قومی اسمبلی کا الیکشن مجھے ہروایا گیا، چوہدری نثار

قومی اسمبلی کا الیکشن مجھے ہروایا گیا، چوہدری نثار

لاہور(پ ر) چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں الیکشن 2018ء کے نتائج کے بارے میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں جزوی طور پر ان سے اتفاق کرتے ہوئے صرف اتنا کہنا چاہوں گا جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ آدھا سچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں قومی اسمبلی کے الیکشن میں ہراویا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ یہ بھی بتا دیتے یہ سب کچھ ان کے ساتھ کس نے اور کیوں کیا ہے ۔ پورا سچ یہ ہے کہ یہ الزام وہ الیکشن کمیشن اور حلقہ عوام سمیت جس کسی پر بھی لگا رہے ہیں اس نے انہیں قومی اسمبلی میں ہروایا نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی میں جتوایا ہے جس پر انہیں بجا طور پر اس کا احسان مند ہونا چاہئے۔ این اے 63میں بیٹھ کر انہوں نے این اے 59اور پی پی 10کی جن یونین کونسلز کے نتائج کو اپنی دلیل کے حق میں بطور ثبوت پیش کیا ہے، وہی غیر معمولی نتائج دراصل میری بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ حیرت انگیز نتائج این اے 59کے نہیں بلکہ پی پی 10کے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہر پولنگ سٹیشن پر قومی اسمبلی میں بری طرح ہارنے والا امیدوار اسی انتخابی نشان پر صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر رہا ہو جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار بھی تعداد میں زیادہ اور مقامی ہوں۔ یہی اصل جادو تھا اور بجائے اس کے کہ وہ عامل کے شکر گزار ہوتے، وہ صوبائی اسمبلی کا حلق نہ اٹھا کر کفران نعمت کر رہے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی خوف اور ہچکچاہٹ نہیں کہ جس وجہ سے وہ صوبائی اسمبلی میں جانا چاہتے تھے وہ پنجاب میں جیپ کے عبرتناک شکست کے بعد اپنی موت آپ مر گئی تھی۔ یہ بزداروں کی اپنی قسمت تھی کہ پورا ملک جیپوں کا قبرستان بن گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ این اے 59اور پی پی 10میں مسلم لیگ نون کے نمائندے کی حیثیت سے اپنے دور حکومت میں لئے گئے بیرونی قرضوں کے بارے میں ان کے بیان کے حصے کو مسترد کرتے ہوئے یہ وضاحت کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میری اور ان کی حکومت نے اپنے دور میں جو قرضے لئے تھے ان سے بنائے گئے کھربوں روپے کے ت وانائی اور انفراسٹرکچر منصوبے آج عوام کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں اور ملک عزیز کے ان گراں قدر اثاثوں کی قیمت دن بدن بڑھ رہی ہے۔ صرف ایک مثال سے واضح کرتا چلوں کہ حویلی بہادر اور بھیکی گیس پاور پلانٹ جو ہم نے صرف سو ارب روپے سے بنائے تھے آج سعودی عرب کو ساڑھے پانچ سو ارب روپے میں بیچنے کی بات چل رہی ہے۔ اسی طرح میٹرو بس، اورنج ٹرین، موٹر ویز، ہائی ویز اور پاور پراجیکٹس سمیت درجنوں منصوبوں کی قیمت اپین لاگت سے کئی گنا بڑھ چکی ہے جو ریاست کا قیمتی اثاثہ بننے کے ساتھ ساتھ عوام کو سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ہاں موجودہ حکومت کے آٹھ ماہ میں ایک اینٹ لگائے بغیر بیرونی قرضوں میں ڈھائی ارب روپے کا جو اضافہ ہوا ہے اس بابت ان کے بیان کی میں پر زور تائید کرتا ہوں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر