سائنسدانوں کو اپنے منہ سے بچوں کو جنم دینے والے مینڈک کی تلاش

سائنسدانوں کو اپنے منہ سے بچوں کو جنم دینے والے مینڈک کی تلاش
سائنسدانوں کو اپنے منہ سے بچوں کو جنم دینے والے مینڈک کی تلاش

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) اب تک مینڈکوں کی ہزاروں اقسام دریافت ہو چکی ہیں اور ان میں سب سے حیران کن قسم ایسی ہے جو اپنے منہ سے بچوں کو جنم دیتی ہے۔ اب سائنسدانوں کو اس قسم کے مینڈکوں کی تلاش ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مینڈکوں سے معدے کے السر کے علاج کے لیے بنیادی معاونت مل سکتی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق مینڈک کی یہ قسم 1972ءمیں آسٹریلوی ریاست کوئنزلینڈ میں دریافت ہوئی تھی اور اس قسم کے کسی مینڈک کو 1980ءمیں آخری بار دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعدچالیس سال ہو گئے، آج تک کسی شخص نے اس قسم کا کوئی مینڈک نہیں دیکھا اور آفیشلی اس نسل کو معدوم قرار دیا جا چکا ہے تاہم اب ایک بار پھر سائنسدان اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔

ایک عالمی تنظیم نے بھی کوئنزلینڈ کے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس قسم کے مینڈک تلاش کرنے کی کوشش کریں اور اگر کسی کو ملے تو وہ تنظیم کو اس حوالے سے آگاہ کرے۔ سائنسدانوں نے اس مینڈک کے حوالے سے تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ”اس قسم کی مادہ مینڈک انڈے دیتی ہے اور پھر ان انڈوں کو نگل لیتی ہے۔ کئی ہفتے وہ ان انڈوں کو اپنے جسم میں رکھتی ہے اور بالآخر ان انڈوں سے بچے نکل کر اس کے منہ کے راستے باہر آتے ہیں۔“ سائنسدانوں کے مطابق اس قسم کے مینڈکوں میں ایک ایسا ہارمون پایا جاتا ہے جو معدے کے السر کا بہترین علاج ہے۔ تاہم بدقسمتی سے اب یہ مینڈک نایاب ہو چکے ہیں اور تلاش بسیار کے باوجود تاحال نہیں مل سکے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس