نئے قبائلی اضلاع میں اربوں روپے مالیت کی ترقیاتی سکیموں کے افتتاح اور سنگ بنیاد کے لئے تیاریاں مکمل

نئے قبائلی اضلاع میں اربوں روپے مالیت کی ترقیاتی سکیموں کے افتتاح اور سنگ ...

پشاور (سٹاف رپورٹر) صوبائی حکومت نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کی محرومیوں کے جلد ازالے، ان کو ریلیف دینے اور ان علاقوں کو تیزرفتار ترقی دینے کے لئے اربوں روپے مالیت کے متعدد نئے ترقیاتی منصوبوں کے سنگ بنیاد رکھنے جبکہ تکمیل شدہ منصوبوں کے باقاعدہ افتتاع کے لئے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ان ترقیاتی منصوبوں میں صحت، تعلیم ،سیاحت،کھیل، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، زراعت، آبپاشی، سڑکوں کی تعمیر اور بجلی کی فراہمی سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی وزراء عنقریب ان منصوبوں کا افتتاح کر یں گے یہ بات پیر کے روز پشاور میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہزاد بنگش کی زیر صدارت ایک اجلاس میں بتائی گئی۔ اجلاس میں ان ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور اور سنگ بنیاد سے متعلق تیاریوں اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیاگیا اور متعدد اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس کے فیصلوں کے مطابق زیادہ تر ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کی تقاریب اسی مہینے منعقدکی جائیں گی ۔متعلقہ محکموں کے انتظامیہ سیکرٹریوں اور دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ ڈونر ایجنسیوں کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ ضم شدہ اضلاع میں عنقریب شروع، افتتاح کئے جانے والے ان ترقیاتی سکیموں میں ڈونر ایجنسیوں کی عالمی معاونت سے شروع کئے جانے والے منصوبوں کے علاوہ صوبائی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے منصوبے بھی شامل ہیں ۔ڈونر ایجنسیوں کی عالمی معاونت سے شروع کئے جانے والے منصوبوں میں 7.78 کلومیٹر لمبی جمرود روڈ بائی پاس روڈ سمیت 24 کلومیٹر لمبی ترغان یکہ ذیارت روڈ کی تعمیر، 30 کلومیٹر لمبی آسل تار غور روڈ کی تعمیر، 25 کلومیٹر لمبی باڑہ تا مستک روڈ کی بحالی 18 کلومیٹر لمبی غلجو ڈبوری روڈ کی بحالی، خار گریڈ اسٹیشن کی تعمیر، تیمرگرہ تاخار 33 کلو میٹر ٹرانسمیشن لائن 66 کلو واٹ جنڈولہ گریڈ سٹیشن کی 132 کلوواٹ میں اپ گریڈیشن ،باجوڑ، خیبر، مہمنڈ اور ایف آرریجنز میں پینے کے پانی کی فراہمی اور زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل ایف ار پشاور اور کوہاٹ میں بیس سکولوں کی تعمیر، اورکزئی میں 11 سکولوں کی تعمیر ،کرم میں 22 سکولوں کی تعمیر، باجوڑ خیبر اور مہمند میں آبپاشی کے منصوبوں کی تعمیر ، کرم میں دو مراکز صحت کی تعمیر، کرم اور جنوبی وزیرستان میں 91 سکولوں کی بحالی شمالی وزیرستان میں 50 کمیونٹی فزیکل انفراسٹرکچر کی تعمیر جنوبی وزیرستان، کرم اور اورکزئی میں1900 ایکڑ زرعی زمین کی بحالی، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں21 پھل دار پودوں کی نرسری کا قیام، خیبر، اورکزئی، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پولٹری انٹرپرائزز کا قیام، خیبر، اورکزئی، جنوبی اور شمالی وزیرستان میں 100 ملک سیل پوائنٹ کا قیام، کرم، اورکزی، خیبر، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں 150 کمیونٹی فیزیکل انفراسٹرکچر کی تعمیر، اورکزی، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں 166884 افراد کے لیے کیش فارورک، سکیم کا اجراء اور کرم اورکزی، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں 420،432افراد کے لئے فوڈ فار ورک سکیم افراء شامل ہیں۔ جبکہ صوبائی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل اہم منصوبوں میں باجوڑ میں سات پرائمری, 3 مڈل اور ایک ہائی سکول کی اپگریڈیشن, خیبر میں 17 کمیونٹی سکولوں کی ریگولرائزیشن، خیبر میں پانچ مڈل سکولوں کا قیام، اورکزئی میں پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کا قیام، شمالی وزیرستان میں19 پرائمری سکولوں, 2 مڈل سکولوں اور ایک ہائی سکول کے اپ گریڈیشن, ضم شدہ اضلاع کے طلباء و طالبات کے لیے سکالر شب کی فراہمی ، قبائلی اضلاع میں ٹیلی میڈیسن سروس کا اجراء اور ضروری ایمرجنسی ادویات کی فراہمی ،7 ڈی ایچ کیو اور چار ٹی ایچ کیو ہسپتالوں میں طبی آلات کی فراہمی, محکمہ صحت کے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کے ضم شدہ اضلاع تک توسیع ،ضم شدہ اضلاع کے 25 سب ڈویژن میں ایک ایک سپورٹس گراونڈ کی تعمیر، ان اضلاع میں میونسپل سروسز کی فراہمی، 300 مساجد کی شمسی توانائی پر منتقلی, موجودہ ایجنسی اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی شمسی توانائی پر منتقلی، تمام قبائلی اضلاع میں لیوی پوسٹوں, پیکٹس اورلاک آ پس کی تعمیر گومل زام ڈیم، میں ٹورسٹ ریزورٹ کی تعمیر، وانا میں ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا قیام اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کا قیام وغیرہ شامل ہیں. واضح رہے کہ ضم شدہ قبائیلی اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کا اجراء محکمہ تعلیم کے انیڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی توسیع اور دیگر منصوبے پہلے سے شروع کیئے جاچکے ہیں۔ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش نے کہا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کی تیز رفتار ترقی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ جس کے لیے فنڈز کی کمی کو کبھی آڑے آنے نہیں دی جائے گی. متعلقہ محکموں کو چاہیے ۔کہ وہ حکومت کے اس ترجیحی ایجنڈے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کریں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنائے تاکہ ان کے ثمرات جلد سے جلد عوام تک پہنچ سکیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر