داعش کا کارکن اسامہ بن بیبر، اس کا یہ عجیب نام کیوں رکھا گیا؟ جان کر آپ کو بھی حیرت ہوگی

داعش کا کارکن اسامہ بن بیبر، اس کا یہ عجیب نام کیوں رکھا گیا؟ جان کر آپ کو بھی ...
داعش کا کارکن اسامہ بن بیبر، اس کا یہ عجیب نام کیوں رکھا گیا؟ جان کر آپ کو بھی حیرت ہوگی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) باقی مغربی ممالک کی طرح برطانیہ سے بھی متعدد لوگ فرار ہو کر شام پہنچے اور داعش میں شمولیت اختیار کی۔ انہی میں سے ایک محمد اسماعیل نامی نوجوان بھی شامل تھا جس کے متعلق اب ایک ہولناک انکشاف سامنے آ گیا ہے۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق محمد اسماعیل دو سال تک داعش کے ساتھ مل کر لڑتا رہا لیکن 2016ءمیں داعش نے ہی اسے امریکی جاسوس قرار دے کر قتل کر دیا۔

محمد اسماعیل 2014ءمیں برطانیہ سے فرار ہو کر شام پہنچا تھا جب اس کی عمر صرف 18سال تھی۔ داعش کے شمولیت پر اس کا عرف عام ’اوسامہ بن بیبر‘ رکھا گیا۔اس عجیب نام کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ محمد اسماعیل ظاہری شکل و صورت سے بہت وجیہہ تھی اور وہ امریکی گلوکار جسٹن بیبر سے کسی حد تک مشابہت رکھتا تھا جس کی وجہ سے داعش کے لوگوں نے اس کو یہ عرف عام دے دیا۔

کرد جنگجوﺅں کی قید میں موجود داعش کے ریکروٹر حمزہ پرویز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”اسامہ بن بیبر امریکی خفیہ ایجنسیوں کو داعش کے بڑے رہنماﺅں کی موجودگی کی جگہ کے متعلق مخبری کرتا تھا۔ اسی نے داعش کے سرکردہ ریکروٹر نصر موتھانا کے متعلق مخبری کی اور امریکی فوج نے موصل میں ڈرون حملہ کرکے اسے ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد اسامہ کو گرفتار کر لیا گیا جس نے دوران تفتیش سب کچھ اُگل دیا۔ اس کے بعد اسے شام کے شہر رقہ میں سزائے موت دے دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق نصر موتھانا کا تعلق بھی برطانیہ کے شہر کارڈف سے تھا ۔حمزہ پرویز نے بتایا کہ اسامہ بن بیبر پہلا برطانوی شہری تھا جسے داعش نے جاسوس قرار دے کر سزائے موت دی۔حمزہ نے بیرون ملک سے آ کر داعش میں شامل ہونے والوں کے متعلق بتایا کہ ان میں سے اکثر یہی کہا کرتے تھے کہ اگر انہیں داعش کی اصلیت پہلے معلوم ہوتی تو وہ کبھی شام آ کر اس میں شامل نہ ہوتے۔

مزید : برطانیہ