قانون سازی ہی کوئی راستہ بنا سکتا ہے عدالت کے پاس اختیار نہیں، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ ریمارکس کونسے کیس میں دیئے ؟ جانئے

قانون سازی ہی کوئی راستہ بنا سکتا ہے عدالت کے پاس اختیار نہیں، چیف جسٹس آصف ...
قانون سازی ہی کوئی راستہ بنا سکتا ہے عدالت کے پاس اختیار نہیں، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ ریمارکس کونسے کیس میں دیئے ؟ جانئے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے دہشتگردی کی تعریف اور دہشتگردی کے مقدمے میں صلح سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صلح تو کسی بھی وقت ہو سکتی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھنا ہے کہ دہشتگردی کے مقدمے میں صلح ہو سکتی ہے ۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ دہشتگردی کی تعریف کا معاملہ بہت وسیع ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے مقدمے میں صلح نہیں ہو سکتی ، انسداد دہشتگردی کا قانون صلح کی اجازت نہیں دیتا ہے ، فریقین کے مابین صلح پر قانون کو بدلا نہیں جا سکتا ۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیس کی سماعت ہو چکی ، نئے شواہد ،راضی نامے پر کس قانون کے تحت سنا جائے ؟ قانون سازی ہی کوئی راستہ بنا سکتا ہے عدالت کے پاس اختیار نہیں ۔

مزید : قومی