دنیا میں ہماراتاثر اچھا نہیں جارہا،نیوزی لینڈسے سیکھیں اقلیتوں کا تحفظ کیسے ہوتا ہے ،چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ

دنیا میں ہماراتاثر اچھا نہیں جارہا،نیوزی لینڈسے سیکھیں اقلیتوں کا تحفظ کیسے ...
دنیا میں ہماراتاثر اچھا نہیں جارہا،نیوزی لینڈسے سیکھیں اقلیتوں کا تحفظ کیسے ہوتا ہے ،چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نومسلم بہنوں کے تحفظ سے متعلق کیس میں چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ دنیا میں ہماراتاثر اچھا نہیں جارہا،وفاقی اور صوبائی حکومت مسئلے کو سنجیدہ کیوں نہیں لے رہی ؟سمجھ نہیں آرہی حکومت مسئلے کو کیوں حل نہیں کرنا چاہتی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ریاست کا رویہ بہت مایوس کن ہے ،نیوزی لینڈسے سیکھیں اقلیتوں کا تحفظ کیسے ہوتا ہے ،اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ نظر بھی آنا چاہئے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں نومسلم بہنوں کے تحفظ سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے،اسلام آباانتظامیہ نے آسیہ اورنادیہ کو عدالت پیش نہیں کیا ،دونوں بہنوں کے شوہر صفدراور برکت کمرہ عدالت میں موجودہیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ سیکرٹری داخلہ اور چیف سیکرٹری کدھر ہیں ؟عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری داخلہ کیوں نہیں آئے ۔چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے کہا کہ سندھ کے صرف ایک ضلع میں ایسا کیوں ہو رہا ہے ،اسلام اقلیتوں کے تحفظ کا درس دیتا ہے ،ریاست اس مسئلہ کو ہلکا کیوں لے رہی ہے؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ دنیا میں ہماراتاثر اچھانہیں جارہا،وفاقی اور صوبائی حکومت مسئلے کو سنجیدہ کیوں نہیںلے رہی ؟سمجھ نہیں آرہی حکومت مسئلے کو کیوں حل نہیں کرنا چاہتی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست کارویہ بہت مایوس کن ہے ،عدالت نے کہا کہ نیوزی لینڈسے سیکھیںاقلیتوں کا تحفظ کیسے ہوتا ہے ،اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ نظر بھی آنا چاہئے،وفاقی کی جانب سے ایسا بندہ پیش ہواجس کو کچھ پتہ نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اس پر عمل کیا جائے ،اسلام آبادانتظامیہ نے ہائیکورٹ میں میڈیکل رپورٹ پیش کردی۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ تاثر ختم کرنا ہے اقلیتوںکے حقوق محفوظ نہیں، لڑکیوں کے والد کے وکیل کا کہا کہ میڈیکل بورڈتشکیل دینا کا حکم دیا جائے۔چیف جسٹس نے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمش کمارکو روسٹرم بلاتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے فلور پر معاملہ کیوں نہیں اٹھایا،رمیش کمار نے کہا کہ معاملے کو اسمبلی میں لےکر جا رہے ہیں ،چیف جسٹس نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں کیا ہواآپ نے دیکھا؟ یقینی بنانا چاہتے ہیں زبردستی مذہب کی تبدیلی نہ ہو،عدالت نے کہا کہ سندھ کے صرف ایک ضلع میں ایسے واقعات کیوں پیش آرہے ہیں۔چیف جسٹس نے وکلا سے کہا کہ معاملے کا حل کیاہو سکتا ہے وکلا تجاویز دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک رپورٹ جو پیش کی گئی پبلک نہیں کرناچاہتا،سیریس معاملہ ہے دو حکومتیں اس کا حل نہیں نکال رہیں ،آج یہاں آجاتے تو اس کا حل ہمارے سامنے ہوتا،وکلا نے کہا کہ کسی سیشن جج کو مانیٹرنگ جج مقررکردیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد