احتجاج کرتے مرد و خواتین برہنہ حالت میں برطانوی پارلیمنٹ میں گھس گئے، سیاستدانوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

احتجاج کرتے مرد و خواتین برہنہ حالت میں برطانوی پارلیمنٹ میں گھس گئے، ...
احتجاج کرتے مرد و خواتین برہنہ حالت میں برطانوی پارلیمنٹ میں گھس گئے، سیاستدانوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے ہاں تو پارلیمنٹ کی ایسی سکیورٹی ہے کہ محاورے کے مطابق وہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی لیکن گزشتہ دنوں برطانوی پارلیمنٹ میں ایک ایسا منظردیکھنے کو ملا کہ پاکستانیوں کے لیے یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ میل آن لائن کے مطابق گزشتہ روز کچھ مردوخواتین برہنہ حالت میں برطانوی پارلیمنٹ میں گھس گئے۔ یہ لوگ موسمیاتی تبدیلیوں کے انسداد کے لیے مو¿ثر اقدامات نہ کیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق یہ مظاہرین پارلیمنٹ میں موجود مہمانوں کی گیلری میں پہنچ گئے جس کے آگے شیشہ لگا ہوا تھا اور وہ اراکین تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ تاہم شیشے میں سے اراکین ان لوگوں کو دیکھ رہے تھے جنہوں نے محض زیرجامے پہن رکھے تھے۔ جب یہ لوگ پارلیمنٹ میں گھسے تو لیبرپارٹی کے رکن اسمبلی پیٹر کائیلی یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلاءکے حوالے سے تقریر کر رہے تھے تاہم ان لوگوں کے گھس آنے پر تمام اراکین کی توجہ ان کی طرف ہو گئی اور پیٹر کائیلی کو تقریر روکنا پڑی۔

مظاہرین نے اپنے برہنہ جسموں پر ”ہمارا ماحول تباہ ہو رہا ہے“ اور”کلائمیٹ جسٹس ایکٹ نَو‘ (Climate justice act now)جیسے نعرے لکھ رکھے تھے۔تھوڑی دیر بعد سپیکر جان برکو نے اراکین اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ مظاہرین کو نظرانداز کریں اور یوں اجلاس کی کارروائی ایک بار پھر جاری ہو گئی۔تھوڑی دیر بعد ہی وہاں پولیس آ گئی اور ان مظاہرین کو گرفتار کرکے لے گئی۔ان مظاہرین میں شامل 34سالہ آئسلا میکلوڈ کا کہنا تھا کہ ”ہمیں بریگزٹ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ پارلیمنٹ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے جلد از جلد نئی قانون سازی کرے۔“

مزید : برطانیہ