حالات کا جوانمردی سے مقابلہ کرنا بہادری کی نشانی ہے‘ عارف رؤف

حالات کا جوانمردی سے مقابلہ کرنا بہادری کی نشانی ہے‘ عارف رؤف

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) اچھے اور برے حالت قوموں اور اداروں پر آتے رہتے ہیں مگر حالات کا جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کرنا اور ہتھیار نہ ڈالنا بہادروں کی نشانی ہے تنخواہوں کے نہ ملنے پر ہڑتال اور احتجاج ڈبلیو ایس ایس سی کے ورکروں کا بنیادی حق تھا جو انہوں نے استعمال کیا مگر تنخواہوں کے نہ ملنے کی اصل وجہ کچھ اور تھی ڈبلیو ایس ایس سی کے اہلکار میرے ملازم نہیں اولاد کی طرح ہیں ان خیالات کا اظہار چیف ایگزیکٹیو ڈبلیو ایس ایس سی کوھاٹ عارف رؤف نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ ٹی ایم اے اور کے ڈی اے کے ملازمین ڈیپوٹیشن پر ڈبلیو ایس ایس سی کے پاس آئے ہوئے ہیں ان ملازمین کی سو فیصد تنخواہوں کی ادائیگی ڈبلیو ایس ایس سی کو کرنا ٹی ایم اے اور کے ڈی اے کی ذمہ داری ہے جبکہ ان ملازمین کو 20 فیصد الاؤنس دینا ڈبلیو ایس ایس سی کا کام ہے اب کے ڈی اکے کے تمام ملازمین کو تو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی ہوتی رہتی ہے مگر ٹی ایم اے سے آئے ملازمین کو فروری اور مارچ کی تنخواہیں نہ دی جا سکیں جس کی وجہ ٹی ایم اے کی جانب سے گزشتہ تین مہینوں سے اپنے ان ملازمین کی تنخواہیں ادارے کو نہ بھجوانا تھا اس حوالے سے متعدد بار ٹی ایم اے افسران کو کہا گیا مگر انہوں نے توجہ نہ دی آج الحمد اللہ بحیثیت چیف ایگزیکٹیو میں نے اور میری ٹیم نے یہ مسئل حل کر لیا ہے اور جلد تمام ملازمین کو مکمل تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی جبکہ فکسڈ ملازمین کو فروری کی تنخواہ ادا کر دی گئی ہے ایک اور سوال کے جواب میں چیف ایگزیکٹیو نے واضح کیا کہ چیف ایگزیکٹیو اور دیگر افسران کو تنخواہیں نہ ٹی ایم اے اور نہ کے ڈی اے سے ادا کی جاتی ہیں بلکہ ان کی تمام تنخواہیں صوبائی حکومت دے رہی ہیں کیوں کہ یہ کوئی پرائیویٹ کمپنی نہیں ہے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوھاٹ کی عوام کی اکثریت تو ڈبلیو ایس ایس سی کی کارکردگی سے مطمئن ہے مگر بعض افراد شروع دن سے ڈبلیو ایس ایس سی کو ختم اور ناکام کرنے کے درپے ہیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والے ہفتوں میں ڈبلیو ایس ایس سی کے اہلکارون کی کارکردگی مزید بہتر اور کوھاٹ خوب صورت دکھائی دے گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر