کورونا وائرس اور پاکستانی معیشت

کورونا وائرس اور پاکستانی معیشت

  

حامد ولید

کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پورا پاکستان اس وقت تقریباً لاک ڈاؤن میں جا چکا ہے۔ معمولات زندگی کے رک جانے سے ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں کو بھی بریک لگ چکی ہے۔ معیشت کا پہیہ اس وقت تقریباً رک چکا ہے اور ان حالات میں ملک کے اقتصادی اہداف کا حصول مشکل ہو چکا ہے۔ایسی صورتحال میں پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ چھ ارب ڈالر مالیت کے ’توسیعی فنڈ سہولت‘ کے معاہدے پر نظر ثانی کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں کورونا وائرس کے پھیلنے اور ہزاروں انسانی جانوں کے ضائع ہونے اور مزید کے خدشے کے باعث آئی ایم ایف نے اس وبا سے متاثرہ ممالک کے لیے مالیاتی امداد کا اعلان کیا ہے۔پاکستان نے بھی آئی ایم ایف سے اس سلسلے میں ہنگامی امداد کی درخواست کی جس کے جواب میں آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹینا لی جورجیوا نے ہنگامی امداد دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔یوں بھی توسیعی فنڈ سہولت کے معاہدے کی وجہ سے پاکستان سخت مالیاتی نگرانی میں آیا اور ملک میں گیس، تیل، بجلی وغیرہ کے نرخوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا جس نے پاکستان میں مہنگائی کی بلند ترین لہر کو جنم دیا۔اس معاہدے کی نئی شرائطِ سے متعلق مذاکرات اس وقت کیے جا سکتے ہیں۔

غیر معمولی حالات میں آئی ایم ایف سے اس سلسلے میں بات چیت کی جا سکتی ہے۔ کورونا وائرس نے ملک میں غیر معمولی حالات پیدا کر دیے ہیں جن کے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ان حالات میں آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط کو ایک سال تک معطل کرنے کے لیے حکومت آئی ایم ایف سے درخواست کرے۔اس سے پروگرام معطل نہیں ہو گا بلکہ وہ شرائط معطل ہوں گی جن کے تحت یہ قرضہ فراہم کیا گیا تھا جیسے کہ ٹیکس وصولی کا ہدف، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ وغیرہ شامل ہے۔

عالمی وبا کورونا وائرس سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات بڑھتے جا رہے ہیں اور اس سے بچاؤ کی کوئی تدبیر نہیں سوجھ رہی ہے۔ رواں مالی سال بیرون ملک خاص طور پر تیل پیداوار ممالک سے ترسیلات زر کم ہوں گے جبکہ رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاونٹ خسارہ 3 ارب ڈالر رہے گا۔اسی طرح رواں مالی سال کے دوران صنعتی پیداوار 3.5 فی سے 4.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ مجموعی طور پر شرح نمو دو سے اڑھائی فی صد رہنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ رواں مالی سا ل ٹیکس وصولیاں 4400 سے 4450 ارب روپے رہیں گی اور رواں مالی سا ل کے دوران بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 7.5فی صد سے 8 فی صد رہے گا۔

معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ٹیکس ری فنڈ اور ڈیوٹی ڈرا بیک فوری طور پر ادا کرے اور برآمدی شعبے کے لیے زیرو ریٹ ٹیکس کی سہولت اگلے مالی سال میں بھی جاری رکھی جائے، طویل مدتی قرض اور سود کی ادائیگی تین ماہ کے لیے مؤخر کی جائے جبکہ اگلے مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 6300 ارب روپے سے کم کر کے 5 ہزار مقرر کیا جائے۔اسی طرح کم سے کم ٹیکس ٹرن میں 50 فی صد کمی کی جائے اور بی آئی ایس پی کے تحت دی جانے والی امدادی رقم کو دو گنا کیا جائے۔

خوراک کی ذخیرہ اندوزی اور سپلائی حکومت کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں۔ضروری ہے کہ ضلع کی سطح پر ذخیرہ اندوزی روکی جائے، صوبوں کے لیے درمیان بہتر تعاون سے خوارک ذخیرہ اور تقسیم کے انتظامات بہتر بنائے جائیں۔

بین الاقومی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی سے رواں سال درآمدات میں ایک ارب ڈالر کمی آئے گی جبکہ اگلے سا ل درآمدات میں یہ کمی دو ارب ڈالر تک ہو گی۔آئی ایم ایف سے ٹیکس وصولیاں بجلی اور گیس کی قیمت میں اضافے کی شرائط دوبارہ طے کرنا ہوں گی، آئی ایم ایف سے شرح سود اور پرائمری خسارے کے اہداف نئے سرے سے طے کرنا ہوں گے جبکہ برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک کی طرح صنعتی اور چھوٹے کاروبار کے لیے فنڈ بھی قائم کرنا ہوگا۔

اسی لئے حزب اختلاف کے رہنماؤں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے ملکی معیشت پر ممکنہ برے اور دور رس اثرات کے پیش نظر بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ساتھ قرض سے جڑی اور اس کی واپسی کی شرائط پر دوبارہ مذاکرات کر کے انھیں نرم کروانے کی کوشش کریں۔اس میں شک نہیں ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قرض کی شرائط نرم کروانا نہ صرف ممکن ہے بلکہ پاکستان کے لیے ناگزیر بھی ہے کیونکہ ملکی معیشت کو کورونا کی وجہ سے جو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اس کے بعد پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ سآئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر کا قرضہ تین سے چار فیصد کے درمیان شرح سود کے ساتھ گزشتہ برس جولائی میں منظور کیا تھا۔ یہ قرض قسطوں کی صورت میں تین سال کے عرصے میں پاکستان کو ادا کیا جانا ہے۔ اس قرضے کی مکمل وصولی کے 22 مہینے کے بعد اس کے واپس لوٹانے کا عمل شروع ہو گا۔اس قرض سے منسلک دوسری شرائط کے علاوہ ایک کڑی شرط سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے بلند شرح سود رکھنا اور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

آئی ایم ایف کی شرائط کوئی آسمانی صحیفہ نہیں کہ جس پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔معاہدے کے وقت اور آج کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس لیے پاکستان کو نئی شرائط کے لیے مذاکرات کرنے چاہیے۔آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان کو اگلے مالی سال میں موجودہ مالی سال کے ٹیکس ٹارگٹ سے ایک ہزار ارب اضافی محصولات اکٹھے کرنے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان موجودہ مالی سال میں 4400 ارب کے محصولات بڑی مشکل سے جمع کر پائے گا تو اگلے مالی سال میں آئی ایم ایف شرائط کے تحت 6300 ارب کی محصولات کا ہدف ایک غیر حقیقی ہدف ہو گا۔اس ہدف کو 5000 ارب روپے رکھا جائے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف سے نئی شرائط طے کی جائیں۔دنیا

میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ فرنس آئل ہے۔ اس لیے فرنس

آئل کی قیمت میں کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جائے جبکہ دوسری جانب آئی ایم ایف کی شرائط میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ شامل ہے۔ اسی طرح عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ بھی صارفین کو منتقل ہونا چاہیے جب کہ آئی ایم ایف کی شرائط اضافے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے شرح سود میں 75بیسز پوائنٹ کمی کے اعلان پر کاروباری طبقے کا اظہارِ مایوسی پر مبنی فوری ردعمل اس اعتبار سے قابل فہم ہے کہ صنعت و تجارت سے وابستہ حلقے مذکورہ شرح میں کم از کم 200بیسز پوائنٹس کی کمی کی توقع کر رہے تھے۔

صنعتی و کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا شرح سود گھٹانے کا فیصلہ بہت تاخیر سے آیا اور 75بیسز پوائنٹ کی تعداد اتنی قلیل ہے کہ پاکستانی معیشت میں اس سے کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئے گی۔ 81بڑے صنعتی اداروں کی نمائندہ تنظیم پاکستان بزنس کونسل کا کہنا ہے کہ شرح سود میں محض 75بیسز پوائنٹس کی کمی سے صرف باہر سے پیسے لانے والوں کو فائدہ ہوگا۔ اس سے حکومت بزنس مین یا سرمایہ کاروں کو فائدہ نہیں ہوگا۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا تاثر یہ ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے اثرات سے اپنے لوگوں کو بچانے اور معیشت کو سہارا دینے کیلئے بڑے بڑے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ وطن عزیز کا پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ سے خاصا اونچا ہے۔ ایسے منظر نامے میں کہ ایک طرف وزیراعظم عمران خان عالمی برادری سے پاکستان سمیت غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے کی اپیل کر رہے ہیں اور امریکہ اپنی معیشت کو سہارا دینے کیلئے شرح سود صفر، برطانیہ 0.25، بھارت5، جنوبی کوریا 0.8، آسٹریلیا 0.5فیصد پر لے آئے اور دیگر ملکوں میں بھی ایسے ہی اقدامات کیے جا رہے ہیں، دوسری جانب ترقی پذیر ملکوں کو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی طرف سے ریلیف متوقع ہے تو ماہرین کے اس مشورے پر توجہ دی جانی چاہئے کہ تیل کے نرخوں میں کمی کے فوائد عوام کی طرف منتقل کرکے شرح سود میں کمی سمیت وہ تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں جن کے ذریعے معیشت کو کورونا کے اثرات سے بچاکر مثبت خطوط پر متحرک کیا جا سکے۔ موجودہ حالات میں معیشت چلانے کیلئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم پنی شرح سود مزید کم کریں۔

اس وقت سب سے بڑا دھچکا حکومت کی اس معاشی پالیسی کو لگا ہے جس کے ذریعے حکومت نے ملک میں ’ہاٹ منی‘ کو فروغ دینے کی کامیاب کوشش کی تھی۔پاکستان سٹاک ایکسچنج ان مارکیٹوں کی فہرست میں آتی ہے جو گذشتہ کئی روز سے شدید کاروباری مندی سے دوچار ہے۔ اس مارکیٹ سے وابستہ سرمایہ کار اس وقت خوف اور بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہیں کہ آنے والے دنوں میں مارکیٹ مزید خسارے میں جا سکتی ہے۔پاکستان سٹاک ایکسچنج کا بنچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس سٹاک مارکیٹ میں حصص کی خرید و فروخت کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ انڈیکس گذشتہ ہفتے کے اختتام پر 5.6 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔

پاکستان سٹاک ایکسچنج میں کاروبار میں شدید مندی کا ایسا رجحان دیکھنے میں آیا کہ گذشتہ ہفتے میں حصص مارکیٹ میں خرید و فروخت کو تین بار روکنا پڑا۔ سٹاک مارکیٹ کی اصطلاح میں ’ٹریڈنگ ہالٹ‘ اس وقت عمل میں لائی جاتی ہے جب پانچ منٹ کے دورانیہ میں مارکیٹ مسلسل پانچ فیصد سے بھی زیادہ گرے۔سٹاک مارکیٹ میں حصص کی خرید و فروخت سے منسلک ٹاپ لائن سیکورٹیز کے چیف اکانومسٹ سیڈ عاطف ظفر کے مطابق ایسی صورت حال میں مارکیٹ میں حصص کی خرید و فروخت کو 45 منٹ تک روک دیا جاتا ہے تاکہ مندی کے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

سٹاک مارکیٹ کی طرح پاکستان کی منی مارکیٹ میں بھی گذشتہ ہفتے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے مزید قدر کھوئی۔ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ حکومتی سیکیورٹیز سے بیرونی سرمایہ کاری کا اخراج بتایا جاتا ہے۔گورنمنٹ سیکورٹیز سے بیرونی سرمایہ کاری کے اخراج میں مارچ 2020 کے پہلے گیارہ دنوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مرکزی بنک کے اعداد و شمار کے مطابق ان گیارہ دنوں میں 625 ملین ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری گورنمنٹ سیکورٹیز سے نکلی۔عام اصطلاح میں اس سرمایہ کاری کو ’ہاٹ منی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو قلیل مدت کے لیے حکومتی بانڈز میں انویسٹ کی جاتی ہے۔پاکستان میں بلند شرح سود کی وجہ سے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے حکومتی بانڈز سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش آپشن ہے تاہم کورونا وائرس کے باعث حالیہ دنوں میں حکومتی بانڈز سے ہاٹ منی کے اخراج کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے کساد بازاری ہے۔ ان حالات میں سرمایہ کار کہیں پر سرمایہ کاری میں رسک لینے کے بجائے اپنے سرمائے کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ حکومتی بانڈز سے بیرونی سرمایہ کاری کا اخراج اسی گھبراہٹ کا نتیجہ ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کا اخراج صرف بانڈز سے ہی نہیں ہوا بلکہ سٹاک مارکیٹ سے بھی ہوا ہے۔بیرونی سرمایہ کاروں کا سٹاک مارکیٹ کے فری فلوٹ میں 27 سے 28 فیصد حصہ بنتا ہے۔ ان کے مطابق گذشتہ پندرہ روز میں سٹاک مارکیٹ سے لگ بھگ سو ملین ڈالر کا اخراج ہوا ہے۔ حکومتی بانڈز اور سٹاک مارکیٹ سے بیرونی سرمایہ کاری کے اخراج نے ڈالر کے مقابلے میں روپے پر دباؤ ڈالا جس کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی۔پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کار کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار تھے۔ ملک کی معیشت میں سست روی اور بلند شرح سود نے اقتصادی ماحول کو منفی بنا دیا تھا۔ کورونا وائرس کی وبا نے اس سٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -