ٹھیکیداروں پر خصوصی مہربانی ، نشتر: ڈاکٹر عاشق ملک کی ایک اور کرپشن کہانی بے نقاب

ٹھیکیداروں پر خصوصی مہربانی ، نشتر: ڈاکٹر عاشق ملک کی ایک اور کرپشن کہانی بے ...

ملتان( وقا ئع نگار )نشتر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عاشق ملک نے سابقہ تعیناتی کے دوران پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے(بقیہ نمبر50صفحہ12پر )

اپنے پسندیدہ ٹھیکیداروں کو نوازنے کیلئے عمارتوں کی تعمیر ومرمت میں لاکھوں روپے کی غیر قانونی ادائیگیاں کیں۔جبکہ اس غیر قانونی عمل میں سابقہ ڈائریکٹر فنانس نشتر ہسپتال بھی پیش پیش رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عاشق ملک جس کے خلاف اینٹی کرپشن نے پہلے بھی کرپشن کے الزامات پر متعدد مقدمات کا اندراج کیا ہوا ہے نشتر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عاشق ملک نے اپنی سابقہ تعیناتی کے دوران اپنے پسندیدہ ٹھیکیداروں کو نوازنے کے لئے پیپرا رولز کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچاتے ہوئے انہیں 25 لاکھ چھیانوے ہزار روپے سے زائد کی ادائیگیاں کئیں۔ یہ ادائیگیاں مقابلے کی فضا پیدا کئے بغیر مختلف عمارتوں کی تعمیر و مرمت کے 73 ٹھیکوں کو اس وقت کے ڈائریکٹر فنانس ضیا بندیشہ کی ملی بھگت سے پسندیدہ ٹھیکیداروں کو دے کر کی گئیں اور اس سلسلے میں اشتہار نہ تو پیپرا کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا نہ قومی اور مقامی اخبارات کو جاری کیا گیا اشتہار اور مقابلے کی فضا سے بچنے کے لئے تعمیر و مرمت کے کام کو 73 حصوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر حصے کا تخمینہ لاگت پچاس ہزار سے کم رکھا گیا۔ یہ ٹھیکے مالی 2015۔2016 میں دئیے گئے اس ضمن میں جب آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی ٹیم جب ہسپتال کے متعقلہ مالی سال کا آڈٹ کرنے پہنچی تو پتہ چلا کہ اخراجات کہ مد میں بے ضابطگیاں کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ہے یہ ادائیگیاں کام کو متعدد حصوں میں تقسیم کر کے بغیر اشتہار کے کی گئیں تاکہ مجاز اتھارٹی سے منظوری نہ لینی پڑے اور مقابلے کی فضا سے بچا جا سکے آڈٹ نے دو لاکھ پنتالیس ہزار کے تین بلوں کا بطور خاص ذکر کیا جو لوہے کے گیٹوں کی خریداری کے حوالے سے تھے اور کہا یہ ادائیگیاں 'دیگر' کے اکاؤنٹ سے ہونی چاہیں تھیں لیکن آفس بلڈنگ کی تعمیر و مرمت کے اکاؤنٹ سے یہ ادائیگیاں کی گئیں جو کہ اخراجات کی غلط تقسیم ہے۔ جبکہ منظوری دینے والی اتھارٹی کے ان سینکشن آرڈرز بلوں پر دستخط بھی موجود نہ تھے۔ اسی طرح ٹھیکیداروں سے دس فیصد پرفارمینس گارنٹی بھی وصول نہ کی گئی۔ جب آڈٹ ٹیم نے جن کوارٹروں کی تعمیر و مرمت کا دعویٰ کیا گیا تھا کا معائنہ کیا تو وہ بہت بری حالت میں تھے اس پر آڈٹ ٹیم نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ تعمیر و مرمت کا کام سرے سے ہوا ہی نہیں ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے ان اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اٹانومس ایکٹ 2003 کے تحت عمارات کی معمولی مرمت جس پر پچاس ہزار سے کم اخراجات ہوتے ہوں کا ٹھیکہ تین مقامی فرموں میں سے جس فرم کے ریٹ سب سے کم ہوں کو جاری کیا جا سکتا ہے تاہم آڈٹ ٹیم اس جواب سے مطمئن نہ ہوئی اور ان کا کہنا تھا اخراجات کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے پیپرا رولز کے مطابق ٹینڈرنگ کے عمل سے بچا گیا ہے اور جان بوجھ کر خلاف ورزی کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر نو کمپنیوں کو نوازا گیا جن سے میسرز ملک مجید اینڈ کمپنی کو تیرہ اور میسرز شفیق بلڈرز اور میسرز غلام یسین (مظفرگڑھ) کو پندرہ پندرہ، میسرز ایم ذکی احمد کو نو، میسرز عبدالحمید بٹ کو پانچ، میسرز ہنی بلڈرز اور ایم اقبال ملک کو چھ چھ، میسرز رانا انٹرپرائز کو تین اور میسرز فاروق فہیم اینڈ کمپنی کو ایک ٹھیکہ دیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے جواب کو رد کرتے ہوئے آڈٹ کا کہنا تھا پیپرا رولز 2014 کے رول نمبر 12 کے تحت پروکیورنگ ایجنسی پورے مالی سال کے لئے اپنی مجوزہ خریداری/کام کا اعلان کرے گی اور اسے گروپوں اور حصوں میں تقسیم نہیں کرے گی۔ اپنی سالانہ ضرورت/کام کا اشتہار پیپرا اور اپنی ویب سائٹ جبکہ بیس لاکھ سے زائد مالیت کی ضرورت/کام کا اشتہار پرنٹ میڈیا/اخبارات (لازمی طور پر ایک انگریزی اور ایک اردو اخبار) کو بھی جاری کیا جائے گا۔ آڈٹ کا مزید کہنا تھا فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ایک چٹھی کے مطابق کوئی سرکاری ادارے نان ایکٹو ٹیکس دہندہ سے کوئی خریداری نہیں کرے گا جبکہ یہ ٹھیکے دیتے وقت ان شرائط کی خلاف ورزی کی گئی جبکہ ان کاموں کی پیمائش کا اندراج نہ تو مائیرمں ٹ بک اور نہ سٹاک رجسٹر میں کیا گیا۔ ٹھیکدار جنہیں کام ایوارڈ کیا گیا تھا ایکٹو ٹیکس دہندہ نہ تھے، آڈٹ کو میسرز غلام یسین کا جو ایف بی آر کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ فراہم کیا گیا وہ ایف بی آر نے پانچ مارچ 2014 کو جاری کیا تھا اس طرح وہ مالی سال 2015۔2016 کا ایکٹیو ٹیکس دہندہ نہ تھا اسی میسرز محمد شریف کا اپریل نو 2013 کا سرٹیفکیٹ فراہم کیا گیا جبکہ میسرز محمد فاروق فہیم کا صرف 27 مئی 2004 کا نیشنل ٹیکس نمبر فراہم کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایسا کرنا ڈائریکٹر فنانس ضیاء4 بندیشہ کی ملی بھگت کے بغیر ناممکن تھا کیوں کہ ڈائریکٹر فنانس کے دفتر کا کام پری آڈٹ کرنا ہوتا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی مالی بے ضابطگی کی مرتکب نہ ہو۔

مزید : ملتان صفحہ آخر