سید علی موسی ، علی حیدر گیلانی نے شاہ محمود قریشی کو نشانے پر لے لیا

سید علی موسی ، علی حیدر گیلانی نے شاہ محمود قریشی کو نشانے پر لے لیا

ملتان ( نیوز رپورٹر) پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی سید علی موسی گیلانی ،سابق رکن صوبائی اسمبلی سید علی حیدر گیلانی نے کہا ہے کہ انگریزوں کے ساتھ وفاداریاں نبھاکر میر جعفر و میر صادق کا کردار ادا کرنے والے عمران خان کے ساتھ بھی کبھی مخلص نہیں رہیں گے میرے والد سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے اپنی حد میں رہیں ورنہ ماضی ان کا پوری قوم کے سامنے گواہ ہے کہ قریشی خاندان نے ہمیشہ(بقیہ نمبر12صفحہ12پر )

اقتدار و دولت کی خاطر انگریزوں کے ساتھ وفا کی اور انہی سے دستار بندیاں کرائیں، بار بار جماعتیں بدلیں ، درباروں پر بھی انگریز سرکار کی آشیر باد سے قبضہ کیا لیکن گیلانی خاندا ن 31 سالوں سے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے علی حیدر گیلانی کے اغوا کے مشکل ترین دور میں بھی پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا آج کیسے چھوڑ سکتے ہیں بار بار وفاداریاں بدلنے والے پرانی تنخواہ پر پی ٹی آئی میں چلے گئے جبکہ مخدوم مرید حسین قریشی نے کہا کہ مخدوم شاہ محمود قریشی وزیر نہیں کچھ اور بننے گئے تھے صوبائی حلقہ 218کے ضمنی الیکشن میں کھلے عام حکومتی سرکاری مشینری استعمال کی گئی صوبائی وزیر ڈاکٹر اختر ملک پولنگ کیمپ میں دن بھر بیٹھ کر پی ٹی آئی امیدوار کی کامیابی کے لئے علاقہ کے بعض افراد کو ڈرا دھمکا کر ووٹ ڈلواتے رہے مخدوم شاہ محمود قریشی کا نام بڑا ہے لیکن ظرف کے چھوٹے ہیں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، زرداری، گیلانی کے احسانات کو بھی بھول گئے جن کی وجہ سے انہیں سیاست میں نام ملا ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ گیلانی ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے مشترکہ امیدوار ملک ارشد راں بھی ان کے ہمراہ تھے سید علی موسی گیلانی نے مزید کہا کہ مخدوم شاہ محمود قریشی پہلے (ن) لیگ کے ساتھ رہے پھر پیپلز پارٹی میں آئے بعدازاں اقتدار کی خاطر پی ٹی آئی کے دروازے پر پرانی تنخواہ پر چلے گئے مخدوم شاہ محمود قریشی کو یہ تکلیف ہے کہ جنرل الیکشن میں اس حلقہ میں ایک ہزار ووٹ سے میں جیت چکا تھا اور ان کی سیاست ختم کردی تھی اب اگر میرے بھائی سید عبد القادر گیلانی نے این اے 154 کا حلقہ کھولنے کی درخواست بھی اس لئے کی کہ ان کے ساتھ دھاندلی ہو ئی اور پی ٹی آئی کے بیگ میں پیپلز پارٹی کا ووٹ تھا اور (ن) لیگ کے ووٹ بھی ان کے بیگ سے نکلے تھے لیکن جب الیکشن کمشن کو مذکورہ حلقہ کھولنے بارے درخواست دی تو متعلقہ آر او نے کہا کہ صرف دو تین بیگ کھلوا لیں جس پر ہم نے ری کاؤنٹنگ کا بائیکاٹ کردیا قریشی خاندان چڑھتے سورج کے پجاری ہیں جنہوں نے پاکستان بنانے والوں کے ساتھ وفا نہیں کی عمران خان کے ساتھ کیسے وفا کرسکتے ہیں ان کا تو شروع سے ہی انگریز سرکارکی چاکری کرنا ہے انہوں نے کہا کہ مخدوم شاہ محمود قریشی ڈسٹرکٹ کونسل کا الیکشن بھی ہار گئے لیکن میرے والد سید یوسف رضا گیلانی انہیں سیاست میں لے آئے لیکن مخدوم شاہ محمود قریشی نے نہ بے نظیربھٹو کے ساتھ وفا کی نہ زرداری کے ساتھ بلکہ وہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں چلے گئے ان کی بے وفائی کی تاریخ کتابوں میں بھری پڑی ہے مخدوم شاہ محمود قریشی سازشی شخص ہیں عمران خان ان سے بچیں اگر ان کا دامن اتنا ہی صاف ہے تو وہ دیانتداری سے حلف دیں کہ ملک احمد حسین ڈیہر نے کتنے حلا ل پیسوں سے ان سے ٹکٹ لی وہ اس کا جواب دیں یہ گیلانی خاندان ہی ہے جن پر اس سے بڑا مشکل وقت اور کیا آسکتا تھا کہ علی حیدر گیلانی 2013 کے الیکشن میں اغوا ہو گئے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت آگئی میرے والد کو کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کی رہائی کے لئے جماعت تبدیل کرلیں لیکن میرے والد مستقل مزاج انسان ہیں جنہوں نے ثابت کردیا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان کرسکتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی سے بے وفائی نہیں کرسکتے معمولی اقتدار کی خاطر وفاداریاں تبدیل کرنا قریشی خاندان کا وطیرہ ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے حالیہ جنرل الیکشن میں پونے تین لاکھ کے قریب ووٹ لئے اور پی پی کا زیادہ تر ووٹ دیہی حلقہ میں ہے لیکن حالیہ ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے مشترکہ امیدوار ملک ارشد راں کو حکومتی آشیر باد پر سرکاری مشینری کے بے دریغ استعمال اور علاقہ کے لوگوں پر زبردستی دباؤ ڈال کر ووٹ پی ٹی آئی کے امیدوار کو ڈلوایا گیا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل کو سید عبد القادر گیلانی نے دھاندلی کے خلاف درخواست دی لیکن کوئی کاروائی نہیں ہوئی چند سالوں میں ملک احمد حسین ڈیہڑ کے پاس کہاں سے اتنا پیسہ آگیا اس پر بھی نیب خاموش ہے ایک اور سوال کے جواب میں سید علی موسی گیلانی نے کہا کہ ہم نے اپنے امیدوار کی حمایت کے لئے انتخابی مہم چلائی تو کیا ہم مخالفین کی کامیابی کے لئے لوگوں سے ووٹ مانگتے اس پر مخدوم شاہ محمود قریشی اتنے سیخ پا کیوں ہیں پیپلز پارٹی آج بھی ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہے انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جس تبدیلی کے نام پر لوگ ووٹ ڈال کر رات نو بجے اپنے گھروں کو گئے اس وقت انہیں پٹرول میں چھ روپے کے اضافے کی نوید ملی اس کے لئے قوم کو سوچنا چاہیئے لیکن پیپلز پارٹی عوام کے حقوق کے لئے ہر سطح پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی انہوں نے کہا کہ بھٹو آج اس لئے زندہ ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے خاندان نے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے حقیقی معنوں میں کام کئے ۔

نازیبا زبان

مزید : ملتان صفحہ آخر