ایس آر او 237 فی الفور واپس لیا جائے‘ پروگریسو گروپ

ایس آر او 237 فی الفور واپس لیا جائے‘ پروگریسو گروپ

لاہور(پ ر) لاہور ایوان صنعت و تجارت کے ممبران پر مشتمل پروگریسو گروپ نے وزیر اعظم عمران خان، وزیر خزانہ اسد عمر اور مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس آر او 237 فی الفور واپس لیا جائے جو کہ درآمد کنندگان کے لئے مالی و ذہنی مسائل کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ اس سیکٹر سے بالواسطہ اور بلا واسطہ منسک سینکڑوں افراد کی بے روز گاری کا سبب بن سکتا ہے۔ حکومت کو کسی بھی ایسے فیصلے سے پہلے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ساتھ چیمبرآف کامرس سے بھی مشاورت کرنی چاہیے تاکہ تجارت اور معیشت کا پہیہ چلتا رہے اور لوگو ں کو اعلی معیار کی اشیائے ضروریہ مناسب قیمت پر ملتی رہیں۔پروگریسو گروپ کے صدر اور لاہور ایوان صنعت و تجارت کی مجلس عاملہ کے رکن خالد عثمان، محمد ارشد چوہدری، عبدالودود علوی اور دوسروں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں درآمد کنندگان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے یکطرفہ فیصلے سے ایماندار درآمد کنندگان مالی بحران کا شکار ہو کہ رہ گئے ہیں کیونکہ سینکڑوں کنٹینرز پورٹ پر کلئیرنس کے منتظر ہیں جبکہ سینکڑوں ہی راستے میں ہیں اور ایک بڑی تعداد ان اشیاء کی تیار کنندہ ملکوں میں پڑی ہیں۔ نہ صرف کے یہ چیزیں پڑی پڑی خراب ہونا شروع ہو گئی ہیں بلکہ درآمد کنندگان کو ہزاروں روپے روزانہ کا جرمانہ بھی دینا پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف مارکیٹ میں درآمد شدہ معیار سامان کی قلت بھی پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔پروگریسو گروپ کے عہدیداران نے مزید کہا کہ ایماندار درآمدکنندگان کڑوڑو ں روپے سالانہ ٹیکس بھی دیتے ہیں اور اس طرح کے فیصلہ سے نہ صرف حکومت ریونیو سے محروم ہوکی بلکہ سمگلرز کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی جو نہ صرف بغیر کسی ٹیکس کے چیزیں درآمد کرتے ہیں بلکہ مارکیٹ میں جعلی چیزوں کے ذریعے عوام کو بھی دھوکہ دیتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت انیس فروری سے پہلے درآمد کئے گئے اور آرڈر کئے گئے سامان کو کلےئر کرنے کے لئے کسٹمز حکام کو احکامات جاری کرے اور ساتھ ہی ساتھ درآمدکنندگان کو تیس جون تک کا وقت اس نئے ایس آر او پر عملدرّمد کے لئے فراہم کرے۔

Back t

مزید : کامرس