کورونا کی مشکل گھڑی میں جماعت اسلامی کا کردار

کورونا کی مشکل گھڑی میں جماعت اسلامی کا کردار
کورونا کی مشکل گھڑی میں جماعت اسلامی کا کردار

  

پرانے زمانے کی کہاوت ہے کہ ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ اس کی بستی پرمصیبت آنے والی ہے اس نے اس کا ذکر بستی والوں سے کیا تو کسی نے اس کو سنجیدہ نہ لیا اگلے ہی روز اس نے دوبارہ خواب میں دیکھا کہ اب مصیبت بہت قریب ہے اس مرتبہ کسی نے خواب میں اس سے مخاطب ہو کر کہا کہ تمہاری بستی پر جو مصیبت آنے والی ہے اس کے آنے کے بعد جہاں تمہارے مال ومتاع، مویشی اور گھربار تباہ ہو سکتے ہیں وہاں تم لوگ ایک ہی چیز کو اس مصیبت سے بچا سکتے ہو تو تم باہم مشورے سے بتا دو کہ یہ مصیبت تمہارے لئے کون سی شے چھوڑ کر جائے۔ اس شخص نے اپنا خواب بستی والوں کو دوسرے روز بھی سْنایا بستی کے لوگ بہت پریشان ہوئے سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور بڑا سوچنے کے بعد انہوں نے بستی کے اس نیک شخص کو ایک شے کا انتخاب کر کے بتا دیا وہ شخص تیسرے روز سویا توکو ئی پھر خواب میں مخاطب ہوا اور اس کو دوبارہ مصیبت کی بشارت دینے کے بعد بستی والوں کا فیصلہ پو چھا تو اُس شخص نے اس پوچھنے والے سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر یہ مصیبت خدا کی طرف سے آئی ہے

تو دُعا اور توبہ کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں اور اگر یہی ہمارا مقدر ہے اور اگر ایک شے تم چھوڑ کر سب کچھ لے جانا چاہتے ہو۔ تو ہم درخواست کرتے ہیں کہ تم ہم میں اتفاق چھوڑ جاؤ۔ بس اتنا سننا تھا کہ مصیبت نے کہا کہ جس شے کا انتخاب تم نے کیا ہے اس کے بعد تم پر مصیبت بھیجنے کا کو ئی فائدہ نہیں کیونکہ اگر تم میں اتفاق ہو گا تو تم جو کچھ بھی چاہو گئے اللہ کے فضل سے اور اپنے اتفاق سے دوبارہ اکٹھاکر لو گئے تو وہ مصیبت ا س بستی سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔ مجھے یہ کہاوت تب یاد آئی کہ جب مَیں نے امیر جماعت اسلامی کو ایک حدیث ِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے سنا کہ جس کا مفہوم ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا کہ“ یہ دُنیا اللہ کا کنبہ ہے اور جو اس کنبہ کا خیال رکھے گا اللہ اُس کا خیال رکھے گا“ اور انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ جب عوام، حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں مل کر اتفاق رائے سے کورونا وائرس جیسی مصیبت کو شکست دیں۔

اس کی ایک زندہ مثال دوسری جنگ عظیم سے ملتی ہے کہ جب دُنیا کے انسانیت دوست ملک امریکہ نے جاپانی قوم پر ایٹم بم سے حملہ کر کے ہیرو شیما اور ناگاساکی کو راکھ کر ڈھیر بنا دیا تھا تو اس قوم نے اتفاق،محنت اور لگن سے ہی ان شہروں کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو نے کے قابل بنایا۔ سراج صاحب کا اس مشکل گھٹری میں قوم کو ایک ساتھ مل کر مسائل کا مقابلہ کرنے کے لئے تلقین اور اس کی کوشش کرنا اور ان کی جماعت کے لوگوں کا دلجمعی سے اس مصیبت میں عوام کے لئے کام کرنا اس وقت ایک نعمت سے کم نہیں۔ مَیں تو کبھی کبھی محو حیرت ہو جاتا ہوں کہ نا جانے کس مٹی کے بنے ہیں یہ لوگ۔ اللہ ہی جانے کس خمیر سے اْٹھائے گئے ہیں یہ لوگ کہ جو اس نفسا نفسی کے دور میں بھی کہ جب ہر کوئی اپنے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے میں لگا ہے ان کو جب دیکھو یہ لوگ جذ بہ حْب الوطنی سے سرشار اپنی جانوں کی پروہ کیے بغیر ہر مشکل گھڑی میں پاکستانی قوم کی خدمت کے لئے سر گرم عمل نظر آتے ہیں یقین کیجئے میرے لاکھ اختلافات کے باوجود جماعت اسلامی کے یہ لوگ واقعی تعریف کے قابل ہیں۔گزشتہ دِنوں جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق نے کورونا وائرس کی ناگہانی مصیبت کے باعث عارضی طور پر اپنے ذیلی ادارے الخدمت فاونڈیشن کے زیر انتظام20 ہسپتال 81میڈیکل سینٹر 58 ڈائگنسٹک سینٹرز284 ایمبولنسز کو حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا۔

اس کے علاوہ اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیش ِ نظر لاک ڈاؤن کے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے حکومت کو غریب اور دیہاڑی دار مزدور کے گھروں میں لاک ڈاؤن کے دوران راشن پہچانے کی ترغیب دی، مگر ہم سب جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے آج تک جو تجویز کیا اس پر پہلے خود عمل کر کے دیکھا ہے اس کا عملی نمونہ یہ ہے کہ اب پھر باندھ لیا سر پہ کفن اور کمر کس لی عوام کی خدمت اور مدد کے لئے کہ کہیں ان کے رضاکار گلیوں اور چوراہوں پر جراثیم کش سینٹی ٹا ئزر اور ماسک تقسیم کر رہے ہیں تو کہیں غریب بستیوں میں جا کر گھر گھر راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ ان سب رضا کاروں کو مَیں دِل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں کہ بغیر کسی معاوضے کے بغیر کسی لالچ کے بغیر کسی قسم کے نام اور مشہور ی کے اللہ کے یہ گمنام سپاہی خدا کی رضا کے لئے خلق خدا کی خدمت کے لئے سینہ سپر ہیں۔

ہم سب کو ان لوگوں سے یقینا بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ در حقیقت اس وقت جنگ سے بھی بڑی مشکل درپیش ہے اس وقت ملک وقوم کو یکجاہ ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں وسائل کی کمی ضرور ہے، مگر جذبہ ایمانی، ایثار اور قربانی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے ہم دُنیا میں چیرٹی دینے والی قوموں میں سرفہرست ہیں اس مشکل گھڑی میں ہم سب مل کر ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہئے۔ اللہ بھی ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد خود کرتے اور جن لوگوں میں حرص و ہوس، لالچ اور طمع نہ ہو تو وہ ہی لوگ سرخرو ٹھہرتے ہیں۔ ان حالات میں اگر آپ خود اس کار خیر میں کسی بھی وجہ سے وقت نہیں دے سکتے یا آپ کے اردگر کو ئی ایسا شخص موجود نہیں تو اُن اداروں کی مدد کیجئے کہ جو آپ کی امانت دوسروں تک امانت داری سے پہنچا دیں۔

آپ دوسری قوموں کی طرف دیکھیں تو آپ حیران ہو جائیں گئے کہ محض برطانیہ میں سات لاکھ پچاس ہزار سویلین نے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات حکومت کو پیش کر دی ہیں۔ برطانوی حکومت نے سنٹرل بنک کی شرع سود میں ریکارڈ کمی کر دی ہے اور حکومت نے ان مسائل سے نمٹنے کے لئے30بلین پاؤنڈز کا بجٹ مختص کرتے ہوئے ٹیکس دینے والے تنخواہ دار طبقے کو حکومت کی طرف سے ان کے اداروں کو 80فیصد تک ان کی تنخواہیں حکومت کی طرف سے ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری حضرات پر اس مشکل وقت میں ان کے ملازمین کی تنخواہوں کا بوجھ نہیں پڑے گا۔ اس کے علاوہ بوڑھے اور غریب لوگوں کو اُن کے گھروں میں خوراک پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ تاکہ وہ ان مشکل حالات میں کسی پریشانی سے دو چار نہ ہوں۔ برطانیہ میں سپر مارکیٹوں کے مالکان زیادہ تر عیسائی اور یہودی ہیں اور انہوں نے کرونا کی وجہ سے یورپ میں جب عوام پینک شا پنگ کر رہے تھے تو کسی بھی کمپنی نے عوام کی پریشانی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی اور کسی نے کسی طرح سے بھی اشیاء خورونوش پر ایک پینی بھی نہیں بڑھائی اس کے برعکس پاکستانی دکانداروں نے ہر شے کی قیمت میں دو گنا اضافہ کر دیا ہر شے حلال گوشت سے لے کر دال،چاول مصالحے ہر شے کی قیمت میں اضافہ یہاں تک کہ آٹے کا بحران پیدا کر دیا گیا۔ پاکستانی کئی ہفتوں تک آٹا نہ ملنے کی وجہ سے چاول کھانے پر مجبور رہے۔

جس پر بہرحال حکومت برطانیہ نے ان کالی بھیڑ وں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، حالات معمول پر آ گئے،مگر افسوس کہ ان چند کالی بھیڑوں نے ان مشکل حالات میں برطانیہ میں پاکستان کا نام خوب بدنام کیا اور دوسری طرف اسی برطانیہ میں ڈاکٹر حبیب زیدی جیسے محب وطن پاکستانی انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے کورونا کے ہاتھوں اپنی جان قربان کر کے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ بہرحال جہاں اچھے لوگ ہو تے ہیں وہاں بُرے بھی ہوتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ سب کچھ ان مشکل حالات کے باوجود برطانیہ میں کیسے ممکن ہوا محض قومی اتفاق اور ٹیکس امانت داری سے ادا کرنے کی وجہ سے کیونکہ اس کے علاوہ قوم و ملک ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ترقی کر سکتے ہی نہیں تھے اور نہ ہی ان جیسے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے فنڈ ز اکٹھے کر سکتے۔

پاکستان ایک غریب ملک ہے برطانیہ کی طرح اس قدر بڑا بجٹ اس طرح کے حالات میں اس لئے مختص نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں ٹیکس امانت داری سے ادا نہیں کیا جاتا۔ حکومت اپنے وسائل کی بجائے قر ضوں کے سہارے سانس لے رہی ہے۔ اگر ہمارا گزشتہ سیاسی نظام کرپٹ نہ ہوتا اور ہم بحیثیت ِ قوم امانتداری سے ٹیکس ادا کرتے تو آج ان مشکل حالات میں ہماری حالت یہ نہ ہوتی آئی ایم ایف سے مدد کی درخواست کرنی پڑ رہی ہے۔ اب تو صرف ایک ہی راستہ ہے کہ جیسا مَیں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ اپنے اردگرد کا خیال رکھیں ایک دوسرے کی مدد کریں اگر آپ کے اردگرد کوئی بیماری کے بجائے بھوک سے مر گیا تو خدا نخواستہ اس مشکل سے بھی بڑی مشکل کا انتظار کریں۔ خواجہ میر درد نے کیا خوب کہا تھا کہ

درِد دِل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں

جماعت اسلامی سے ہی کچھ سیکھ لیں ان کے جیسا جذبہ ِ حب الوطنی پیدا کریں کہ جو ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی طرح فرنٹ لائن پر اس مصیبت کے خلاف جہاد کر رہے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر حکومت وقت کا اس مشکل وقت میں ساتھ دیں تاکہ اللہ اس مصیبت سے نا صرف ہمیں،بلکہ پوری دُنیا کو اس عذاب سے نجات عطا فرمائے۔ آمین

مزید :

رائے -کالم -