میں منسلک کیا جائے گا۔ان سیاحتی مقامات کو ضلع دیر سے بھی منسلک کیا جائے گا۔ سیاحتی مقامات پر پارکنگ اور ٹریکنگ روٹس بنائے جائیں گے ۔ چترال میں وادی بیر مغالشت، وادی گولان اور صوابی اور ضلع بونیر کے درمیان بیرگلی ریسٹورنٹ کو سیاحت کے فروغ کیلئے استعمال میں لایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواکو پاکستان کا سیاحتی مرکز بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اُٹھائیں گے ۔ٹورازم ایکٹ کے ذریعے صوبے میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ سیاحت کو پاکستان کی معیشت کا اہم حصہ بنائیں گے۔وزیر اعلیٰ نے ماحول دوست سیاحت کیلئے بین الاقوامی ماڈلز اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ سیاحتی مقامات کی ترقی سے مقامی آبادی کو فائدے کے ساتھ ساتھ صوبے کی معیشت اور وسائل بھی بڑھیں گے ۔

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پشاور میں مخلوط ٹریفک پر خصوصی توجہ دینے اور ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلی نے ٹریفک مینجمنٹ کو مزید بہتر کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو دو دنوں کے اندر علیحدہ اجلاس کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ مخلوط ٹریفک کی روانی میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس مقصد کیلئے ٹریفک مینجمنٹ کو بھی مزید بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ٹریفک کے حوالے سے عوام کو درپیش مشکلات جلد دور کی جائیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پشاور کیلئے جامع پلان تشکیل دیا جارہا ہے۔ جس کیلئے ٹاسک فورس کا نوٹیفکیشن تیار ہے۔ رواں ہفتے ہی اس کا پہلا اجلاس منعقد کیا جائے گا۔بس رپیڈ ٹرانزٹ منصوبے کے حوالے سے اجلاس وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں منعقد کی گئی۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، ویزراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ضم شدہ اضلاع و صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر، وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ،کمشنر پشاور، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، ڈی جی پی ڈی اے، ایس ایس پی ٹریفک اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیر اعلی نے بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی ٹائم لائن کے اندر تکمیل کی ہدایت کی اور کہاکہ جس مقصد کیلئے یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا، پورا ہونا چاہیئے، رکاوٹیں دور کی جائیں، روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت یقینی بنائی جائے، منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر کی گنجائش موجود نہیں۔ اجلاس میں بی آر ٹی منصوبے پر کام کی رفتار خصوصی طورپر مخلوط ٹریفک کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو بی آر ٹی منصوبے کے تینوں ریچز پرکام کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ کوریڈور تقریباً مکمل ہے۔ بس سٹیشن، واک ویز اور دیگر فیچرز پر بھی بیشتر کام تکمیل کے مراحل میں ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ بی آر ٹی پشاور میں ٹریفک مسائل کے حل اور عوام کی سہولت کیلئے شروع کیا گیا تھا اس منصوبے کی معیاری اور تیزرفتار تکمیل کیلئے تمام اداروں اور مشینری کو سو فیصد متحرک ہونا چاہیئے۔ منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔ بس سٹیشنز سمیت تمام کام ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے مخلوط ٹریفک مسائل کے دیرپا حل کیلئے مجوزہ اقدامات کی منظوری دی اورتیزرفتاری سے کام مکمل کرنے کی ہدایت کی۔اُنہوں نے کہاکہ جہاں کہیں مسئلہ درپیش ہو، فوری حل کیا جائے تاہم ٹریفک کی روانی برقرار رہنی چاہیئے۔

مزید : صفحہ اول