خوش آئند اور حوصلہ افزا پیش رفت

خوش آئند اور حوصلہ افزا پیش رفت

  

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اگر موثر قسم کا لاک ڈاؤن15مارچ ہی کو کر لیا جاتا تو آج ہم اس لاک ڈاؤن سے نکلنے کی بات کر رہے ہوتے ہم نے تقریباً ساڑھے چھ ہزار لوگوں کا ٹیسٹ کیا ہے۔اگر دس فیصد زیادہ ٹیسٹنگ ہوتی تو شاید کوئی اندازہ لگایا جا سکتا کہ کب تک قابو پایا جا سکتا ہے، شروع میں ہماری اہلیت 80 ٹیسٹ یومیہ تھی، آج ہماری استعداد دو ہزار تک ہے، ہم نے شروع ہی میں سکول بند کر دیئے تھے، تبلیغی جماعت والوں سے گزارش ہے کہ وہ جہاں جہاں بھی ٹھہرے ہوئے ہیں وہیں رُکے رہیں، جب تک کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری کی ویکسین تیار نہیں ہو جاتی، ہمیں اسے کنٹرول کرنا ہے، وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کورونا کے مسئلے پر اب تک ڈیڑھ سو گھنٹے کی میٹنگز کی ہیں تاہم وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اِس بیماری پر کب تک قابو پایا جا سکے گا۔

سندھ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد اِس وقت676 کے لگ بھگ ہے،اگر وہاں ساڑھے چھ ہزار مشتبہ مریضوں کا ٹیسٹ کیا گیا تو اِس کا مطلب ہے تقریباً دس فیصد کے رزلٹ مثبت آئے ہیں اِسی لئے ماہرین بار بار کہہ رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مریضوں کا صحیح ڈیٹا سامنے آ سکے، پاکستان میں مجموعی طور پر مریضوں کی تعداد دو ہزار سے بڑھ گئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تیرہ چودہ ہزار مشتبہ لوگ ہیں۔اگر ان سب کا ٹیسٹ ہو سکے تو مصدقہ مریضوں کی تعداد بڑھ جائے گی،لیکن اعداد و شمار سامنے ہوں گے تو ان کی روشنی میں اقدامات بھی کئے جا سکیں گے۔ سید مراد علی شاہ نے بالکل درست کہا کہ اگر ہم نے15 مارچ کو ہی لاک ڈاؤن کر دیا ہوتا تو اب ہم اِس سے نکلنے کی بات کر رہے ہوتے، پھر بھی یہ بات لائق تحسین ہے کہ سندھ میں حفاظتی اقدامات میں پہل کاری ہوئی اور اب پنجاب بھی سندھ کے نقش ِ قدم پر چل رہا ہے۔ سندھ میں لاک ڈاؤن کے بعد پنجاب میں بھی لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا۔البتہ ضروری اشیا کے سٹور کھلے رکھے گئے،جو ابتدا میں غیر محدود وقت کے لئے کھلے،بعد میں ان کے کھلنے کے اوقات کم کر کے صبح نو بجے سے رات آٹھ بجے تک کر دیئے گئے، اب یہ مزید کم کر کے پانچ بجے تک محدود کر دیئے گئے ہیں یہ سارے اقدامات وہ ہیں،جو سب سے پہلے سندھ میں کئے گئے اور پھر پنجاب میں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات تو کئے جا رہے ہیں،لیکن بیماری کی تشخیص کے لئے بھی تحقیق و جستجو کا سلسلہ جاری ہے اور ریسرچ کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں جو وائرس پایا جاتا ہے وہ چین کے وائرس کے مقابلے میں کم نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے یہ ایک خوشخبری ہے۔ ایک دوسری خوشخبری یہ ہے کہ خون کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کو سندھ حکومت نے صحت یاب مریضوں کے پلازما سے کورونا کی بیماری کا علاج کرنے کی اجازت دے دی ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں کام شروع کر دیا ہے، جو مریض صحت یاب ہو گئے وہ پلازما عطیہ کریں گے۔پلازما کے حصول کا سنٹر قائم کیا جا رہا ہے جہاں پلازما عطیہ کیا جا سکے گا۔ پنجاب یونیورسٹی نے ٹیسٹنگ کٹس کی تیاری میں بڑی کامیابی حاصل کی اور اس وقت یونیورسٹی میں مریضوں کو ٹیسٹ کرنے کا سلسلہ شروع ہے۔اس ٹیسٹنگ کٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مقابلتاً بہت سستی ہے اور اگر حکومت یا ڈونر ادارے پنجاب یونیورسٹی کی مدد کے لئے آگے بڑھیں تو سستی کٹس کی تیاری بھی وسیع پیمانے پر ہو سکتی ہے۔نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں بھی ٹیسٹنگ کٹس تیار کر لی گئی ہیں اور یہ منظوری کے لئے ڈریپ کو بھیج دی گئی ہیں،جونہی ڈریپ سے منظوری ملے گی ان کی تیاری شروع کر دی جائے گی، سستی کٹس کی تیاری اس لحاظ سے بڑی کامیابی ہے کہ پرائیویٹ لیبارٹریوں میں ٹیسٹ فیس آٹھ ہزار روپے ہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی غیر تصدیق شدہ ٹیسٹ کٹس کی بھرمار ہو رہی ہے انہوں نے صوبائی حکومتوں اور این ڈی ایم اے کو خبردار کیا کہ پاکستان میں صرف تصدیق شدہ ٹیسٹ کٹس درآمد کی جائیں،انہوں نے یہ بات اپنے ایک ٹویٹ میں کہی۔وفاقی وزیر کے جواب میں این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ کورونا کی غیر تصدیق شدہ کٹس نہیں منگوائیں، وہ چین میں پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے مل رہی ہیں۔چین کی حکومت نے جو کٹس دی ہیں وہ تصدیق شدہ ہیں۔ وفاقی وزیر ذمہ دار شخصیت ہیں۔ اگرچہ وہ متنازع سیاسی بیانات دینے کی شہرت رکھتے ہیں تاہم ان سے یہ امید نہیں کہ انہوں نے ایسے وقت میں جب کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے ٹیسٹ کٹوں کے متعلق غیرمصدقہ معلومات ٹویٹ کر دی ہوں۔اب بارِ ثبوت خود ان پر آن پڑا ہے کہ وہ اس امر کے شواہد بھی سامنے لائیں کہ غیر تصدیق شدہ کٹس کی اگر بھرمار ہو رہی ہے تو وہ کہاں سے آ رہی ہیں۔ این ڈی ایم اے کا تو کہنا ہے کہ چین سے ملنے والی تمام کٹس پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے مل رہی ہیں اور تصدیق شدہ ہیں ایسے میں کون سی بات درست تسلیم کی جائے وفاقی وزیر کی یا این ڈی ایم اے کی،لیکن یہ فیصلہ بہرحال ہو جانا چاہئے کہ غیر تصدیق شدہ کٹس کے متعلق وفاقی وزیر کا بیان کس حد تک درست ہے،کیونکہ اگر کنفیوژن برقرار رہا تو بہت ہی خطرناک ہو گا، غیر تصدیق شدہ کٹس کے ذریعے جو نتائج آئیں گے، وہ بھی گمراہ کن ہوں گے۔ اگر کوئی واقعی مریض ہو اور ٹیسٹ کے بعد اُسے صحت مند قرار دے دیا جائے تو ایسا مریض مرض کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔این ڈی ایم اے ذمہ دار ادارہ ہے اس کا موقف اگر یہ ہے کہ تمام درآمدی کٹس مصدقہ ہیں تو پھر یہی کہنا پڑے گا کہ وفاقی وزیر کی معلومات درست نہیں ہیں یا پھر انہوں نے ملنے والی اطلاعات کی تصدیق نہیں کی،حکومت کو اس معاملے میں وضاحت کرنی چاہئے، کیونکہ اس سے مریضوں اور ڈاکٹروں میں کنفیوژن پھیلتا ہے، پہلے ہی لاک ڈاؤن کے معاملے پر بھول بھلیوں کا سلسلہ شروع ہے، اب ٹیسٹنگ کٹس کے غیر تصدیق شدہ ہونے کی بات کر کے جو نیا شگوفہ کھلا دیا گیا ہے یہ موجودہ حالات میں تشویشناک ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -